اہل و عیال کی بے جا خواہشات کا غلام نہ بنئے

logomaqbooliya

اہل و عیال کی بے جا خواہشات کا غلام نہ بنئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً ماں باپ ، بیوی بچّوں اور قَرابت داروں کے حُقوق کی ادائیگی ہماری ہی ذِمّہ داری ہے لیکن اس معاملے میں انتہائی احتیاط کی بھی ضرورت ہے ، انسان اپنے آپ کو بیوی بچّوں کی خواہشات کا ایسا غلام ہرگز نہ بنائے کہ ان کی ناجائز خواہشیں بھی پوری کرتے پھر ے یا جائز خواہشوں کو پورا کرنے کیلئے آمدنی کے ناجائز ذرائع اختیار کرے اور شریعت کی حدیں پھلانگنے لگ جائے۔ یاد رکھئے! اگر ہم بیوی بچّوں یا والدین وغیرہ کی خواہشات پوری کرنے اور ان کے طعنوں سے بچنے کیلئے حرام و حلال کی پروا کئے بغیر مال و دولت جمع کرتے رہے ، مشکل وقت میں اُنہیں صبر و شکر ، تَوَکُّل و قناعت کا ذہن نہ دیا اور اُنہیں حلال و حرام کی تمیز نہ سکھائی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل بروزِ قیامت وہی ہمارے خِلاف بارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ میں مُقدَّمہ کردیں اور ہماری پکڑ ہوجائے