معرفت اِلٰہی کی تعمیر

logomaqbooliya

معرفت اِلٰہی کی تعمیر

انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ سب سے پہلے کائنات
رنگ و بو میں بکھرے ہوئے دلائل و شواہد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی معرفت میں کمال پیدا
کرے۔ظاہر ہے کہ آسمان کو(بلاستون)پھیلا ہوا، زمین کو بچھی ہوئی خصوصاً اپنے جسمانی
نظام کو دیکھنے کے بعد اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا کوئی بنانے والا ضرور
ہے، جس طرح کسی پختہ ٹھوس عمارت کو دیکھ کر انسان کی توجہ معاً معمار کی طرف جاتی
ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و
رسالت کی سچائی کے دلائل پر نظر کرے، اور
آپ کی تصدیق کے لیے سب سے بڑی دلیل قرآن کریم ہے جس نے بھری دنیا کو اپنی سورتوں کے
مثل ایک چھوٹی سی سورہ لانے سے آج تک عاجز و درماندہ کر رکھا ہے۔
اب جب وجودِ باری تعالیٰ اور رسالت محمدی -علی صاحبہا
الصلوٰۃ والسلام- کا عقیدہ لوحِ دل پر نقش ہو جائے پھر اپنی عنانِ توجہ شریعت
مطہرہ (کے اَسرارو رموز سمجھنے) کی طرف موڑنا چاہیے،کیوں کہ اگر اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے تواس کے اِعتقاد کی
دیواروں میں کبھی بھی دراڑپیداہوسکتی ہے۔
اب اسے چاہیے کہ نمازو وضو کے ضروری مسائل معلوم کرے۔
صاحب دولت ہو تو زکوٰۃ کے مسئلے پر آگاہی
حاصل کرے، اس طرح حج اور دین کے دیگر واجبات سیکھے۔جب اسے ان واجباتِ دینیہ کا علم
ہو جائے تو انھیں رنگ عمل دینا شروع کرے، اب جسے جتنی قوتِ پرواز ہے اسی کے مطابق
وہ آسمانِ فضل و کمال پر کمندیں ڈالے گا۔ اب وہ چاہے تو قرآن کریم کا حفظ کرے، اس
کی تفسیر سیکھے،حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں درک حاصل کرے،آپ کی سیرت طیبہ کو
پڑھے، صحابہ کرام کی سیرتیں جانے اور یوں بعد کے علما و مشائخ کی حیات و خدمات
پربھی نظر رکھے،تاکہ اس کا طائر علم و فضل آسمانِ ترقی کی طرف رو بہ پرواز ہوسکے۔
یوں ہی زبان و بیان کی اِصلاح اور اس کی سلاست و بلاغت
میں ترقی کے لیے اس کے قواعد و اُصول کا علم سیکھے اور مروّجہ زبان میں درک حاصل
کرے۔
یاد رہے کہ فقہ تمام علوم کی جڑ ہے۔ اور وعظ و نصیحت
اس کا پھل نیز اس کے فوائد و برکات کو پھیلانے کا ایک موثر ذریعہ۔
عزیز وافر تمیز! مذکورہ علوم و فنون میں -اللہ کی توفیق
سے -میں نے بہت ساری کتابیں تصنیف کی ہیں جو تمہیں متقدمین مصنّفین کی کتابوں سے
بے نیاز کر دیں گی،لہٰذا کتابوں کی چھان بین اور تصنیف کتب کے لیے تمہیں یہاں وہاں
مارے مارے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، میں نے وہ سب کچھ تمہارے لیے پہلے ہی مہیا
کر دی ہیں۔ انسان کے حوصلے اس کی اپنی تساہلی کے باعث پژمردہ ہو جاتے ہیں ورنہ ان
چیزوں سے انھیں کبھی سیری ہی نہیں ہوتی،اوراس کے بغیر انھیں چین ہی نہیں آتا۔
میں اس بات کو قطعی طور پر جانتا ہوں کہ ہمتیں انسانوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں،
ہاں بسااوقات وہ پست ضرور پڑ جاتی ہیں تاہم کریدنے اور اُبھارنے سے وہ پھر چل پڑتی
ہیں، لہٰذا جب کبھی اپنے اندر تساہلی دیکھو یا خود کواِحساسِ کمتری کا شکار پاؤ تو
اللہ کی بارگاہ سے توفیق خیر کی بھیگ مانگو،اور اس بات کا یقین رکھو کہ تمہیں ہر خیرو
نعمت اس کی طاعت و بندگی سے ہاتھ لگتی ہے، یوں ہی ہر نقصان اس کی معصیت و نافرمانی
کی وجہ سے پہنچتا ہے۔
ذرا مجھے بتاؤ
کہ وہ کون ہے کہ جس پر مولا اپنے عطا و نوال کی بارش فرمائے اور وہ با مراد نہ ہوسکے
؟اورجس سے وہ اپنی رحمت و نعمت روک لے وہ کچھ پا سکے؟؟ یا اپنے کسی مقصد میں مراد آشناہوسکے؟؟؟۔
دیکھو شاعر نے کتنے مزے کی بات کہی ہے :
والله مَا جئتُكم زائرًا الا
راَيتُ الارضَ تُطوَی لي
          ولا
ثنيت العزم عن بابكم
الا
تع
ثرتُ  باَذيالي
یعنی قسم بخدا !
جب میں تمہاری زیارت کے لیے آیا  تو
کیا  دیکھا کہ زمین میرے لیے لپیٹ دی گئی
ہے۔
لیکن جیسے ہی تمہارے دروازے سے ہٹنے کا اِرادہ کیا خود
اپنے ہی دامن میں اُلجھ کر گر پڑا۔
(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی