ایک جنَّتی نوجوان :

logomaqbooliya

ایک جنَّتی نوجوان :

حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ ایک سال میں نے بیت اللہ شریف کا حج کیا، وقوف ِعرفہ کے دوران میں نے ایک نوجوان کودیکھا، جس پر زردی ، لاغری، پریشانی اور اَفسُرْدگی کے آثار نمایاں تھے۔ میں سمجھ گیا کہ اسے محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا کچھ حصہ عطا کیا گیاہے۔میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا :”میں تیری بارگاہ میں کیسے حاضری دوں ؟”کیا نافرمان زبان لے کر آؤں یاایسادِل لے کر آؤں جو تیری بارگاہ سے دُورہے؟ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہ لمحات کتنے حسین ہیں جبکہ تو میرے ساتھ محو ِکلام ہے اور اس جگہ تو مجھے پکار رہا ہے ۔”
حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ میں اس کی طرف بڑھا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا: ”مرحبا ! اے ذوالنون!”میں نے پوچھا:”آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا؟” اس نے جواب دیا:”آپ کے متعلق مجھے اس ذات نے خبر دی ہے جو مجھے پہچانتی اور مجھ سے محبت کرتی ہے۔”پھر کہنے لگا:”اے ذوالنون!اس کی محبت نے مجھے لاغر کردیاہے،معلوم نہیں، میں اس کا قرب حاصل کرنے میں کب کامیاب ہوں گا؟اور کب محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ جودوکرم کرتے ہوئے پردے اٹھائے

گا؟” میں نے کہا: ”آپ کہاں سے آئے ہیں؟” تو اس نے جواب دیا: ”دل کے شہر سے آیا ہوں اوربارگاہِ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ میں حاضری کا ارادہ ہے۔”میں نے پوچھا: ”آپ کے پاس کوئی زادِ راہ ہے؟” اس نے جواب دیا: ”جی ہاں، اس کی شرابِ اُنس ومحبت کا ایک قطرہ ہے، مجھے اُمید ہے کہ میں ا س سے مقدَّس بارگاہ میں پہنچ جاؤں گا۔” میں نے پوچھا: ”آپ کے پاس کوئی سواری ہے؟”اُس نے جواب دیا:”جی ہاں! نیت کی صفائی، دنیاسے مکمل بے رغبتی اور محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی پاکی و تسبیح کی سواری میرے پاس ہے۔” پھر کہنے لگا: ”اے ذوالنون! مجھ سے دُور ہو جائیں، وہ گھڑی کتنی بُری ہے جو اس کی اطاعت کے بغیر گزرے۔” پھر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ جب میں مِنٰی میں پہنچا تو میں نے اس کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو اپنے جانوروں کی قربانیاں کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس کی آنکھوں سے سَیلِ اَشک ِرواں ہو گیا اور اس کی ہچکیاں بڑھ گئیں، اس کے خوف وخشیَّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں اضافہ ہوگیا تو وہ عرض گزار ہوا: ”یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! تیرا قرب حاصل کرنے کے لئے لوگ اپنی اپنی قربانیاں پیش کر رہے ہیں، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، ایک نافرمان غافل جان ہے ، تیرا قرب حاصل کرنے کے لئے اسی کو میں تیری بارگاہ میں بطورِ نذرانہ پیش کرتا ہوں، اگر تو اس کو قبول فرما لے تو اس کو جلد از جلد اُٹھا لے۔” پھر اس نے چیخ ماری اور ایک آہِ سرد دِلِ پُردَردسے کھینچی اور زمین پرتشریف لے آیا۔ پھر میں نے ہاتف ِ غیبی کی آواز سنی: ”تعجب ہے! اس نوجوان کو جنت الفردوس جانے کی کتنی جلدی ہے۔”
حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ ”میں اس کے سرہانے کھڑا سوچ وبچار کر رہا تھا کہ اچانک ایک بُڑھیا دکھائی دی کہ اس نے خود کو اس کے قریب گرا دیا، اوررنج وغم سے نڈھال ہو کر آنسو بہاتے ہوئے کہنے لگی :”تجھے مبارک ہو! اے وہ شخص جس کی عادت قربانی دینا اور وفا داری کرنا تھی! جو اپنے مالک عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے کبھی غافل نہ رہا اور جو اطاعت کی چادر اوڑھ کر راتوں میں طویل قیام کرتارہا،جو شام افسردگی میں گزارتا اور صبح بیماری میں۔”حضرت سیِّدُنا ذوالنون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں نے اس سے پوچھا:” اس نوجوان سے آپ کا کیا تعلق ہے؟”اس نے جواب دیا:”یہ میرابیٹا ہے، جنگلات میں زندگی کے ایَّام گزارتا، ہر سال یہاں میقات میں ہم ایک دوسرے سے ملاقات کرتے، پھر میں اگلے سال تک اس کو دیکھنے کے لئے واپس نہ آتی ،اس مرتبہ جب میں عرفات میں ٹھہری اور حسب ِمعمول اس کو تلاش کیا تو ہاتف ِغیبی نے آواز دی: ”تیرے بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کی روح کو اعلیٰ درجات پر پہنچا دیاگیا ہے۔”اس کے بعد ا س بوڑھی عورت نے دعا کی: ”اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اس تعلق کی قسم جو تیرے اورمیرے درمیان تنہائی میں طے ہوا!اور تیری اس محبت کی قسم جو تو نے میرے دل میں ڈال رکھی ہے! میری نافرمان جان کو اس دارِ فانی سے نجات دے کر اپنے بیٹے کے ساتھ باقی رہنے والے گھر میں پہنچا دے۔” حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ پھر اس نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنے بیٹے کے پہلو میں گر گئی اور اس کی روح بھی خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ سے جا ملی۔