حکام کے ظلم پر صبر کرنا

logomaqbooliya

حکام کے ظلم پر صبر کرنا
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں سے یہ بھی تھا کہ وہ حاکموں کے ظلم پر نہایت صبر کرتے تھے اور بڑے استقلال سے ان کی تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تکالیف ہمارے گناہوں کی بہ نسبت بہت کم ہیں ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے کہ حجاج ثقفی خدا کی طرف سے ایک آزمائش تھا جو بندوں پر گناہوں کے موافق آیا ۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۲)
سیدنا امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے: ’’ اذا ابتلیت بسلطان جائر فخرقت دینک بسببہ فرقعہ بکثرۃ الاستغفارلک ولہ ایضًا‘‘ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۲)
کہ جب تجھے ظالم بادشاہ کے ساتھ ابتلاء واقع ہوجائے اور اس کے سبب سے تیرے دین میں نقصان پیدا ہوجائے تو اس نقصان کا کثرت استغفار کے ساتھ تدارک کر اپنے لئے اور اس ظالم بادشاہ کے لئے ۔

ہارون رشید نے ایک شخص کو بے جاقید کیا تو اس شخص نے ہارون رشیدکی طرف لکھا اے ہارون! جو دن میری قید اور تنگی کا گزرتا ہے اسی کے مثل تیری عمر اور نعمت کا دن بھی گزر جاتاہے امر قریب ہے اور اللہ تَعَالٰی میرے اور آپ کے درمیان ہے جب ہارون نے یہ رقعہ پڑھا اسے رہا کردیا اس پر اور بہت احسان کیا ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳)
حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس لوگ کچھ مال لے کر آئے اور کہا کہ بادشاہ نے یہ مال بھیجا ہے کہ آپ محتاجوں پر تقسیم کردیں ۔ آپ نے وہ سب مال واپس کردیا اور فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی جب ظالم سے حساب لے گا کہ یہ مال کیسے حاصل کیا تو وہ کہہ دے گا کہ میں نے ابراہیم کو دے دیا تو میں خواہ مخواہ جواب دہ بن جاؤں گا اس لئے جس نے یہ مال جمع کیا ہے وہی تقسیم کرنے کے لئے اَولیٰ ہے۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳ملخصاً)
حضرت مالک بن دینا ررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ توریت شریف میں اللہ تَعَالٰی نے فرمایا ہے کہ بادشاہوں کے دل میرے قبضے میں ہیں جو میری اطاعت کرے گا میں اس کے لئے بادشاہوں کو رحمت بناؤں گا اور جو میری مخالفت کرے گا اس کے لئے ان کو عذاب بناؤں گا پھر تم بادشاہوں کو برا کہنے میں مشغول نہ ہو بلکہ میری درگاہ میں توبہ کرو میں ان کو تم پر مہربان کردوں گا ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳)
میں کہتا ہوں حدیث شریف میں بھی یہ مضمون آیا ہے ۔ مشکوٰۃ شریف کے ص۳۱۵ میں ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرمایا رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

نے کہ حق سبحانہ ارشاد فرماتا ہے:’’ انا اللّٰہ لا الہ الا انا مالک الملوک وملک الملوک قلوب الملوک فی یدی وان العباد اذا اطاعونی حولت قلوب ملوکھم علیھم بالرحمۃ والرافۃ وان العباد اذا عصونی حولت قلوبھم بالسخطۃ والنقمۃ فساموھم سوء العذاب فلا تشغلوا انفسکم بالدعاء علی الملوک ولکن اشغلوا انفسکم بالذکر والتضرع کی اکفیکم ملوککم‘‘ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ. (مشکاۃالمصابیح، کتاب الامارۃوالقضائ، الفصل الثالث، الحدیث:۳۷۲۱، ج۲، ص۱۲)
میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ۔ بادشاہوں کے دل میرے دستِ قدرت میں ہیں ۔ جب لوگ میری تابعداری کریں میں بادشاہوں کے دلوں میں رحمت اور نرمی ڈال دیتا ہوں اور جب میری مخالفت کریں تو ان کے دلوں کو عذاب اور غضب کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ ان کو سخت ایذائیں دیتے ہیں ۔ تو لوگوں کو چاہیے کہ بادشاہوں کو برا کہنے میں مشغول نہ ہوں بلکہ ذکراور عاجزی اختیار کریں پھر بادشاہوں کی طرف سے میں کافی ہوجاؤں گا ۔یعنی وہ رعایا کے ساتھ سلوک و محبت سے پیش آئیں گے ۔ اس حدیث میں ایسے موقعہ پر جو علاج حق سبحانہ نے فرمایا ہے افسوس کہ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ اس کا خلاف کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی چیخ و پکار میں کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ حضرات صوفیہ کثرہم اللہ تَعَالٰی نے اس حدیث پر عمل کیااورحق سبحانہ کے فرمودہ علاج میں شب و روز مشغول ہیں ۔ مسلمانوں کو اصلی معنوں میں مسلمان بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔تو یہی حضراتِ صوفیہ لوگوں کو ذکر الٰہی میں مشغول رکھتے ہیں اور اسی کی ترغیب دیتے ہیں تضرع وزاری کا سبق پڑھاتے ہیں کامل مؤمن بناتے ہیں ۔ تاکہ حق سبحانہ و تَعَالٰی

بادشاہوں کے دلوں میں ان کی محبت و رحمت ڈال دے ۔ اس حدیث کا یہی مقصود ہے ۔ مگر افسوس کہ فی زمانہ لیڈرانِ قوم حضراتِ صوفیہ صافیہ کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ان کی نسبت بد ظنیاں ڈالتے ہیں کہ یہ لوگ خاموش بیٹھے ہیں میدان میں نہیں نکلتے حالانکہ یہی لوگ ہیں جو اس مرض کی اصلیت کو معلوم کرکے اس کے علاج میں مشغول ہیں ۔جلعنی اللّٰہ منھم ۔ امین ۔
عبدالملک بن مروان اپنی رعیت کوفرمایا کرتے تھے: لوگو! تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارے ساتھ ابوبکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سیرت اختیار کریں لیکن تم اپنی سیرت ان کی رعیت کی سیرت و خصلت کی طرح نہیں بناتے تم ان کی رعیت کی طرح ہوجاؤ ہم بھی تمہارے ساتھ ابو بکر و عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سا معاملہ کریں گے ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۳)
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے عالموں کو پایا ہے جو اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے کو افضل سمجھتے تھے ۔ آج علماء امیروں کے وزیر اور ظالموں کے داروغے بن گئے ہیں ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴ملخصًا)
حضرت عطاء بن ابی رباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کسی نے پوچھا کہ کوئی شخص کسی ظالم کا منشی ہو تو کیا جائز ہے ؟ فرمایا کہ بہتر ہے کہ ملازمت چھوڑدے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی تھی:
فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ (پ۲۰، القصص:۱۷)
کہ میں مجرموں کا مددگار ہرگز نہ ہوں گا ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)

حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ والیوں اور حاکموں کی طر ف سے ان کو عطیات ملیں گے ان کی قیمت ان کا دین ہوگا ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)
یعنی لوگ دین دے کر حکام کے عطیات حاصل کریں گے ۔
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جو شخص ظالم کے سامنے ہنسے یا اس کے لئے مجلس میں جگہ فراخ کرے یا اس کا عطیہ لے لے ، تو اس نے اسلام کی رسی کو توڑ ڈالا اور وہ ظالموں کے مددگاروں میں لکھاجاتا ہے ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)
حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اکثر گھر میں بیٹھے رہتے تھے لوگوں نے دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میں نے اس لئے گھر بیٹھے رہنے کو پسند کیا ہے کہ رعیت خراب ہوگئی ہے سنت جاتی رہی بادشاہوں اور امیروں میں ظلم کی عادت ہوگئی ہے جو شخص اپنی اولاد اور غلام میں اقامت حق میں فرق کرے وہ ظالم ہے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴، ملخصًا)
حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جب امیر دُبلا ہونے کے بعد موٹا ہوجائے تو جان لو کہ اس نے رعیت کی خیانت کی اور اپنے رب کی خیانت کی ۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۴)
حضرت ابو العالیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک دن رشید کے پاس آئے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچتے رہنا کہ اللہ تَعَالٰی مظلوم کی دعا ردنہیں کرتااگر چہ وہ فاجر ہو ۔ ایک روایت میں ہے اگرچہ وہ کافر ہو ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، صبرہم علی جور الحکام، ص۴۵)
یعنی مظلوم کوئی بھی ہو اس کی آہ سے بچنا چاہیے۔