حمد حیدرمظہری بلاری

logomaqbooliya

حمد
مجھے تقدیر کچھ ایسی عطا کر
ترا ہو جاؤں میں سر جھکا کر
گناہوں  کو میں  دھونے پر بھی آؤں
مرے مولا کبھی آنسو بہا کر
کھڑا ہوں موت کی دہلیز پر میں
تھکا ہارا مگر خود کو لٹا کر
میں چھپ چھپ کر خطا کرتا  رہا ہوں
مجھے رسوا نہ اے میرے خدا کر
تیری بخشش سے کیا ہوتا نہیں ہے
تری رحمت میں رکھ مجھ کو چھپا کر
بہت بے خوف ہو کر دن گزارے
تمناؤں کو سینے سے لگا کر
مرا باطن، مرا ظاہر الگ ہے
مٹا مجھ کو کسی کی خاکِ پا کر
ترے آگے ہے سب کچھ آشکارا
گراتا ہے مجھے  کیوں آزما کر
یہی  ایک  آرزو حیدرؔ ہی ہے
کہ میں روؤں گڑگڑا کر
حیدرمظہری بلاری