رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف کے فضائل ، شرعی حکم اور نیت کیا ہے؟

👈 فضائل:
رمضان المبارک کے آخری عشرے(یعنی آخری دس دن) کے اعتکاف کے بہت فضائل ہیں:
چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ!
“جس نے رمضان المبارک کے آخری دس دن کا اعتکاف کر لیا وہ ایسا ہے جیسا کہ(اس نے) دو حج اور دو عمرے کیے”(شعب الایمان)🕋
امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: “معتکف کو ہر روز ایک حج کا ثواب ملتا ہے”(شعب الایمان)🌴

👈شرعی حکم:
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف “سنتِ مؤکدہ عَلَی الکفایہ” ہے یعنی اگر پورے شہر میں سے کسی ایک نے بھی یہ اعتکاف کر لیا تو سب بَری الذِّمہ ہو جائیں گے اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سب گنہگار ہوں گے۔ (در مختار)♡❣️

👈نیت:
اس اعتکاف کی نیت اس طرح کی جائے گی:
“میں اللہ تعالی کی رِضا کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے کے سنتِ اعتکاف کی نیت کرتا ہوں(یا کرتی ہوں)
👈🏻 یاد رہے کہ دل میں نیت ہونا شرط ہے ، دل میں نیت حاضر ہوتے ہوئے زبان سے بھی کہہ لینا بہتر ہے۔(فیضانِ رمضان)📚