کبيرہ نمبر140: ماہِ رمضان کا کوئی روزہ چھوڑدينا کبيرہ نمبر141: ماہِ رمضان کا کوئی روزہ توڑدینا

logomaqbooliya

کبيرہ نمبر140:        ماہِ رمضان کا کوئی روزہ چھوڑدينا
کبيرہ نمبر141:        ماہِ رمضان کا کوئی روزہ توڑدینا
یعنی کسی عذر مثلاًسفر اور مرض کے بغير رمضان المبارک کا کوئی روزہ چھوڑ دینا یا کسی مفسدِ صوم چيز کے ذريعے روزہ توڑ دينا
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اسلام کے کڑے اور دين کے 3ستون ہيں جن پر اسلام کی بنياد قائم ہے، جس نے ان ميں کسی ايک کو ترک کيا وہ کافر ہے اس کا خون حلال ہے: (۱)اس بات کی گواہی دينا کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہيں، (۲)فرض نماز اور (۳)رمضان المبارک کے روزے۔”
     (مسند ابی یعلیٰ الموصلی ، الحدیث: ۲۳۴۵،ج۲،ص۳۷۸)
(2)۔۔۔۔۔۔جبکہ ايک اور روايت ميں ہے :”جس نے ان ميں سے کسی ايک کو چھوڑا وہ اللہ عزوجل کا منکر ہے اور اس کی کوئی فرض يا نفل عبادت مقبول نہيں اور اس کا خون اور مال حلال ہے۔”
(الترغیب والترہیب ، کتاب الصلوۃ ، باب الترہیب من ترک الصلوٰۃ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۸۲۱،ج۱،ص۲۵۹)
(3)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کسی رخصت اور مرض کے بغير رمضان المبارک کا ايک روزہ چھوڑا وہ ساری زندگی کے روزے رکھے تب بھی اس کی کمی پوری نہيں کر سکتا۔”
(جامع الترمذی،ابواب الصوم ، باب ماجاء فی الافطارمتعمداً ،الحدیث: ۷۲۳،ص۱۷۱۸)
(4)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاًروايت ہے :”جس نے رمضان المبارک کے ايک دن کا روزہ کسی عذريا مرض کے بغير توڑ دیا اگرچہ و ہ ساری زندگی کے روزے رکھے اس کی کمی پوری نہيں کر سکتا۔” (صحیح البخاری، کتاب الصوم ، باب(۲۹) اذا جامع فی رمضان،ص۱۵۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(5)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناعلی المرتضی اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں:”جس نے رمضان المبارک کے ايک دن کا روزہ توڑ دیا ساری زندگی کے روزے اس کی کمی پوری نہيں کر سکتے۔”   (المرجع السابق)
  سیدناامام نخعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس ميں مبالغہ کرتے ہوئے رمضان المبارک کاايک روزہ چھوڑنے والے پر 3000دنوں کے روزے واجب ہونے کاقول فرمایا، جبکہ حضرت سیدنا ابن مسيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ اس پر رمضان المبارک کے ہر دن کے عوض 30دن کے روزے واجب ہيں، حضرت سیدنا امام مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے استاذ سیدنا ربيعہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :”ہر دن کے عوض 12دن کے روزے رکھنا واجب ہے۔”جبکہ اکثر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا ہے :”ہر دن کے بدلے ایک ہی روزہ کافی ہے اگرچہ وہ سال کے سب سے چھوٹے دن کا روزہ ہی کيوں نہ ہو جيسا کہ اللہ عزوجل کے فرمان سے ظاہر ہے:
فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ
ترجمۂ کنز الايمان :تو اتنے روزے اور دنوں ميں۔(پ2، البقرۃ:184)
(6)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”ميں سو رہا تھا اچانک ميرے پا س دو شخص آئے، انہوں نے مجھے ميرے بازو سے تھاما اور ايک بلند پہاڑ کے پاس لے آئے اور بولے”اوپر تشريف لے چليں۔” ميں نے کہا:”ميں اس کی طاقت نہيں رکھتا۔”وہ بولے :”ہم اسے آپ کے لئے آسان کر ديں گے۔” لہذا ميں اوپر چڑھنے لگا يہاں تک کہ جب ميں پہاڑکے درمیان پہنچا تو خوفناک آوازيں آنے لگيں، ميں نے پوچھا:”يہ آوازيں کيسی ہيں؟” انہوں نے جواب ديا:”يہ جہنميوں کے چيخنے کی آوازیں ہيں۔” پھر وہ مجھے لے کر ايسے لوگوں کے پاس آئے جوگُھٹنوں کے بل لٹکے ہوئے تھے، ان کے جبڑوں سے خون بہہ رہا تھا، ميں نے پوچھا”يہ لوگ کون ہيں۔”جواب ملا :”يہ وہ لوگ ہيں جو روزہ افطارکرنے کاجائز وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار کر ليتے تھے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح ابن خزیمہ ، کتاب الصیام، باب ذکر تعلیق المفطرین قبل وقت۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۸۶،ج۳،ص۲۳۷)
(7)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل نے اسلام ميں 4چيزيں فرض فرمائی ہيں، جس نے ان ميں سے 3پر عمل کيا تو وہ اسے کسی کام نہ آئيں گی جب تک کہ وہ ان تمام کو ادا نہ کرے: (۱)نماز(۲)زکوٰۃ (۳)رمضان المبارک کے روزے اور (۴)بيت اللہ شریف کا حج۔” (المسندللامام احمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۸۰۴،ج۶،ص۲۳۶)
(8)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے حضر (یعنی قیام کی حالت) ميں رمضان المبارک کا ايک روزہ افطار کيا اسے چاہے کہ ايک گائے قربان کرے۔” (سنن الدارقطنی ، کتاب الصیام ، باب القبلۃ للصائم، الحدیث :۲۲۸۵،ج۲،ص۲۴۲)

تنبیہ:

  علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصريح کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے اور اس کی دليل اوپر مذکور ہو چکی ہے اور اس سے يہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ واجب جس کے وقت ميں تنگی ہو يعنی جس کا کوئی مخصوص وقت مقرر ہو مثلاًمنت کا روزہ تو اسے بھی بغير عذر توڑ دینا کبيرہ گناہ ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  ياد رکھیں! اس سے يہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کی وعیدوں کے روزے کی وعيدوں سے زیادہ آنے کی حکمت يہ ہے کہ کوئی شخص قدرت کے باوجود سستی کرتے ہوئے اسے ترک نہيں کرتا جبکہ اکثرلوگ نماز اور زکوٰۃ میں سستی کرتے ہيں حالانکہ وہی لوگ روزوں کی پابندی کرتے ہيں اس لئے آپ نے بہت سے لوگوں کو ديکھا ہو گا کہ وہ روزہ رکھتے ہيں مگر نماز نہيں پڑھتے اور بہت سے ايسے ہوتے ہيں جو رمضان المبارک کے علاو ہ نماز پڑھتے ہی نہيں۔