کبيرہ نمبر161: قربانی کے جانورکی کھال بيچنا

logomaqbooliya

(1)۔۔۔۔۔۔رسول کریم،رؤف رحیم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے قربانی کی کھال بيچ دی اس کی کوئی قربانی نہيں۔”
 (المستدرک،کتاب التفسیرسورۃ الحج، باب التشدید فی ا مر الاضحیۃ ،الحدیث:۳۵۲۰،ج۳ ،ص۱۴۹)

تنبیہ:

  اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا اگرچہ ميں نے کسی کو اس کی تصريح کرتے ہوئے نہيں ديکھا مگر حدیثِ پاک کا ظاہری معنی اس کے کبيرہ ہونے پر دلالت کرتا ہے کيونکہ کھال بيچنے کی وجہ سے قربانی کی نفی کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عظيم عبادت کا ثواب بالکل باطل کرنے کی وجہ سے اس ميں شديد وعيد پائی جا رہی ہے۔
  جيسا کہ موضوع نفی کا ظاہراس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قربانی کی بھی سرے سے نفی ہے اور يہ اس بات کی تائيد ہے کہ وہ کھال قربانی کے ساتھ ہی اس کی مِلک سے نکل جاتی ہے اور فقراء کی ملکيت بن جاتی ہے، پس جب وہ اس کا والی بنا اور اسے بيچا تو وہ غير کے حق کو غصب کرنے والا ہوا اور عنقريب آئے گا کہ غصب کبيرہ گناہ ہے اور يہ بھی غصب ہی کی ايک صورت ہے، پس اسے کبيرہ شمار کرنا واضح ہو گيااور قصاب کو بطور اُجرت قربانی کی کھال دينے کو بھی اسی سے ملاناچاہے کيونکہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے تصريح فرمائی ہے کہ يہ بھی اسے بيچنے کی طرح حرام ہی ہے اور جس طرح بیچنے ميں اس کا غصب ہوناپايا جا رہا ہے، جيسا کہ ثابت ہو چکا، اسی طرح قصاب کو بطورِ اُجرت دينے ميں اس کا اسی طرح کبيرہ گناہ ہونا بعيد نہيں۔۱؎


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔۱؎:احناف کے نزديک:”قربانی کا چمڑا اور اس کی جھول اور رسی اور اس کے گلے میں ہار ڈالا ہے وہ ہار اور ان سب چیزوں کو صدقہ کر دے۔قربانی کے چمڑے کو خود بھی اپنے کام میں لاسکتا ہے یعنی اس کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کسی کام میں لاسکتا ہے مثلاًاس کی جانمازبنائے،چلنی، تھیلی، مشکیزہ، دسترخوان، ڈول وغيرہ بنائے يا کتابوں کی جلدوں میں لگائے یہ سب کرسکتا ہے۔     (درمختار،کتاب الاضحیۃ،،ج۹،ص۵۴۳)
٭۔۔۔۔۔۔ چمڑے کا ڈول بنایا تواسے اپنے کام میں لائے اُجرت پر نہ دے اور اگر اُجرت پر دے دیا تو اس اُجرت کو صدقہ کرے۔
(رد المحتار،کتاب الاضحیۃ،ج۹،ص۵۴۳)
٭۔۔۔۔۔۔قربانی کے چمڑے کو ایسی چیزوں سے بدل سکتا ہے جس کو باقی رکھتے ہوئے اس سے نفع اٹھایا جائے جیسے کتاب۔ایسی چیز سے بدل نہیں سکتا جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جاتا ہو جیسے روٹی،گوشت،سرکہ،روپیہ،پیسہ اور اگر اس نے ان چیزوں کو چمڑے کے عوض میں حاصل کیا توان چیزوں کو صدقہ کردے۔    (در مختار،کتاب الاضحیۃ،ج۹،ص۵۴۳)
٭۔۔۔۔۔۔اگر قربانی کی کھال کو روپے کے عوض میں بیچا مگراس لئے نہیں کہ اس کو اپنی ذات پر یا بال بچوں پر صرف کریگا بلکہ اس لئے کہ اسے صدقہ کر دے گا تو جائز ہے۔         (فتاوی عالمگیری،کتاب الاضحیۃ،الباب السادس فی بیان مایستحب ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۰۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔جیسا کہ آج کل اکثر لوگ کھال مدارس دینیہ میں دیا کرتے ہیں اور بعض مرتبہ وہاں کھال بھیجنے میں دِقت ہوتی ہے اسے بیچ کر روپیہ بھیج دیتے ہیں یاکئی شخصوں کودینا ہوتا ہے اسے بیچ کر دام ان فقراء پر تقسیم کر دیتے ہیں یہ بیع جائز ہے اس میں حرج نہیں اور حدیث میں جو اس کے بیچنے کی ممانعت آئی ہے اس سے مراداپنے لئے بیچنا ہے۔قربانی کاچمڑایاگوشت یا اس میں کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اُجرت میں نہیں دے سکتاکہ اس کواُجرت میں دینا بھی بیچنے ہی کے معنی میں ہے۔        (الہدایۃ،کتاب الاضحیۃ،باب علی من تجب الاضحیۃ،ج۴،ص۳۶۱)
  قربانی کے جانورکے متعلق مزيدتفصيلات کے لئے بہارشريعت حصہ15”قربانی کے جانورکابيان” اور شیخ طریقت، امیر اہلسنّت، بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطا ؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ ”اَبلق گھوڑے سوار ” کامطالعہ فرمائيں۔