چھٹی وجہ کثرتِ گناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجانا

logomaqbooliya

چھٹی وجہ کثرتِ گناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوجانا

بعض لوگ بدقسمتی سے طویل عرصے تک بڑے بڑے گناہوں مثلاً چوری، قتل ، ڈاکے ، دہشت گردی وغیرہ میں مبتلاء رہتے ہیں ۔ شیطان ان کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے بعد تجھے معافی نہیں ملنے والی ..یا.. اب تیری بخشش ہونا مشکل ہے ۔ علمِ دین سے محروم یہ افراد مایوسی کا شکار ہوکر گناہوں پر مزید دلیر ہوجاتے ہیں اور توبہ سے محروم رہتے ہیں ۔
اس کا حل:
ایسے بھائیوں سے گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا

چاہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ ترجمہ کنزالایمان: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ۔”(پ۲۴،الزمر:۵۳)
رحمتِ خداوندی کس طرح اپنے امیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ،اس کا اندازہ درجِ ذیل روایات سے لگائيے۔۔۔۔۔۔
مکی مدنی سرکارانے فرمایا ،”حق تعالی اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے۔” (صحیح مسلم ،کتاب التو بۃ ،باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالی ، رقم ۲۷۵۴ ،ص ۱۴۷۲)

نورِ مجسم،شاہ بنی آدم انے فرمایا کہ ،”اللہ تعالی کی سو رحمتیں ہیں ،ننانوے رحمتیں ،اس نے قیامت کے لئے رکھی ہیں اور دنیا میں فقط ایک رحمت ظاہر فرمائی ہے ۔ ساری مخلوق کے دل اسی ایک رحمت کے باعث رحیم ہیں ۔ ماں کی شفقت و محبت اپنے بچے پر اور جانوروں کی اپنے بچے پر مامتا ، اسی رحمت کے باعث ہے۔ قیامت کے دن ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ اس ایک رحمت کو جمع کر کے مخلوق پر تقسیم کیا جائے گا، اور ہر رحمت آسمان و زمین کے طبقات کے برابر ہوگی ۔ اور اس روز سوائے ازلی بد بخت کے اور کوئی تباہ نہ ہوگا ۔

”(کنزالعمال،کتاب التوبۃ،رقم۱۰۴۰۰،۴،ص۱۰۷)

حضرتِسیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دو شخصوں کو جہنم سے باہر لایا جائے گا۔ حق تعالی ارشادفرمائے گا” جو عذاب تم نے دیکھا وہ تمھارے ہی عملوں کے سبب سے تھا ، میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہوں۔ ” پھر ان کو دوبارہ جہنم میں ڈالے جانے کا حکم دیا جائے گا ۔ ان میں سے ایک شخص جلدی جلدی دوزخ کی طرف جائے گا اور کہتا جائے

گا ، کہ ”میں گناہوں کے بوجھ سے اتنا ڈر گیا ہوں کہ اب اس حکم کو پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا ۔”
اور دوسرا کہے گا کہ ،” یاالٰہی عزوجل ! میں نیک گمان رکھتا تھا اور مجھے امید تھی کہ ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد ، دوبارہ دوزخ میں ڈالنا ، تیری رحمت گوارانہ کرے گی۔ ” تب اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آئیگی اور ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم دے دیا جائے گا۔ ( ترمذی، کتاب صفۃ الجہنم ، جلد۴، ص۲۶۹بتغیر)

پیارے اسلامی بھائیو! انسان سے چاہے کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوجائیں لیکن جب وہ نادم ہوکر توبہ کے لئے بارگاہِ الٰہی عزوجل میں حاضر ہوجائے تو اس کے گناہ معاف کردئيے جاتے ہیں چنانچہ حضرتِسیدنا ابو ہریرہرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تب بھی اللہ عزوجل تمہاری توبہ قبول فرمالے گا۔” ( سنن ابن ماجہ ،کتاب التو بۃ، با ب ذکر التوبہ، رقم ۴۲۴۸ ،ج۴، ص ۴۹۰)

جبکہ حضرتِسیدناعبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک بند ے کی روح حلقوم تک نہ پہنچ جائے اللہ عزوجل بندے کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر التو بۃ، رقم ۴۲۵۳ ،ج۴ ،ص ۴۹۲)

حضرتِسیدناابو سَعِیْد خُدْرِیرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے ایک شخص نے ننانوے قتل کئے تھے۔ جب اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس پہنچااوراس سے کہا:”میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی

صورت ہے؟”راہب نے کہا:” نہیں۔” اس نے اسے بھی قتل کردیا اور سو کاعدد پورا کرلیا۔پھر اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا تو اسے ایک عالم کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے اس عالم سے کہا:” میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟”اس نے کہا ”ہاں !اللہ عزوجل اور توبہ کے درمیان کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے؟ فلاں فلاں علاقہ کی طرف جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ عزوجل کی عبادت کرتے ہیں ان کے ساتھ مل کر اللہ لکی عبادت کرو اور اپنے علاقہ کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ یہ برائی کی سرزمین ہے۔”
وہ قاتل اس علاقہ کی طر ف چل دیا جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آگئی ۔رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔رحمت کے فرشتے کہنے لگے :”یہ توبہ کے دلی ارادے سے اللہ عزوجل کی طرف آیا تھا۔” اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ تو ان کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیااور انہوں نے اسے ثالث مقرر کرلیا۔ اس فرشتے نے ان سے کہا: ”دونوں طرف کی زمینوں کو ناپ لو یہ جس زمین کے قریب ہوگا اسی کا حق دار ہے۔” جب زمین ناپی گئی تو وہ اس زمین کے قریب تھا جس کے ارادے سے وہ اپنے شہر سے نکلا تھا تو رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔

(کتا ب التو ابین ،تو بۃ من قتل مائۃ نفس ، ص ۸۵)

امید ہے ان سطور کے مطالعے کے بعد مذکورہ اسلامی بھائی بھی توبہ کرنے کی سعادت پا لیں گے ۔ ان شاء اللہ عزوجل

تُوْبُوْا اِلَی اللہِ (یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو)

اَسْتَغْفِرُ اللہَ (میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)