کثرتِ عبادت کرنے والاجنّتی:

کثرتِ عبادت کرنے والاجنّتی:

حضرت سیِّدُنا رافع بن عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں، مجھے حضرت سیِّدُنا ہشام بن یحیی کنانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِیْ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں آپ کو وہ واقعہ نہ بیان کروں جومیری آنکھوں نے دیکھااوراس وقت میں خود وہاں موجود تھا؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے

مجھے اس سے نفع دیا، اُمیدہے تمہیں بھی اس سے نفع ہو گا۔” میں نے کہا:”اے ابوالولید! مجھے بیان کیجئے۔”تو انہوں نے بیان فرمایا: ”ہم نے سَن 88 ہجری میں روم کی سرزمین پرجہادکیا۔ ہمارے ساتھ سعیدبن حرث نامی ایک نیک شخص تھا، وہ کثر ت سے عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کرتا، دن کو روزہ رکھتا، رات کوعبادت کرتا۔جب ہم چلتے تو وہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا۔ جب ٹھہرتے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا۔ پھرایک رات ایسی آئی کہ ہم سخت خوف میں مبتلاہوگئے۔ میں اور ایاس پہرہ داری کے لئے نکلے، ہم ایک ایسے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جس کا معاملہ ہم پر سخت دشوار ہوچکا تھا۔میں نے حضرت سیِّدُناسعید بن حرث علیہ رحمۃ الرّب کو اس رات بھی عبادت میں مشغول پایااور مصائب پراس کے صبر کرنے سے مجھے بہت تعجب ہوا۔جب صبح طلوع ہوئی تو میں نے کہا: ”اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، آپ پر نفس کا بھی کچھ حق ہے، آپ آرام کیوں نہیں فرماتے ؟”تووہ رودئیے اور فرمایا: ”اے میرے بھائی!یہ سانسیں شمار کی جاچکی ہیں، عمر گھٹ رہی ہے،دن پورے ہوچکے ہیں،میرے پیچھے مو ت ہے اور مجھے اپنی رُوح نکلنے کا انتظار ہے۔”
راوی فرماتے ہیں:”اس بات نے مجھے رُلادیا۔ میں نے ان سے کہا:”میں اپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتاہوں کہ آپ خیمے میں داخل ہوکر آرام فرمائیں۔”جب میں خیمے میں داخل ہوا تو وہ سو چکے تھے ۔میں خیمے کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اندر سے باتوں کی آواز سنائی دی تو میں نے دل میں کہا :” خیمے میں ان کے سوااور تو کوئی نہیں۔”بہرحال میں کچھ آگے بڑھا تو دیکھاکہ وہ نیند میں مسکرا رہے ہیں اور کسی سے باتیں کر رہے ہیں۔میں نے ان کی ایک بات یاد کرلی اوروہ یہ کہہ رہے تھے: ”میں لوٹنا نہیں چاہتا ۔” پھر انہوں نے اپنادایاں ہاتھ بلند کیاگویا کچھ ڈھونڈھ رہے ہوں۔ پھر ہنستے ہوئے آہستگی سے نیچے کر لیا۔ اور ہانپتے ہوئے بیدار ہو گئے۔میں نے ان کو سینے سے لگا لیا تو انہوں نے دائیں بائیں مڑ کر دیکھا پھرکچھ سکون واطمینان حاصل ہوا اور حواس بحال ہوئے تو کلمۂ طیبہ پڑھنے اور تکبیر کہنے لگے۔ میں نے عرض کی :” کیا معاملہ ہے ؟” فرمایا: ”خیر ہے۔”میں نے پوچھا: ”مجھے بتائیے کیونکہ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں واپس نہیں لوٹنا چاہتا ۔”پھر میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایااور کچھ دیر بعد آہستہ آہستہ نیچے کر لیا۔” انہوں نے جواب دیا : ” میں نہیں بتاؤں گا۔”
پھر جب میں نے انہیں قسم دی تو فرمایا:” جب تک میں زندہ رہوں آپ اس بات کوظاہرنہیں کروگے۔”میں نے کہا: ”ہاں، ٹھیک ہے ۔” تو فرمانے لگے :”میں نے دیکھا گویا قیامت قائم ہوچکی ہے۔لوگ ہکے بکے ، اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کرتے اپنی قبروں سے نکل رہے ہیں۔ اسی دوران دو آدمی میرے پاس آئے ،ان جیسا حسین چہرے والا میں نے نہ دیکھا تھا۔ انہوں نے مجھے سلام کیا ،میں نے سلام کا جواب دیاپھر انہوں نے مجھ سے کہا:”اے سعید ! آپ کو بشارت ہو۔ آپ کے گناہ معاف کر دئیے گئے، محنت وصول ہوئی، عمل قبول ہوااور دعابھی مقبول ہوئی، آپ کو جلد خوشخبری دی جائے گی ،آپ ہمارے ساتھ

چلیں تا کہ ہم آپ کووہ نعمتیں دکھائیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔”حضرت سیِّدُناسعید بن حرث علیہ رحمۃ الرّب فرماتے ہیں: ”میں ان کے ساتھ چل دیا، انہوں نے مجھے میدانِ حشر سے غائب کردیا تو اچانک ایک خوبصورت گھوڑا ہمارے سامنے تھا جو دنیوی گھوڑوں جیسا نہ تھا بلکہ اُچکنے والی بجلی کی مانند یا تیزچلنے والی ہوا کی طرح تھا۔ ہم اس پر سوار ہوکر چل پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے بلند محل کے پاس جا پہنچے جس کا کنارہ دکھائی نہ دیتا تھا۔وہ چاندی سے جَڑاہوا تھا اور اس سے روشنی جھلک رہی تھی۔ جب ہم اس کے دروازے پر پہنچے تووہ خود بخود کھل گیا۔ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں ایسی اشیاء دیکھیں جن کی نہ کوئی تعریف بیان کر سکتا ہے اور نہ کسی انسانی دل پر اس کا کھٹکا گزراہوگا۔ اس میں حوریں تھیں، ستاروں کی گنتی کے برابر خُدّام اور غلام بھی تھے۔ انہوں نے ہمیں دیکھا تو سریلی آواز میں یہ نغمے الاپنے لگے :”اَھْلًا وَّ سَھْلًا مَرْحَبًا،یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاولی تشریف لایا ہے۔”
ہم چلتے چلتے ایک ایسے اجتماع میں پہنچے جہاں ہیرے جواہرات سے آراستہ سونے کے تخت بچھے ہوئے تھے اور اردگرد سونے کی کرسیوں کا گھیرا تھا۔ہر تخت پرایک ایسی خوبصورت خاتون بیٹھی تھی جس کا وصف کوئی مخلوق نہ بیان کر سکے،اور ان کے بیچ میں ایک ایسی عورت جلوہ فرما تھی جو قدوقامت حسن وجمال اور وصف ِ کمال میں ان سب سے برترتھی۔یہاں پہنچ کر میرے ساتھ والے دونوں مرد یہ کہہ کر غائب ہوگئے کہ”یہ آپ کا گھر، خاندان اور آرام گاہ ہے۔”
ان کے جانے کے بعدوہ خوبصورت عورتیں ”مرحبا، خوش آمدید ”کہتے ہوئے میری طرف ایسے بڑھیں جیسے کوئی غائب جب اپنے اہل میں واپس آتا ہے تو اس کے گھر والے اس کی طر ف لپکتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد انہوں نے مجھے درمیانے تخت پر بیٹھی عورت کے پاس بٹھادیا اور کہا:”یہ آپ کی بیوی ہے اور آپ کے لئے اس جیسی اور بھی حوریں ہیں،وہ سب آپ کی منتظر ہیں۔” ہم نے آپس میں گفتگو کی تو میں نے پوچھا:”میں کہاں ہوں؟” اس نے جواب دیا:”جنت المأویٰ میں۔”میں نے پوچھا: ”تم کون ہو؟” جواب دیا:”میں آپ کی ہمیشہ رہنے والی بیوی ہوں۔”میں نے پوچھا:”دوسری کہاں ہیں؟”اس نے کہا: ”وہ آپ کے دوسرے محلات میں ہیں۔”میں نے کہا:”میں اج آپ کے پاس ٹھہروں گا اور کل ان کے پاس جاؤں گا۔” پھر میں نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے نرمی سے میرا ہاتھ روک لیا اور کہا: ”آج تو آپ دنیا کی طرف لوٹ جائیں گے اور تین دن بعد آئیں گے۔” میں نے کہا:”میں دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرتا ۔”تو اس نے کہا:”آپ کا دنیا میں لوٹنا ضروری ہے اور تین دن بعد آپ ہمارے ہاں افطار کریں گے۔”پھر میں اس مبارک اجتماع سے اٹھا اوروہ مجھے رخصت کرنے اٹھی تو میری آنکھ کھل گئی ۔” حضرت سیِّدُناہشام رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں:”یہ سن کرمیں رونے لگا اور ان سے کہا:”اے سعید ! آپ کو مبارک ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیجئے، اس نے آپ کے عمل کا ثواب دکھا دیاہے ۔”انہوں نے دریافت فرمایا: ”کیا جو آپ نے دیکھا وہ

کسی اور نے بھی دیکھا ہے ؟”تو میں نے کہا:” نہیں۔” اس پر انہوں نے فرمایا:”میں آپ کو قسم دیتاہوں کہ جب تک میری زندگی ہے اس بات کو چھپائیں گے۔”پھر وہ کھڑے ہوئے ،وضو کیا، خوشبو لگائی اور اپنے ہتھیار اٹھا کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔وہ روزے سے تھے اور رات تک لڑتے رہے پھر واپس آئے۔ لوگ ان کی لڑائی کے متعلق گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”ہم نے ایسا لڑنے والا نہیں دیکھا،یہ تو اپنی جان کو دشمنوں کے تیروں اور نیزوں کے آگے ڈال دیتے ہیں، اور ہر بار وہ پسپا ہوئے۔” تو میں نے دل میں کہا:”اگر یہ ان کا مرتبہ دیکھ لیتے تو ان جیسا ہی کرتے” پھرآخر رات تک قیام کی حالت میں رہے اور صبح روزے کی حالت میں کی اور دوسرے دن پہلے دن سے زیادہ لڑے اور پھر رات کو قیام کیا۔ صبح پھر روزے کی حالت میں تھے اور پہلے سے بھی زیادہ قتال کیا۔ حضرت سیِّدُنا ابوالولید علیہ رحمۃ اللہ الوحید فرماتے ہیں:”میں ان کے ساتھ ہو لیا تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کرتے ہیں تومیں نے دیکھاکہ وہ پورا دن اپنی جان کو ہلاکتوں میں ڈالے رہے لیکن انہیں کوئی نقصان نہ ہوا۔ بالآخر غروبِ آفتاب کے وقت ایک تیران کے گلے میں آلگا جس کے سبب وہ زمین پر تشریف لے آئے۔میں انہیں کو دیکھ رہا تھا کہ لوگ چیخ وپکار کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ ان کی طرف بڑھے اورانہیں میدانِ کار زار سے باہراٹھا لائے۔ جب میں نے ان کو دیکھا تو کہا: ”اے سعید! آپ کو مبارک ہو کہ آج آپ جنت میں روزہ افطار کریں گے ، کاش! میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۔” راوی فرماتے ہیں: ” انہوں نے اپنے نچلے ہونٹوں کو حرکت دی اور مسکراتے ہوئے کہا:”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَّقَنَا وَعْدَہٗیعنی سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورافرمایا۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا وصال ہو گیا۔ حضرت سیِّدُناہشام علیہ رحمۃ اللہ السلام کہتے ہیں: ”میں نے بآوازِ بلند کہا:”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو!

(1) لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوۡنَ ﴿61﴾

ترجمۂ کنزالایمان:ایسی ہی بات کے لئے کامیوں کوکام کرناچاہيے۔(پ23، الصّٰفّٰت:61)
میری بات سنو! میں تمہیں تمہارے اس بھائی کے متعلق بتاؤں ۔”لوگ متوجہ ہوئے تو میں نے انہیں سارا معاملہ بتایا تو وہ رونے لگے پھر انہوں نے تکبیر کہی جس سے پورا لشکر دہل گیا اور یہ بات پھیل گئی۔ امیرِ لشکر حضرت سیِّدُنامسلمہ علیہ رحمۃ اللہ کو معلوم ہوا تو وہ خود تشریف لائے اور ہم نے ان کی میت کو رکھا تاکہ نمازِ جنازہ پڑھیں۔میں نے امیرِ لشکر حضرت سیِّدُنا مسلمہ علیہ رحمۃ اللہ سے عرض کی: ”آپ ان کی نمازِجنازہ پڑھائیں۔”انہوں نے فرمایا:”ان کی نمازِ جنازہ وہ پڑھائے جو ان کی حالت کے متعلق جانتا ہو۔” پھر ہم نے ان کی نمازِ جنازہ اد اکی اور ان کو اسی جگہ دفن کر دیا۔لوگ رات کو یہی گفتگو کرتے ہوئے سو گئے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے اس واقعہ کا دوبارہ ذکر کیا تو لوگ یکبارگی چِلّا اُٹھے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ چنانچہ ،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی برکت سے اسی دن قلعے پر فتح عطا فرمائی۔ (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *