کیا نکاح میں گواہوں کا ہونا شرط ہے ،کیا صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح ہو جاتا ہے؟ گواہ اگر دوسرے ملک کے ہوں اور یہاں کی زبان نہ سمجھتے ہوں تو کیا ان کے سامنے ایجاب و قبول ہو جائے گا؟

سوال: کیا نکاح میں گواہوں کا مسلمان ہونا شرط ہے؟📖🌻
جواب: مسلمان مرد کا نکاح مسلمان عورت کے ساتھ ہے تو گواہوں کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے ، لہذٰا مسلمان مرد و عورت کا نکاح کافر کی شہادت سے نہیں ہو سکتا اور اگر کتابیہ (یعنی یہودی یا عیسائی عورت) سے مسلمان مرد کا نکاح ہو تو اس نکاح کے گواہ ذمی کافر بھی ہو سکتے ہیں۔ (بہار شریعت)📚🌹

سوال: کیا صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح ہو جاتا ہے؟💛❤️💚
جواب: صرف عورتوں یا خنثٰے کی گواہی سے نکاح نہیں ہو سکتا جب تک ان میں کے دو کے ساتھ ایک مرد نہ ہو۔(بہارشریعت)*📚
مسلمان کا نکاح اگر ذمیہ سے ہوا اور گواہ بھی ذمی تھے ، تو اگر مسلمان نے نکاح سے انکار کر دیا تو ان ذمیوں کی گواہی سے نکاح ثابت نہ ہو گا۔(در مختار)📖💟🌻

سوال: اگر گواہ دوسرے ملک کے ہیں کہ یہاں کی زبان نہیں سمجھتے تو ان کے سامنے ایجاب و قبول کرنے سے کیا نکاح ہو جائے گا؟❤️📖
جواب: گواہ دوسرے ملک کے ہیں کہ یہاں کی زبان نہیں سمجھتے ،تو اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ نکاح ہو رہا ہے اور الفاظ بھی سنے اور سمجھے یعنی وہ الفاظ زبان سے ادا کر سکتے ہیں ،اگرچہ ان کے معنی نہیں سمجھتے نکاح ہو گیا۔ (ردالمختار)*💜🌻