مسدسات تمہید ذِکرِ معراج شریف

logomaqbooliya

مسدسات
تمہید ذِکرِ معراج شریف

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
جوشِ عطش بھی شدتِ سوزِ جگر بھی ہے
کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر بھی ہے
ایسا عطا ہو جام شرابِ طہور کا
جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سُرور کا
اب دیر کیا ہے بادۂ عرفاں قوام دے
ٹھنڈک پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے
تازہ ہو رُوح پیاس بجھے لطفِ تام دے
یہ ِتشنہ کام تجھ کو دعائیں مُدام دے
اُٹھیں سُرور آئیں مزے جھوم جھوم کر
ہو جاؤں بے خبر لب ساغر کو چوم کر

فکر بلند سے ہو عیاں اِقتدارِ اَوج
چہکے ہزار خامہ سرِ شاخ سارِ اَوج
ٹپکے گلِ کلام سے رنگِ بہارِ اَوج
ہو بات بات شانِ عروج اِفتخارِ اَوج
فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں
مضموں فرازِ عرش سے اُونچے نکل چلیں
اس شان اس ادا سے ثنائے رسول ہو
ہر شعر شاخِ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو
حضار پر سحابِ کرم کا نزول ہو
سرکار میں یہ نذرِ محقر قبول ہو
ایسی تَعَلِّیوں سے ہو معراج کا بیاں
سب حاملانِ عرش سنیں آج کا بیاں

معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے
فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے
ہم تیرہ اَختروں کی شفاعت کی رات ہے
اعزازِ ماہِ طیبہ کی رُویت کی رات ہے
پھیلا ہوا ہے سرمۂ تسخیر چرخ پر
یا زُلف کھولے پھرتی ہیں حوریں اِدھر اُدھر
دِل سوختوں کے دِل کا سویدا کہوں اسے
پیرِ فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اسے
دیکھوں جو چشم قیس سے لیلیٰ کہوں اسے
اپنے اندھیرے گھر کا اُجالا کہوں اُسے
یہ شب ہے یا سوادِ وطن آشکار ہے
مشکیں غلافِ کعبۂ پروَردَگار ہے

اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا
کوئی گلیم پوش مراقب ہے باخدا
مشکیں لباس یا کوئی محبوب دلربا
یا آہُوئے سیاہ یہ چرتے ہیں جابجا
اَبرِ سیاہ مست اُٹھا حالِ وَجد میں
لیلیٰ نے بال کھولے ہیں صحرائے نجد میں
یہ رُت کچھ اَور ہے یہ ہوا ہی کچھ اَور ہے
اب کی بہارِ ہوش رُبا ہی کچھ اَور ہے
رُوئے عروسِ ُگل میں صفا ہی کچھ اَور ہے
چبھتی ہوئی دلوں میں ادا ہی کچھ اَور ہے
گلشن کھلائے بادِ صبا نے نئے نئے
گاتے ہیں عندلیب ترانے نئے نئے

ہر ہر گلی ہے مشرقِ خورشید نور سے
لپٹی ہے ہر نگاہ تجلیٔ طور سے
رُوہت ہے سب کے منہ پہ دلوں کے سرور سے
مردے ہیں بے قرار حجابِ قبور سے
ماہِ عرب کے جلوے جو اُونچے نکل گئے
خورشید و ماہتاب مقابل سے ٹل گئے
ہر سمت سے بہار نواخوانیوں میں ہے
نیسانِ جودِ رب گہر اَفشانیوں میں ہے
چشم کلیم جلوے کے قربانیوں میں ہے
غل آمَدِ حضور کا رُوحانیوں میں ہے
اِک دُھوم ہے حبیب کو مہماں بلاتے ہیں
بہرِ براق خلد کو جبریل جاتے ہیں