موت کی سختیاں

logomaqbooliya

موت کی سختیاں

حمد ِباری تعالیٰ:

تمام تعریفیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جو بلند وبالا اور بزرگی والا ہے، سب خوبیوں والا ہے، پیدا کرنے والا اور لوٹانے والا ہے، اپنے ارادے کو پورا کرنے والا ہے، اپنے جلالِ کبریائی میں یکتاہے، جس کی کوئی کیفیت وحد بندی نہیں،اس کے ملک کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا، اس نے تمام انسانوں کو پیدا فرمایا اور ہدایت کی طرف رہنمائی کے لئے ان کو صحیح راستوں پر چلایا، اور انہیں اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا اور ہمیشہ کی زندگی اور نعمتوں والی جنت کی بشارت عطا فرمائی، نگاہِ عبرت عطافرمائی، اورعذابِ جہنم اور وعیدوں کے ذریعے اسے ڈرایا اور انسان پر اپنا شکر اد اکرنا لازم فرمایا اور انہیں اپنے مزید فضل وکرم کی ضمانت عطافرمائی اور ان پر موت مقرر کردی پس اس سے کسی کو چھٹکارا نہیں اور نہ ہی بھاگنے کی کوئی جگہ ہے۔اس نے کتنے دوستوں کو اپنے دوستوں کی جدائی پر رلایا؟ کتنے بچوں کو یتیم کیااور انہیں آہ وبکا اور گریہ وزاری میں مبتلا فرمایا؟وہ انسان کو موت دینے کے بعد نہ ظاہر کرتا ہے نہ واپس لوٹاتا ہے، اس نے اہلِ دنیا پر موت مقرر فرمائی اور ہر آزاد وغلام کو تقدیر کے تیروں کا ہدف بنایا، اورچاند کی منازل کو اس سے دُور کر دیا، اور طائر ِ روح کو قفسِ عنصری سے جداکردیا۔انسان کو زندگی کی لذت کے بدلے قبر کی بے کیف ومکدر زندگی دی۔ پس بادشاہ اور محتاج وغنی سب کے سب فقر اور موت میں برابر ہیں ۔
پاک ہے وہ ذات جس نے ہر جابرو سرکش کو موت کی ذلت میں گرفتار کیااورہر باطل پرست کو توڑدیا، ان کووسیع محلوں سے تنگ قبرمیں ڈال دیا ،ان کی لمبی مدت کی رسی کو کاٹ کران کے آباء و اجداد کو ا ن سے لے لیا اور بچوں کو پنگھوڑوں سے اٹھایا اورقبر کو ان کا ٹھکانہ بنا دیا۔ ان کے چہرے مِٹی میں مل گئے، موت کے معاملے میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، آقا وغلام اور بچے سب برابر ہیں، اس سے مردوں عورتوں کا ذکر بھی خاموش ہوگیا۔پس وہ قیامت تک قبروں کی قید میں رہیں گے۔ کیا عقلمند ان کی ہلاکت سے عبرت حاصل نہیں کرتا۔ تمام لوگ تنہا کوٹھڑی میں چلے گئے، کہاں گئے بڑے بڑے شہروں اور مضبوط قلعوں والے! کہاں گئے طرح طرح کے فنون میں مہارت رکھنے والے! کہاں گئے مضبوط حصاروں میں بند اور مضبوط محلات میں محفوظ رہنے والے! اب تو ان میں مضبوط ترین اور طاقتور لوگ قبر کی تاریکی میں اکیلے پڑے ہیں۔ کیا انہیں بزرگی والے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان نے نہیں ڈرایا: ”وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾ ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔”(پ۲۶،ق:۱۹)
اے موت سے غافل انسان!دیکھ تو سہی! تیری مضبوط عمر کا ایک حصہ گزر چکا ہے ۔ کب تک تو غفلت کی نیند سوتا رہے گا؟کیا تجھے وعدے نے جوش نہیں دلایا یا وعید سے تجھے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ پیدا نہ ہوا؟ کیا تو نے عزت و بزرگی والے پروردگار عَزَّوَجَلَّ

کا یہ فرمان نہیں سنا : ”وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾ ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔”(پ۲۶،ق:۱۹)

آیتِ مبارکہ کی تفسیر:

” وَجَآءَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ’ سے مراد نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبانِ مبارک پرکیا گیا اللہ عزَّوَجَلَّ کا وعدہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ملک الموت علیہ السلام کااپنے لشکر کے ساتھ ظاہر ہونا، آسمان کا شق ہونا اور بندے کو معلوم ہو جاناکہ اس کا ٹھکانہ جنت میں ہو گا یا جہنم میں۔یہ سب کچھ نزع کے وقت ہوتاہے ۔ اور یہ حق ہے جس کو نبئ پاک، صاحب ِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایمان بالغیب میں بیان فرمایا۔ پھر اس کے بعدقبر میں نکیرَین(یعنی منکر نکیر) کاسوال کرنا۔ جب میت کو قبر میں اُتارا جاتاہے تو سب سے پہلی سختی یہی ہوتی ہے۔ سَکْرَۃُ الْمَوْت میں سَکْرَۃٌ جنس کوشامل اسمِ مفرد ہے (یعنی موت کی ہر قسم کی سختی) کیونکہ موت کی سختیاں بہت زیادہ ہیں۔
جب حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مرضِ موت میں مبتلا ہوئے تو ارشاد فرمایا:ـ ـ”موت کی بہت سختیاں ہیں۔”

(صحیح البخاری ،کتاب الرقاق ، باب سکرات الموت، الحدیث۶۵۱0، ص۵۴۶)

ہر شخص پر موت کی سختیاں اس کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے مطابق ہوں گی۔ ان سختیوں کو سَکْرَۃٌ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے ظہور کے وقت عقلیں زائل ہو جاتی ہیں تو انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ نشے میں مدہوش شخص ہوتا ہے کیونکہ موت کے وقت بندے پر اس کے اچھے بُرے اعمال ظاہر ہوجاتے ہیں جن کے مطابق اس کو جزا ملے گی۔ پس غیبت کرنے والے کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جائیں گے اور غیبت سننے والے کے کانوں میں جہنم کی آگ بھر دی جائے گی، ظالم کی روح ہر مظلوم پرتقسیم کردی جائے گی ،حرام کھانے والے کے لئے کھانے میں زقوم (یعنی جہنم کے ایک کانٹے دار درخت کا انتہائی کڑوا پھل) دیا جائے گا۔ اسی طرح نزع کی سختیوں کے وقت بندے پر اس کے دیگر اعمال بھی ظاہر ہو جائیں گے اور میت پر تمام سختیاں ایک ایک کرکے گزریں گی۔ آخری سختی گزرتے وقت اس کی روح قبض ہوجائے گی۔ اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے ارشاد ”ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ” کا مطلب یہ ہے کہ ”لمبی اُمیدوں اور دنیا میں ہمیشہ رہنے کی حرص کے ساتھ تو موت سے بھاگتا تھا۔”