اعمال اور دعاؤں کی شرائط

logomaqbooliya

  یاد رکھو کہ جس طرح جڑی بوٹیوں اور تمام دواؤں کی تاثیر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ اسی ترکیب سے وہ دوائیں استعمال کی جائیں جو ان کے استعمال کا طریقہ ہے اسی طرح عملیات اور تعویذات کی بھی کچھ شرائط کچھ ترکیبیں کچھ لوازمات ہیں کہ جب تک ان سب چیزوں کی رعایت نہ کی جائے گی عملیات کی تاثیرات ظاہر نہ ہوں گی اور فیوض و برکات حاصل نہ ہونگے ان شرائط میں سے سات شرطیں نہایت ہی اہم اور انتہائی ضروری ہیں کہ جن کے بغیر قرآنی اعمال میں تاثیرات کی امید رکھنا نادانی ہے اور وہ سب شرطیں حسب ذیل ہیں۔
(۱)اکل حلال:۔یعنی حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا۔
(۲)صدق مقال:۔یعنی سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا۔
(۳)اخلاص:۔یعنی نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اﷲعزوجل ہی کے
لئے کرنا۔
(۴)تقویٰ:۔یعنی شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا۔
(۵)شعائر الٰہی عزوجل کی تعظیم:۔
یعنی اﷲعزوجل کے دین کے ستونوں مثلاً قرآن، کعبہ، نبی، نماز وغیرہ کی تعظیم اور بزرگان دین کا ہمیشہ ادب و احترام کرنا۔
(۶)حضور قلب:۔یعنی جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری کے ساتھ پڑھنا۔
(۷)مضبوط عقیدہ:۔یعنی جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا
اور پختہ عقیدہ رکھنا اگر تذبذب یا تردد رہا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔