مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

وَمَكْرُوهُهُ: لَطْمُ الْوَجْهِ ،أَوْ غَيْرِهِ (بِالْمَاءِ) تَنْزِيهًا (درمختار)
اور مکروہ تنزیہی ہے، چہرہ وغیرہ پر پانی کوزور سے مارنا والتکیۃ والاسراف اور مکروہ ہے پانی میں کمی کرنا اورزیادتی کرنا ۔کمی کی صورت یہ ہے کہ اعضا کو دھونے میں تیل کی طرح پانی چپڑے بلکہ اچھی طرح اعضا پر تین بار پانی کو جاری کرے۔ ومنہ الزیادۃ علی الثلاثہ اور اسراف سے ہے ۔ تین بار سےزیادہ دھونا لیکن تسکین دل یا وضو پروضو کے قصد سے زیادتی درست ہے۔چنانچہ مذکور ہوچکا۔ اصل میں مذکور ہے۔
ادب یہ ہے کہ پانی میں اسراف نہ کرے اور کمی بھی نہ کرے۔ خلاصہ اس صورت میں یہ ہے کہ جب پانی کانہر ہو یا اپنی ملک کا ہو اگرایسے پانی سے وضو کرے جو طہارت کرنے والوں پر وقف ہوتو پانی صرف کرنے میں زیادتی اوراسراف کرنا حرام ہے۔ کسی کا اس میں اختلاف نہیں (بحرالرائق)
بخاری شریف اورمسلم شریف کی حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک مُد سے وضو فرماتے تھے اور ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور بعض روایات میں کم وبیش بھی آیا ہے۔ صاع چار مدکا ہوتا ہے اور مد دورتل کااور رتل بیس امتار کا اور ہرامتار ساڑھے چار مثقال کا ۔ اور مدااورمن شرعی ایک ہی چیز ہے۔

رسول اللہﷺ خود پانی وضوکاکم خرچ کرتے تھے اور بہت پانی خرچ کرنے سے منع فرماتے تھے۔اور فرماتے تھے میری امت میں وہ لوگ پیدا ہوں گے جو وضو کے پانی میں تعدی اور تجاوزحدسے کریں گے۔ یعنی زیادہ پانی وضو میں خرچ کریں گے ۔اور فرماتے تھے کہ وضو کاایک شیطان ہے ،اس کا نام ولہان ہے پانی کا وسوسہ اس سے ہوتا ہے۔متوضی کے دل میں زیادہ پانی خرچ کرنے کا وسوسہ ڈالتا ہے اس سے پرہیز کرو (شرح سفر السعادت) ۔

اور ہر مثقال ساڑھے چار ماشے کاہوتا ہے،تو مد اور من شہر لکھنو کے سیر کے حساب سے تخمیناً تین پاؤ پختہ ہوا۔اس واسطےکہ لکھنو کا پختہ سیرچھیانوے روپیہ ہے اور ہرروپیہ گیارہ ماشے کا ہے۔ صاع جس سے غسل سنت ہے تین سیر پختہ قدرے زائد ہوا ہم لوگوں کو عادت ہوگئی پانی زیادہ خرچ کرنے کی لہذا اکثر لوگ اس قدر پانی خرچ کرنے میں حیران ہوتے ہیں۔ اگر تنگ ٹوٹی
کے لوٹے سے باحتیاط وضو کریں اس طرح کہ بدن پرپانی گرے چند قطروں کے سوا زمین پر بے فائدہ نہ گرے تو تین پاؤ پانی سے بخوبی وضو ہو سکتا ہے ، اس کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے کہ سنت پر عمل کرنے کا ثواب حاصل ہواوراسراف مکروہ سے پرہیز کریںاور ایک مدپانی کے مقدار سے کم نہ کریں(تبیین)
 تَحْرِيمًا وَلَوْ بِمَاءِ النَّهْرِ، وَالْمَمْلُوكِ لَهُ (درمختار)

پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے۔ اگر نہر کے پاس یا اپنے مملوک پانی سے وضو ہو۔
. أَمَّا الْمَوْقُوفُ عَلَى مَنْ يَتَطَهَّرُ بِهِ، وَمِنْهُ مَاءُ الْمَدَارِسِ، فَحَرَامٌ
 (درالمختار)
اور وہ پانی جو طہارت کرنے والوں پروقف کیا گیا اوروقف کئے قسم سے ہے ، مدرسوں کا پانی تو اس میں اسراف کرنا حرام ہے( بالاتفاق)
وَتَثْلِيثُ الْمَسْحِ بِمَاءٍ جَدِيدٍ (درالمختار)ا ور مکروہ ہے تین بارمسح کرنا۔نئے تین پانیوں سے ۔وَمِنْ مَنْهِيَّاتِهِ: التَّوَضُّؤُ بِفَضْلِ مَاءِ الْمَرْأَةِ
اور وضو کرنا ، ممنوعات سے ہے اور مکروہ ہے ، عورت کے وضو یاغسل کے باقی بچے ہوئے پانی سے۔ اس واسطے کہ شاید اس سے مرد کو کچھ تلذذ حاصل ہو یا یہ وجہ ہے کہ اکثر عورتوں کو نجاست سے محافظت کم ہوتی ہے اورکراہیت تنزیہی پردلالت کرتا ہے (طحطاوی)۔
وَفِي مَوْضِعٍ نَجِسٍ؛ لِأَنَّ لِمَاءِ الْوُضُوءِ حُرْمَةً،(درالمختار)اور مکروہ ہے وضوکرناناپاک جگہ میں۔ اس لیے کہ وضو کے پانی کی کچھ عزت ہے اور یہ بھی وجہ ہے کہ وہاں نجاست کے چھینٹوں کے پڑنے کا خوف ہے (طحطاوی)
 أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، إلَّا فِي إنَاءٍ (درالمختار)
مکروہ ہے وضو کرنا مسجد کے اندر۔ مگر مسجد میں برتن کے اندر وضو کرنا جائز ہے، بشرطیکہ مستعمل پانی مسجد میں نہ گرے۔
أَوْ فِي مَوْضِعٍ أُعِدَّ لِذَلِكَ،  (درالمختار)
وضو جائز ہے مسجد کے اس مکان میں جو وضو کرنے کو بنایا گیا ہے۔چنانچہ اس ملک میں مسجد کے لب فراش وضو کے واسطے بناتے ہیں۔

وَإِلْقَاءُ النُّخَامَةِ، وَالِامْتِخَاطُ فِي الْمَاءِ.(درالمختار)

مکروہ ہے تھوکنا ، جھاڑنا ۔ اگر چہ پانی جاری ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔ اس واسطے کہ ان کے ترک کرنے کو مستحبات میں شمار کیا ہے۔مسئلہ: مکروہ ہے بائیں ہاتھ سے کلی کرنااور ناک میں پانی ڈالنا۔ مسئلہ : مکروہ ہے داہنے ہاتھ سے ناک جھاڑنا بغیر عذر ( خزانۃ الفقہ) مسئلہ:اور مکروہ ہے کہ کسی ایک برتن کو وضو کے لیے خاص کرلے اس برتن سے سوا اس کے اور کوئی وضو نہ کرے جیسے یہ مکروہ ہے کہ مسجد میں کوئی جگہ اپنی نمازکے واسطے خاص کرے(وجیز)
مسئلہ: اورمکروہ ہے اعضا وضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔ مسئلہ اور مکروہ ہے قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار یا کلی کا پانی ڈالنا۔ مسئلہ:اور مکروہ ہے بے ضرورت دنیا کی باتیں کرنا۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے اتنا پانی کم خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ رفاض اور ہنود کا شعار ہے، مسئلہ:اورمکروہ ہے منہ پر ڈالتے وقت پھونکنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!