شب ِ قدر فرشتے جھنڈے لے کر اُترتے ہیں:

logomaqbooliya

شب ِ قدر فرشتے جھنڈے لے کر اُترتے ہیں:

حضرتِ سیِّدُنا ابوہریر ہ اورعبداللہ بن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ جنت نشان ہے: ”جب شب ِ قدر آتی ہے تو سِد رۃُالمنتہیٰ میں رہنے وا لے فر شتے اپنے ساتھ چارجھنڈ ے لے کر اُترتے ہیں۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلا م )بھی ان کے سا تھ ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جھنڈا میرے دفن کی جگہ پر، ایک طو رِ سینا پر، ایک مسجد ِ حرام پر اور ایک بیتُ المقدَّس پر نصب کرتے ہیں ،پھر وہ ہر مؤمن اور مؤمنہ کے گھر داخل ہو کر انہیں سلام کہتے ہیں :”اے مؤ من مرد اور عورت ! اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں سلام بھیجتاہے۔” (تفسیرقرطبی،سورۃالقدر،تحت الآیۃ۵،الجزء العشرون،ج۱0،ص۹۷) اور جب فجر طلو ع ہوتی ہے تو سب سے پہلے حضرتِ جبرائیل (علیہ السلا م )زمین وآسماں کے درمیان بلندی پر چلے جاتے ہیں اور اپنے بازو پھیلا دیتے ہیں۔ اور سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ہے، پھر جبرائیلِ امین (علیہ السلام)فرشتوں کو ایک ایک کرکے بلاتے ہیں اور فرشتوں کا نور اور جبرائیل کے پروں کا نور اکٹھا ہو جاتا ہے اور بغیر شعاعوں کے دُودھیا سورج طلوع ہوتا ہے پس جبرائیلِ امین اور دیگر فرشتے مؤ منین و مؤمنات کے لئے دعائے مغفرت کرنے کے لئے زمین وآسماں کے درمیان ٹھہر جاتے ہیں۔ جب شا م ہو تی ہے تو آسما نِ دنیاپر جاتے ہیں توآسما ن کے فر شتے ان سے پوچھتے ہیں:”ہمارے قابل احترام فرشتوں کو مرحبا! کہا ں سے آرہے ہو؟” تو یہ کہتے ہیں: ” ہم امتِ محمدیہ(علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام) کے پاس سے آرہے ہیں۔”
آسمانِ دنیا کے فرشتے پوچھتے ہیں: ”اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟” تو وہ جواب دیتے ہیں: ”امتِ محمدیہ (علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام) کے نیک لوگوں کوبخش دیاگیا اور گنہگاروں کے حق میں اُن کی شفا عت قبو ل کر لی گئی ۔” تو وہ فرشتے صبح تک اس نعمت کے شکر میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتحمید اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں جواس نے امتِ محمدیہ (علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام)کو عطافرمائی۔ پھرآسمانِ دنیا کے فرشتے اُن سے ایک ایک مر د و عورت کے متعلق پوچھتے ہوئے کہتے ہیں: ”فلا ں مرد نے کیا کیا ؟فلا ں عورت نے کیا کیا ؟”تو وہ کہتے ہیں : ”ہم نے فلا ں شخص کو گذشتہ سال عبا دت کرتے ہوئے پا یا تھا اور اس سال بد عت پر عمل کرتے پا یا۔”تو آسمانِ دنیا کے فر شتے اس کے لئے استغفا ر کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔پھروہ کہتے ہیں: ”گذشتہ سال ہم نے فلاں شخص کو بد عتی پایا تھا مگر اس سا ل عبا دت کر تے ہو ئے پا یا۔” تو فر شتے اس کے لئے دعا و استغفا ر کرنے

لگتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں: ”ہم نے دیکھا کہ کوئی ذِکْرِ الٰہی کر رہا ہے، کوئی رکوع میں ہے، کوئی سجدے میں ہے، کوئی تلاوتِ قرآن میں مگن ہے اور کوئی رو رہا ہے۔” تو فرشتے ان کے لئے بھی دعا و استغفا ر شروع کر دیتے ہیں ۔
پھر وہ دو سر ے آسما ن کی طر ف جا تے ہیں اور اس طر ح وہ ہر آسما ن میں ایک دن رات امت محمدیہ کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اپنے قیام کی جگہ سدرۃ المنتہیٰ میں پہنچ جاتے ہیں۔سد ر ۃ المنتہیٰ ان سے پوچھتاہے: ”آج کل کہاں غائب ہو ؟” تو وہ کہتے ہیں : ”ہم شب ِ قدرمیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی رحمت کے نزول کے وقت اہلِ زمین کے پا س تھے۔” سدرۃ المنتہیٰ کہتا ہے: ”رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے سا تھ کیا معا ملہ فرمایا ؟” کہتے ہیں: ”نیکوں کوبخش دیا گیا اور بر و ں کے حق میں ان کی شفا عت قبو ل کرلی گئی ۔”تو سدرۃالمنتہیٰ خو شی سے جھُو منے لگتاہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی تسبیح اور ہر عیب سے اس کی پاکی بیان کرتا ہے، اور اس پر شکر کر تا ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمديہ (علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام) کو عطا فرمایا۔ توجنت الما ویٰ جھانک کر پوچھتی ہے: ”اے سد ر ۃ المنتہیٰ! کیوں جھو م رہا ہے ؟ ‘ ‘ وہ جواب دیتا ہے:” مجھے میرے رہنے والوں نے حضرتِ جبرائیل علیہ السلام کے حوا لے سے خبر دی ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمديہ علٰی صاحبہاالصلٰوۃوالسلام کو بخش دیا اور بروں کے حق میں نیکوں کی شفاعت قبول فرمالی ہے۔”تو جنت الما ویٰ بلند آوا ز سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید اور تقدیس کر تی ہے، اور اس پر شکر ادا کرتی ہے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس امت کو عطا فرمایا۔
جب”جنتِ نعیم” سنتی ہے توجھا نک کرپوچھتی ہے:” اے جنتُ الماویٰ! کیا ہو ا ؟ ” تو وہ کہتی ہے:”مجھے سد ر ۃُ المنتہیٰ نے اپنے رہنے والو ں کے حو ا لے سے حضرتِ جبرائیل علیہ السلا م سے سن کر خبر دی ہے کہ ”اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو بخش دیا اور گنہگاروں کے حق میں نیکوں کی شفا عت قبول فرما لی ہے۔” تو جنتِ نعیم بھی اسی طرح پکارتی ہے پھر جنتِ عد ن، پھر اس سے کرسی سنتی ہے تو اسی طرح کہتی ہے پھر عر ش سنتا ہے تو پوچھتا ہے: ”اے کرسی کیا ہوا؟” تو کرسی کہتی ہے: ”مجھے جنتِ عد ن نے جنتِ نعیم کے حو ا لے سے ،جنت ُ الما ویٰ سے سن کرکہ اس نے سِدْرۃُ المنتہیٰ سے، اس نے اپنے رہنے والو ں سے، انہو ں نے حضرتِ جبرائیل(علیہ السلا م )سے سن کر خبر دی کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے امتِ محمدیہ (علٰی صاحبہاالصلٰوۃوالسلام) کو بخش دیا اور نافرمانوں کے حق میں نیکو ں کی شفا عت قبو ل فر ما لی ہے۔”یہ سن کر عرش بھی خو شی سے جھومنے لگتاہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ پوچھتا ہے: ”کیا ہوا؟”حا لا نکہ وہ جا نتا ہے۔ عرش کہتا ہے :”یا رب عَزَّوَجَلَّ ! مجھے کر سی نے حضرتِ جبرائیل علیہ السلا م کے حو ا لے سے خبر دی کہ تونے امتِ محمد يہ علٰی صاحبہا الصلٰوۃوالسلام کو بخش دیا اوربر و ں کے حق میں نیکوں کی شفا عت قبول فرما لی ہے ۔” تو اللہ عزَّوَجَلَّ فرما تا ہے جبرائیل نے سچ کہا ،سد ر ۃُ المنتہیٰ نے سچ کہا، جنت الما ویٰ نے سچ کہا ، جنت نعیم ، جنت عدن، کرسی اوراے عرش! تو نے بھی سچ کہا ۔میں نے امتِ محمد يہ(علٰی صاحبہاالصلٰوۃوالسلام)کے لئے وہ اجر و ثواب تیا ر کیا ہے جونہ تو کسی آنکھ

نے دیکھا ، نہ کسی کا ن نے سنا اور نہ ہی کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔”
پیارے اسلامی بھائیو!دیکھو! اللہ عزَّوَجَلَّ نے تم پر اپنا خاص انعا م و اکر ا م فرمایا اور بغیر کسی بدلے کے بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں او ر اپنے محبوب، نبئ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے نوازااور ان کی برکت سے ہلا کت سے بچا یا اور گناہگا رو ں کو بخش کر نیکو ں میں شا مل فرمایا اور ہدا یت عطا فرمائی ۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! اپنی زندگی کے ایام میں رحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ حا صل کرنے کی کو شش کر و کیونکہ موت کے فرشتے نے کُوچ کااعلا ن کر دیا ہے اور شب ِ قدر کو غنیمت جانو،شا ید! تم سعا د ت مند و ں کے گروہ میں شامل ہو جاؤ اس لئے کہ یہ را ت زمانے کی تمام را تو ں سے افضل ہے اورہزا ر مہینوں سے بہتر ہے۔جوبھی اس رات میں دعا کر تا ہے اللہ عزَّوَجَلَّ اس کی دعا قبول فرما تا اور اس کی آرزو اور مقصد پورا فرماتا ہے ۔ جو بھی کچھ مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتااور اس پرفضل وکرم فر ما تا ہے۔جس نے شب ِقدرکو عبادت میں گزارا وہ کامیاب ہوگیا ۔کتنا سعادت مند ہے وہ شخص جس نے اس کو دیکھ لیا بلاشبہ اس نے قابل فخر بھلائی کو پالیا۔صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ شب ِ قدر طاق راتوں میں تلاش کی جاتی ہے پس اسے طاق راتوں میں تلاش کروتو کامیاب ہو جاؤ گے۔
اے سیدھی راہ سے بھٹکنے وا لے! کیا تو ہلا کت کے انجا م سے نہیں ڈر تا؟کیا مو ت کی آوا ز نہیں سنتا؟کیا تو اب بھی سیدھے راستے کا سو ال نہیں کر ے گا؟ کیا تو شب ِ قدر کو غنیمت نہیں سمجھتا جو تیرے دل سے ز نگ کو دُورکردے۔
اے اللہ عزَّوَجَلَّ! سوالی تیری رحمت کے دروازے پر کھڑے ہیں اور فقراء تیری بارگاہ میں حاضر ہیں اور مساکین کا سفینہ تیرے بحرِ کرم کے ساحل پر کھڑ اہے جو تیری وسیع رحمت کی اُمید رکھتے ہیں۔ یاا لہ العا لمین عَزَّوَجَلَّ ! اس مہینے اگر تو صرف ان لوگوں کی ہی عزت بلند کر ے گا جنہوں نے تیری رضاکے لئے روزے رکھے اور قیام کیا تو گناہوں کے سمندر میں غرق لوگ کہاں جائیں گے؟ اگرتو صرف اطاعت کرنے والوں پررحم فرما ئے گا تو نافرمانوں کا کیا بنے گا؟ اگر تو صرف نیکوں کوقبول فرمائے گا تونافرمانوں کو کون سہارا دے گا؟ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !روزے دارکامیاب ہو گئے، راتوں کوقیام کرنے والے کامیابی کی چوٹی پرپہنچ گئے اور اخلاص والے نجات پاگئے، یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن عَزَّوَجَلَّ! ہم تیرے گنہگاربندے ہیں، ہم پررحم فرما اور ہمیں اپنے فضل و احسان سے نواز دے اورہم سب کواپنی رحمت کے ذریعے بخش دے۔(آمین)

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَاوَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ