ایک نوجوان کو نصیحت:

logomaqbooliya

ایک نوجوان کو نصیحت:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن محمد بلوی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: ”میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے ساتھ بغداد کے کسی علاقے میں تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نوجوان کودیکھاجو اچھے طریقے سے وضو نہ کر رہا تھا۔ تو اُسے ارشاد فرمایا: ”اے لڑکے! اپنا وضو ٹھیک کر، اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیاو آخرت میں تجھ پر احسان فرمائے گا۔”پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے۔ نوجوان نے جلدی سے وضو مکمل کیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملا۔وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہچانتا نہ تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور استفسار فرمایا: ”کیا کوئی کام ہے؟”عرض کی: ”جی ہاں! مجھے بھی وہ علم سکھائیے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو سکھایاہے۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”جان لے! جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت پالی وہ نجات پاگیا۔جس نے اپنے دین کے معاملے میں خوف کیا وہ تباہی سے بچ گیا۔ جس نے دُنیا میں زُہد اختیار کیاتو کل (بروزِ قیامت)جب وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کا ثواب دیکھے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔”
(پھر فرمایا) ”کیا تجھے کچھ مزید نہ بتاؤں؟”اس نے عر ض کی: ”جی ہاں! ضرور بتائیے۔”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”جس میں تین خوبیاں جمع ہو گئیں اس کا ایمان مکمل ہو گیا: (۱)۔۔۔۔۔۔جو نیکی کا حکم دے اور خود بھی اس پر عمل کرے (۲)۔۔۔۔۔۔جو برائی سے منع کرے اور خود بھی اس سے بازرہے اور (۳)۔۔۔۔۔۔جو حدودِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت کرے۔” پھر ارشاد فرمایا: ”کیا کچھ اور بھی بتاؤں؟” عرض کی: ”کیوں نہیں، ضرور بتائیے۔” توارشاد فرمایا: ”دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا شوق رکھنے والا ہو جااور اپنے ہر کام میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سچ کا معاملہ کر نجات پانے والوں کے ساتھ نجات پاجائے گا۔” پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چل دئیے۔ بعد میں اس نوجوان نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق پوچھا تو اسے بتایا گیا: ”یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی تھے۔”

(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۴۵،بتغیرٍ)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”میں چاہتا ہوں کہ لوگ (میرے) اس علم سے فائدہ اُٹھائیں اور میری طرف اس میں سے کسی شئے کو منسوب نہ کریں۔”

(المرجع السابق، ج۱، ص۴۶)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے جس سے بھی مناظرہ کیا تو یہی خواہش رہی کہ اُسے حق کی توفیق ملے، وہ سیدھے راستے پر رہے، اُس کی مدد کی جائے اور اُسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت ورعایت حاصل ہو۔ میں نے جس سے بھی کلام کیا تو یہی پسند کیا کہ اس کے سامنے حق ظاہر ہو اور اس کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میری زبان پر حق واضح کرتا ہے یا

دوسرے کی زبان پر۔” (حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی، الحدیث۱۳۳۴۱، ج۹، ص۱۲۵۔المرجع السابق،ج۱، ص۴۶، بتغیرٍ)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”میں نے جس پر حق اور دلیل قائم کی اوراس نے میری بات مان لی تو میں نے اس کی تعظیم و توقیر کی اور اس کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی۔اور جس نے حق بات میں میرا انکار کیا اور میری دلیل کی(بے جا) مخالفت کی تو وہ میری نگاہوں سے گر گیااور میں نے اُسے چھوڑ دیا۔” (حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی،الحدیث۱۳۳۳۷،ج۹،ص۱۲۵)

حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ” میں چالیس سال سے جو بھی نماز پڑھتا ہوں اس میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے لئے دُعا ضرور کرتا ہوں۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے نے عرض کی: ”اے والد ِ محترم! یہ شافعی کون شخص ہے جس کے لئے آپ دُعا کرتے ہیں؟” تو حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”اے میرے بیٹے! حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی دُنیا کے لئے سورج کی طرح اور لوگوں کے لئے عافیت کا باعث تھے تو اب بتاؤ! کیا ان دو صفات میں کوئی اُن کا نائب ہے؟”

(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم،ج۱،ص ۴۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایسے ہی صالح وپاک باز علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام دُنیا کے لئے سورج کی طرح اور لوگوں کے لئے عافیت کا باعث ہیں۔ ان کا نائب بھی کوئی نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی برکت سے بلائیں دور کرتااور آسانیاں نازل فرماتا ہے۔ برکت عام ہوتی ہے اور رحمت بٹتی ہے۔
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہ کیسے عظیم لوگ تھے۔ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرکے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں حاضر ہو جاتے تھے جبکہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف بھاگتے ہو۔ اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام شیطان کو نامراد کرتے تھے جبکہ تم سے شیطان مسخری کرتا ہے۔ تمہارے اور ان کے درمیان کتنی دُوری ہے؟ دُنیا تم پر حکمرانی کر رہی ہے جبکہ وہ دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔ پس تم دُنیا کے غلام ہو جبکہ وہ اِس کی غلامی سے آزاد تھے۔ ان کے پاس سفرِ آخرت کا زادِ راہ تھا اس لئے اُنہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑی۔ انہوں نے زمانے کی قدر جانی تو زندگی میں ہو شیار رہے۔ اگر تم سحری کے وقت ان کا دیدار کرو توانہیں ہدایت کے ستارے پاؤ گے۔ نہیں، بلکہ وہ تو ہدایت کے چاند ہیں جو رات کی تاریکی میں بارگاہِ الٰہی میں کھڑے ہوکر عذر پیش کرتے رہتے ہیں جبکہ تم نیند اورغفلت کے طوفانی سمندروں میں ڈوبے ہوئے ہو۔