طَلَاق سے متعلِّق مفید مدنی پھول

logomaqbooliya

طَلَاق سے متعلِّق مفید مدنی پھول

٭سرکارِ عالی وَقَار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ چیز طَلَاق ہے۔ (2)کسی معقولِ شَرْعی سبب کے بغیر طَلَاق دینا اِسلام میں سخت ناپسندیدہ اور ناجائز و گُناہ ہے جبکہ طَلَاق کے کثیر مُعاشَرَتی نقصانات اِس کے علاوہ ہیں لہٰذاحتی الامکان طَلَاق دینے سے بچنا چاہئے۔ ٭میاں بیوی کے درمیان اگر ناچاقی ہوجائے تو تعلُّقات دوبارہ بہتر بنانے کیلئے قرآنِ کریم کے پارہ نمبر 5سورۃ النساء کی آیت 33 اور 34 میں بیان کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آپس میں صلح کی کوشش کرنی چاہئے جس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً اگر بیوی کی طرف سے کوئی نا روا رَوَیّہ ہے تو شوہر بیوی کو اچھے انداز میں سمجھائے اور اگر اس سے بھی معاملہ حل نہ ہو تو شوہر چند دنوں کے لئے بیوی کو گھر میں رکھتے ہوئے  اس سے اپنا بستر جدا کرلے اور مقصد یہ ہو کہ طَلَاق کے نتیجے میں گُزاری جانے والی تنہا زندگی کا ایک نمونہ سامنے آجائے ، قَوِی اِمکان ہے کہ اس تصوُّر ہی سے دونوں سبق حاصل کرکے آپس میں صلح کرلیں ٭پھر اگر یوں بھی صلح نہ ہوسکے توشوہر کو بیوی کی مناسب سختی کے ذریعے تادیب کی بھی اجازت ہے اور یہ طریقہ اختیار کرنا بھی بہت مفید ہے کہ دونوں جانب سے معاملہ فہم اور سمجھدار افراد کو حَکَم و مُنْصِف (یعنی فیصلہ کرنے والا)بنا لیا جائے تاکہ وہ ان میں صلح کروادیں یہ صلح کروانے والے افراد اگر اچھی نیّت اورجذبہ کے ساتھ حکمت بھرے انداز میں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ زوجین کے مابین اتفاق پیدا فرمادے گا۔ ٭میاں بیوی کے باہمی جھگڑے کا حل یہ نہیں کہ فوراً طَلَاق دیکرمعاملے کو ختم کردیں اوربعدمیں افسوس کے سواکچھ ہاتھ نہ آئے۔ البتہ اگر باہمی تعلُّقات کی خرابی اِس حد تک پہنچ گئی ہو کہ میاں بیوی سمجھتے ہوں کہ اب وہ ایک دوسرے کے شَرْعی حُقوق ادا نہیں کر پائیں گے اورطَلَاق ہی آخری حل ہے  تو پھر شوہر اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق طَلَاق دے۔
٭وہ طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی کواُس کی پاکی کے اُن دنوں میں کہ جن میں اس نے بیوی سے اِزدِواجی تعلُّقات قائم نہ کئے ہوں ایک طَلَاقِ رجعی اِن الفاظ سے دیدے “ میں نے تجھے طَلَاق دی “ پھر شوہر اسے چھوڑ دے حتی کہ عِدّت مکمل ہوجائے اور عورت نکاح سے باہر ہوجائے۔ ٭یاد  رکھیں ایک طَلَاقِ رجعی دینے سے بھی عِدّت گزرنے پر مرد و عورت میں جدائی ہوجاتی ہے اور یہ سمجھنا کہ تین طَلَاق کے بغیر ایک دوسرے سے خلاصی نہیں ہوتی سَراسر غَلَط ہے٭خود زبانی طَلَاق دینی ہو یا خود لکھنی ہو یا اسٹام پیپر والوں سے لکھوانی ہو ، بہر حال ایک ہی لکھیں اور لکھوائیں ، اسٹام پیپر والے ہزار کہیں کہ تین لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا ، ان کی بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں اور انہیں ایک ہی لکھنے پر مجبور کریں ٭ایک طَلَاقِ رجعی کا بطورِ خاص اِس لئے کہا گیا ہے کہ تین طَلَاقیں اکٹھی دینا گُناہ اور خِلافِ شریعت ہے نیزاس صورت میں  رُجوع کی مہلت بھی ختم ہوجاتی ہے جبکہ ایک طَلَاقِ رجعی دینے کی صورت میں دورانِ عِدّت بغیر نکاح کے اور بعد ِ عِدّت نکاح کے ساتھ رجوع کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ رجوع کی یہ گنجائش دو(2)رجعی طَلَاقیں دینے میں بھی ہے لیکن دو طَلَاقیں اکٹھی دینا بھی گُناہ ہے۔ ٭آج کل طَلَاق دینے والے اکثر لوگ دین سے دوری ، شَرْعی اَحکام سے لاعلمی ،
غصے کی عادت اور جذباتی پن میں مبُتلا ہوکرمعمولی سی بات پر ایک ساتھ تین طَلَاقیں دے بیٹھتے ہیں اور پھر ہوش آنے پر انتہائی نادم وپشیمان ہوتے ہیں ، پھر کبھی اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں اور کبھی بچّوں کے مستقبل کو روتے ہیں اور بسااوقات شیطان کے بہکاوے میں آکر گھر بچانے کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ تین طَلَاقیں اکٹھی دینا گُناہ ہے لیکن اگر کوئی تین طَلَاقیں دے تو تینوں ہی واقع ہوجاتی ہیں خواہ ایک مجلس میں دے یا زیادہ مجلسوں میں اور ایک لفظ سے تین طَلَاق دے یا تین لفظوں سے ، بہر صورت تینوں طَلَاقیں ہوجاتی ہیں لہٰذا مسلمانوں  کی خیرخواہی کے پیش ِ نظر یہ مشورہ پیش ِ خدمت ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان باہمی اتفاق کی کوئی صورت نہ بن سکے اور طَلَاق دینے کی کوئی نوبت آجائے تو اسلامی ہدایت کے مطابق طَلَاق دی جائے جس کا طریقہ اوپر بیان ہوگیاہے اور مزید آسانی کیلئے جُداگانہ وضاحت سے دوبارہ بیان کیاجارہا ہے۔