بات دوزخ میں اوندھے منہ گرائے گی

logomaqbooliya

بات دوزخ میں اوندھے منہ گرائے گی

حضرت سیِّدُناعُبادہ بن صامِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک روز گھر سے باہَر تشریف لائے اور ُسواری پرسُوار ہوئے توحضرت سیِّدُنامُعاذبن جَبَل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:کون ساعمل سب سے افضل ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مبارک منہ کی طرف اشارہ کرکے ارشادفرمایا:’’نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا۔‘‘عرض کی:ہم زبان سے جوکچھ بولتے ہیں کیااس پراللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہماری پکڑ فرمائے گا؟ تو سرکارِ دوجہانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشادفرمایا:’’اے مُعاذ! تمہیں تمہاری ماں روئے!(۲)زبانوں کاکہا ہوا ہی لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔پس جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ اچھی بات کرے یا بُری بات سے خاموش رہے۔(پھرارشاد فرمایا:)اچھی بات کہو فائدے میں رہو گے اور بُری باتوںسے خاموش رہو سلامت رہو گے۔‘‘(۳)

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
2… اس کاظاہری معنیٰ تویہ ہیں کہ’’ تمہیں موت آجائے‘‘ مگراہلِ عرب یہ جملہ ادب سکھانے، غفلت سے بیدارکرنے اوراپنی بات کی اہمیت وعظمت بیان کرنے کے لئے بولاکرتے تھے۔
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الایمان،الفصل الاول،۱/ ۱۹۶،تحت الحدیث:۲۹)
3… مستدرک حاکم،کتاب الادب،قولواخیراتغنموا۔۔۔الخ،۵/ ۴۰۷، حدیث:۷۸۴۴،بتغیرقلیل