کبیرہ نمبر3: ناحق غصہ کرنا، دل میں کینہ رکھنا اورحسد کرنا

logomaqbooliya

  یہ تینوں چونکہ ایک دوسرے کولازم وملزوم ہيں یعنی ان کا ایک دوسرے سے تعلق ہے کیونکہ حسد کینے کا نتیجہ ہے اور کینہ غصے کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ایک ہی بدخصلت کی طرح ہوئے، اس لئے میں نے انہیں ایک ہی عنوان کے تحت جمع کر دیا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی مذمت دوسرے کی مذمت کو لازم ہے، کیونکہ فرع کی مذمت در حقیقت اصل کی مذمت ہے اور اصل کی مذمت فرع کی مذمت ہے۔اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِذْ جَعَلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْحَمِیَّۃَ حَمِیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ فَاَنۡزَلَ اللہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی وَ کَانُوۡۤا اَحَقَّ بِہَا وَ اَہۡلَہَا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: جب کہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑرکھی وہی زمانہ جاہلیت کی اڑ(ضد) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اُتا ر ا اور پر ہیز گا ر ی کا کلمہ ان پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔ (پ26، الفتح:26)
  اس آیت مبارکہ میں اللہ عزوجل نے ناحق غصہ کے سبب صادر ہونے والی نخوت ومروّت ظاہر کرنے پر کفار کی مذمت فرمائی اور مسلمانوں کو نخوت ومروّت سے بچانے والے اطمینان اورسکینہ نازل کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی مدح فرمائی ہے کہ انہوں نے پرہیز گاری کولازم پکڑلیا ہے،اس لئے وہ اس کے اہل اورمستحق ٹھہرے ہیں۔
  ایک دوسری جگہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اَمْ یَحْسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان: یالوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔(پ5، النسآء:54)
(1)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور چونکہ شیطان آگ کی پیدائش ہے اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہے کہ وہ غسل کرے۔”
          (جامع الاحادیث،الحدیث:۱۴۶۸۵،ج۶،ص۲۵۳)
(2)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”غصہ سے اجتناب کرو۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث رجل من اصحاب النبی،الحدیث:۲۳۵۲۸،ج۹،ص۱۲۳)
(3)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہے کہ اَعُوْذُ بِاللہ پڑھ لے اس کا غصہ ختم ہوجائے گا۔”
(الکامل فی ضعفاء الرجال، ج۶،ص۴۵۱،”احدکم” بدلہ ”رجل”)
(4)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموشی اختیار کرلینی چاہے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن العباس۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۱۳۶،ج۱، ص۵ ۱ ۵)
(5)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جب تمہیں غصہ آئے تو بیٹھ جایا کر و ۔ ”
      (جامع الاحادیث،الحدیث:۱۶۰۸،ج۱،ص۲۴۱)
(6)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے اس کا غصہ دور ہوجائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، الحدیث:۴۷۸۲،ص۱۵۷۵)
(7)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”غصہ شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو کھڑے ہوئے غصہ آئے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھے ہوئے آئے تو لیٹ جائے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ، باب الغضب، الحدیث:۷۷۲۲،ج۳،ص۲۱۰)
(8)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”جب تمہیں غصہ آئے تو بیٹھ جاؤ اگر پھر بھی رفع نہ ہو تو لیٹ جاؤ وہ جلد رفع ہوجائے گا۔”
 (جامع الاحادیث،الحدیث:۲۴۰۰،ج۱،ص۳۵۰)
(9)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم میں سب سے زیادہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت خود پر قابو پالے اورسب سے زیادہ بردبار وہ ہے جو طاقت کے باوجود معاف کر دے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۶۹۴،ج۳،ص۲۰۷)
(10)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ کی پیدا ئش ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرلیا کرے۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، الحدیث:۴۷۸۴،ص۱۵۷۵)
(11)۔۔۔۔تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بے شک جہنم میں ایک ایسا دروازہ ہے جس سے وہی شخص داخل ہوگا جس کا غصہ اللہ عزوجل کی نافرمانی پر ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۶۹۶،ج۳، ص۲۰۸)
(12)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہادر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تم میں سب سے بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر زیادہ قابو پانے والا ہے۔”
(مکارم الاخلاق للطبرانی،باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب، الحدیث:۳۷،ص۳۲۵)
(13)۔۔۔۔۔۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سختی برا شگون ہے اور نرمی برکت ہے۔”
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ، الحدیث:۷۶۹۸،ج۳،ص۲۰۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(14)۔۔۔۔۔۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”عنقریب میں تمہیں لوگوں کے معاملات اورا ن کی عادتوں کے بارے میں بتاؤں گا، ایک شخص کو غصہ جلدی آتاہے اور جلد ہی رفع ہو جاتا ہے یہ شخص نہ تو کسی کو نقصان پہنچاتا ہے نہ ہی کسی سے نقصان اٹھاتا ہے اور ایک شخص کو دیر سے غصہ آتا ہے مگر جلد رفع ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے نقصان دہ نہیں، ایک شخص اپنے حق کا تقاضا کرتا ہے تو غیر کا حق ادا بھی کردیتا ہے، اس کا یہ عمل نہ اسے نقصان دیتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو۔ اور ایک شخص اپنا حق تو طلب کرتاہے لیکن غیر کا حق ادا نہیں کرتا تو یہ اس کے لئے مضر ہے مفید نہیں۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۶۹۹،ج۳،ص۲۰۸ )
(15)۔۔۔۔۔۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”مکمل طور پر کسی کو پچھاڑ دینا یہ ہے کہ ایک شخص کو غصہ آئے اور پھر وہ بڑھتا ہی جائے یہاں تک کہ اس کا چہرہ سرخ ہو جائے اور بال کھڑے ہوجائیں لیکن پھر اس کا غصہ ہی اس شخص کو پچھاڑ دے(یعنی وہ اپنی اس حالت پر قابو پا لے)۔”
(المسند للامام احمدبن حنبل،احادیث رجال۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۱۷۶،ج۹،ص۴۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(16)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”کیاتم یہ سمجھتے ہو کہ بہادری پتھر اٹھانے میں ہے حالانکہ بہادر ی تو یہ ہے کہ تم میں سے کوئی غصہ سے بھر جائے اور پھر اپنے غصہ پر قابو پالے۔”
(کتاب الزھد لابن المبارک،باب اصلاح ذات البین ، الحدیث:۷۴۰،ص۲۵۶)
(17)۔۔۔۔۔۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کسی کو پچھاڑدینے والا بہادر نہیں ہوتا بلکہ بہادر تو وہ ہوتا ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔”
(صحیح البخاری ، کتاب الادب،باب الحذرمن الغضب ، الحدیث:۶۱۱۴،ص۵۱۶)
(18)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”لوگوں پر غالب آجانے والا بہادر نہیں بلکہ بہادر تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پرقابوپا لے۔”
(کشف الخفاء، باب حرف اللام ،الحدیث:۲۱۳۸،ج۲،ص۱۵۲)بدون” عندالغضب”
(19)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”پہلوان وہ نہیں جو کسی پر غالب آجائے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جواپنے نفس پر قابو پالے۔”
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۷۱۱،ج۳،ص۲۰۹)
(20)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” کیاتم جانتے ہو کہ بہادر کون ہے؟ بے شک کامل بہادر تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پرقابو پالے، کیا تم جانتے ہو کہ بانجھ کون ہے؟بانجھ تو وہ ہے جس کی اولاد تو ہو مگر وہ ان میں سے کسی کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہ کرے،کیاتم جانتے ہو کہ فقیر کون ہے؟ فقیر تو وہ ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر وہ اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجے۔”
(شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، التحریض علی صدقۃ التطوع ، الحدیث:۳۳۴۱،ج۳،ص۲۱۰)
(21)۔۔۔۔۔۔ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جہنم کاایک دروازہ ہے جس سے وہی لوگ داخل ہوں گے جن کا غصہ اللہ عزوجل کی ناراضگی پرہی ختم ہوتا ہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۷۰۳،ج۳،ص۲۰۸)
(22)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو اپنے غصہ کودور کرلے تو اللہ عزوجل اس سے اپنا عذاب دور فرمالیتا ہے اور جو اپنی زبان کی حفا ظت کرلے تو اللہ عزوجل اس کی پردہ پوشی فرما دیتا ہے۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث:۱۳۲۰،ج۱،ص۳۶۲)
(23)۔۔۔۔۔۔مروی ہے ،ایک صحابیِ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں نصیحت چاہتے ہوئے عرض کی: ”یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے وصیت فرمائیے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”غصہ نہ کیاکرو۔” پھر عرض کی: ”مجھے وصیت فرمائیے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ”غصہ نہ کیاکرو۔”
(صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب الحذرمن الغضب ، الحدیث:۶۱۱۶،ص۵۱۶،مفہوماً)
(24)۔۔۔۔۔۔ایک روایت میں ہے :”غصہ نہ کیا کرو کیونکہ غصہ فساد ڈالتاہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۷۰۶،ج۳،ص۲۰۸)
(25)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے :میں نے عرض کی: ”یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کسی چھوٹے سے عمل کا حکم دیجئے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”غصہ نہ کیاکرو۔” میں نے ا س عرض کو دہرایا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ”غصہ نہ کیا کرو۔”
   (المعجم الاوسط، الحدیث:۷۴۹۱،ج۵،ص۳۲۷،بتغیرٍ قلیلٍ)
(26)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ عالیشان میں عرض کی: ”یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور اس میں کمی فرمائیے گا شاید میں اس میں غورو فکر کر سکوں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”غصہ نہ کیا کرو۔” میں نے دافِعِ رنج و مَلال،
  گذشتہ صفحات میں گزراکہ حسد اور کینہ غضب کے نتائج ہیں، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب انسان کو غصہ آئے اور وہ اسے نافذ کرنے پر قدرت نہ پانے کی وجہ سے پی لے تو وہ( غصہ) باطن کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اس میں قرار پکڑ لیتا ہے پھر وہ کینہ اور حسد بن جاتا ہے، جس وقت انسان کے دل پراس غصے کا بوجھ اوربغض ہمیشہ کے لئے طاری ہوتاہے تو وہی اصل میں کینہ ہوتا ہے، اور اس کے نتائج یہ مرتب ہوتے ہيں کہ بندہ اپنے مغضوب (یعنی جس پر غصہ آیااس )سے حسد کرنے لگتا ہے یعنی اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کرکے اس نعمت سے خود نفع اٹھانا چاہتا ہے، یااس کی پریشانی پر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور اس سے جدائی اختیار کرکے تعلق توڑلیتا ہے، اور اگر وہ اس کے پاس آ جائے تو اس کی زبان اس کے بارے میں حرام کی مرتکب ہوتی ہے اوروہ اس کا مذاق اڑاتا، مسخری کرتا اور ایذا دیتا ہے، نیز اس سے اس کا حق روک لیتا ہے مثلا ًصلہ رحمی اور ظلم دور کرنا وغیرہ اور یہ تمام کام سخت گناہ اور حرام ہیں اور کینہ کاسب سے کم تر درجہ دین کو نقصان پہنچا نے والی ان آفا ت سے اِحتراز کرنا ہے۔ چنانچہ،


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(112)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مؤمن کینہ پرور نہیں ہوتا۔”

صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں مزید دو مرتبہ یہی کلمات دُہرائے مگر رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہر دفعہ یہی ارشاد فرمایا :” غصہ نہ کیا کرو۔”
  (مسند ابی یعلی موصلی، الحدیث:۵۶۵۹،ج۵،ص۱۳۲)
(27)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”غصہ نہ کرو تو تمہارے لئے جنت ہے۔”
   (المعجم الاوسط، الحدیث:۲۳۵۳،ج۲،ص۲۰)
(28)۔۔۔۔۔۔ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاویہ بن حیدہ! غصہ نہ کیاکرو کیونکہ غصہ ایمان کو اس طرح خراب کردیتاہے جیسے ایلوا (ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس ) شہد کو خراب کردیتاہے۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۷۰۹،ج۳،ص۲۰۹)
(29)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاویہ! غصہ سے دور رہو کیونکہ یہ ایمان کو اس طرح خراب کردیتا ہے جس طرح ایلوا شہد کو خراب کر دیتا ہے۔”        (ایضاً، الحدیث:۷۷۱۰،ج۳، ص۲۰۹)
(30)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”غصہ جہنم کی آگ کی ایک میخ ہے جسے اللہ عزوجل تم میں سے کسی کے دل پر رکھ دیتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ غصہ میں آنکھیں کیسے سرخ ہوجاتی ہیں، اس کی تیوری کیسے چڑھ جاتی ہے اوررگیں کیسے پھول جاتی ہیں۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۷۱۴،ج۳،ص۲۰۹)
(31)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈڈالتا(یعنی تباہ کردیتا ) ہے
            (المرجع السابق،الحدیث:۵۴۸۶،ج۳،ص۲۸)
(32)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے : ”جو اپنے غصہ میں مجھے یاد رکھے گا میں اسے اپنے جلال کے وقت یاد کروں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اسے ہلاک نہ کروں گا۔”
              (فردوس الاخبارللدیلمی،باب القاف،الحدیث:۴۴۷۶،ج۲،ص۱۳۷)
(33)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے: ”اے ابن آدم! تُو مجھے اپنے غصہ کے وقت یاد رکھ ،میں تجھے اپنے جلال کے وقت یاد کروں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ تجھے ہلاک نہ کروں گا۔”
   (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۷۱۶،ج۳،ص۲۰۹)
(34)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر تم میں سے کوئی غصہ کے وقت اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم پڑھ لے تو اس کا غصہ رفع ہو جائے گا۔”
(المعجم الاوسط، الحدیث:۷۰۲۲،ج۵،ص۱۹۰،بدون ”اذاغضب والرجیم”)
(35)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک شخص کو انتہائی غصہ کی حالت میں دیکھ کر ارشاد فرمایا :میں ایک ایسا کلمہ جانتاہوں اگر یہ غُصِیلا شخص اسے پڑھ لے تو وہ اس کا غصہ ختم کردے گا اور وہ کلمہ یہ ہے:
”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،حدیث معاذ بن جبل،الحدیث:۲۲۱۴۷،ج۸،ص۲۵۳)
(36)۔۔۔۔۔۔(شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاؤں مبارک کی کسی انگلی میں پھُنسی نکل آئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ذریرہ (ایک قسم کی خوشبو) لے کر اس پھنسی پر ڈالی اور یہ دعا مانگی جس سے وہ ٹھیک ہو گئی): ” اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئُ الْکَبِیْرِوَمُکَبِّرُ الصَّغِیْرِ اَطْفِھَا عَنِّیْ یعنی اے اللہ عزوجل! اے بڑے کو چھوٹا اور چھوٹے کو بڑا کر دینے والے! میری اس پھُنسی کو ختم کر دے۔”
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند احادیث رجال من اصحاب النبی صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم،الحدیث:۲۳۲۰۲،ج۹،ص۵۱)
(37)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا :”یہ دعا مانگا کرو: ” اَللّٰھُمَّ رَبِّ النَّبِیِّ مُحَمَّدِنِاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِیْ وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُّضِلَّاتِ الْفِتَنِ” یعنی اے نبی کریم محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رب عزوجل!میرے گناہ معاف فرما دے اور میرے دل کے غصے کو دور فرما دے اور مجھے گمراہ کر دینے والے فتنوں سے محفوظ رکھ۔
   (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث اُم سلمہ ،الحدیث:۲۶۶۳۸،ج۱۰،ص۱۹۳)
(38)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبینا وعلیہما الصلوۃ والسلام نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا :”اے میرے بیٹے! غصہ کی کثرت سے بچتے رہو کیونکہ غصہ کی کثرت بُردبار شخص کے دل کو راہِ حق سے ہٹا دیتی ہے۔”
(حلیۃ الاولیاء،یحییبن ابی کثیر ،الحدیث :۳۲۵۹،ج۳،ص۸۲)
  حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے فرمانِ عالیشان:
وَسَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا
ترجمہ کنزالایمان:اور سرداراورہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا۔(پ3، اٰل عمران:39)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں :”سَیِّدًا” سے مراد وہ شخص ہے جس پر غصہ غالب نہ آتا ہو۔
(39)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا یحیی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا :”غصہ نہ کیا کرو۔” تو حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب میں فرمایا :”اے میرے بھائی! میں اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ غصہ نہ کروں، میں بھی تو انسان ہی ہوں۔” تو انہوں نے فرمایا: ”پھر مال ضائع نہ کیا کرو۔” تو حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :”ہاں یہ ہو سکتا ہے۔”
(40)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اے ابنِ آدم! جب تُو غصہ کرتا ہے تو اچھلتا ہے قریب ہے کہ کہیں تو ایسی چھلانگ نہ لگا بیٹھے جو تجھے جہنم میں پہنچا دے۔”
  حضرت ذوالقرنین ایک فرشتے سے ملے تو اس سے فرمایا :”مجھے کوئی ایسی بات بتاؤجس سے میرے ایمان اوریقین میں اضافہ ہو۔”تو فرشتے نے کہا :”غصہ نہ کیا کرو کیونکہ شیطان غصہ کے وقت انسان پر سب سے زیادہ غالب ہوتا ہے، لہٰذا غصے کے بدلے عفو ودرگزرسے کام لیاکرو اور وقار کے ساتھ غصہ ٹھنڈا کیا کرو اور جلدبازی سے بچتے رہو کیونکہ جب آپ جلد بازی سے کام لیں گے تو اپنا حصہ گنوا بیٹھیں گے، اَقربا اوردیگر لوگوں کے لئے نرمی و آسانی مہیا کرنے والے بن جاؤ، عناد رکھنے والے اور ظالم نہ بنو۔”
  حضرت سیدنا وہب بن منَبِّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں عبادت میں مصروف رہتاتھا شیطان نے اسے گمراہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن ناکام رہا، پھر اس نے راہب کو عبادت گاہ کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا مگر پھر بھی راہب خاموش رہا، تو شیطان نے اس سے کہا: ”اگر میں چلا گیا تو تجھے بہت افسوس ہو گا۔” راہب پھر بھی خاموش رہا، یہاں تک کہ شیطان نے کہا :”میں مسیح (علیہ السلام) ہوں۔” تو راہب نے اسے جواب دیا: ”اگر آپ مسیح ہیں تو میں کیا کروں؟ کیا آپ نے ہی ہمیں عبادت میں کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا؟ اور کیاآپ نے ہم سے قیامت کا وعدہ نہیں کیا؟ آج اگر آپ ہمارے پاس کوئی اور چیز لے کر آئے ہیں تو ہم آپ کی بات ہر گز نہ مانیں گے۔” تو بالآخر شیطان نے خود ہی بتا دیا :”میں شیطان ہوں اور تجھے گمراہ کرنے آیا تھا مگر نہ کر سکا۔” اس کے بعد شیطان نے راہب سے کہا :”تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں چاہو سوال کر سکتے ہو۔” تو راہب نے جواب دیا :”میں تجھ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا۔” جب شیطان منہ پھیر کر جانے لگا تو راہب نے اس سے کہا: ”کیا تو سن رہا ہے؟” اس نے کہا: ”ہاں!کیوں نہیں۔” تو راہب نے اس سے پوچھا: ”مجھے بنی آدم کی ان عادتوں کے بارے میں بتا جو ان کے خلاف تیری مددگار ہیں۔” شیطان بولا: ”وہ غصہ ہے، آدمی جب غصہ میں ہوتا ہے تو میں اسے اس طرح الٹ پلٹ کرتا ہوں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  حضرت سیدنا جعفر بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :”غصہ ہر برائی کی کنجی ہے۔”
  ایک انصاری کا قول ہے :”غصہ حماقت کی اصل ہے اور ناراضگی اس کی راہنما ہے اور جوجہالت پر راضی ہوتا ہے وہ بردباری سے محروم رہتا ہے حالانکہ بردباری زینت اور نفع کا سبب ہے جبکہ جہالت عیب اور نقصان کا سبب ہے، نیز احمق کی بات کے جواب میں خاموش رہنا سعادت ہے۔
  حضرت سیدنا مجاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد فرماتے ہیں کہ ابلیس کہتاہے :”انسانوں نے کبھی مجھے عاجز نہیں کیا، بلکہ تین چیزوں میں تو وہ مجھے ہرگز عاجز نہیں کر سکتے: (۱) جب ان میں سے کوئی نشے میں ہوتا ہے تومیں اس کے نتھنوں سے پکڑ کر اسے جہاں چاہتا ہوں لے جاتاہوں، پھر وہ میری خاطر ہر وہ کام کرتا ہے جسے میں پسند کرتا ہوں(۲)جب آدمی غصہ میں ہوتاہے تو ایسی بات کہہ جاتا ہے جسے نہیں جانتا اور ایسا عمل کرتاہے جس پر بعد میں نادم ہوتاہے اور(۳)جب آدمی اپنے مال میں بخل کرتاہے تومیں اسے ایسی اُمیدیں دلاتاہوں جن پروہ قدرت نہیں پاتا۔”
(شعب الایمان، باب المطاعم والمشارب ، الحدیث:۵۶۰۱،ج۵،ص۱۳)
  حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”آدمی کی بردباری اس کے غصہ کے وقت اور اس کی امانت داری اس کے لالچ کے وقت دیکھو، کیونکہ جب وہ غصہ میں نہ ہوتو تمہیں اس کے حلم کا کیاپتہ چلے گا؟ اورجب اسے کسی چیز کا لالچ ہی نہ ہوتو تمہیں اس کی امانت داری کیسے معلوم ہوگی ؟”
  حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عامل کو مکتوب بھیجا: ”غصہ کے وقت کسی کو سزا نہ دو بلکہ اسے قید کرلو اور جب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس کے جرم کے مطابق سزا دو اور اسے پندرہ سے زیادہ کوڑے نہ مارو۔”
  ایک مرتبہ ایک قریشی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سخت بدکلامی کی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیر تک سر جھکائے رہے پھر ارشاد فرمایا: ”کیاتو چاہتا ہے کہ شیطان، بادشاہی کی عزت کاخیال دلا کر مجھ پر قابو پا لے اور میں تیرے ساتھ ایسا سلوک کربیٹھوں جس کی وجہ سے کل قیامت میں تو مجھ سے بدلہ لے سکے؟”
  منقول ہے: ”لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مندوہی ہے جسے سب سے کم غصہ آتا ہے پھر اگر وہ ایسا دنیا کے لئے کرتاہے تو یہ اس کا مکر وحیلہ ہے اور اگر آخرت کے لئے کرتاہے تو یہ علم وحکمت ہے۔”
  امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے :”جو خواہشات،لالچ اور غصہ سے بچ گیا وہ فلاح پاگیا۔”
  منقول ہے :”جو اپنی خواہشات اور غصہ کی اطاعت کریگا تویہ دونوں اسے جہنم کی طرف لے جائیں گی۔”
  حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی علامتیں یہ ہیں:” دین میں مضبوط ہونا، نرم مزاجی پر ثابت قدم رہنا، موت پر یقین رکھنا، بردباری کی حالت میں علم سیکھنا، نرمی وشفقت میں بھرپور ہونا، راہِ خداعزوجل میں عطا کرنا، بے نیازی کاقصد کرنا، فاقہ میں صبر کرنا، قدرت کی صورت میں احسان کرنا، تنگدستی میں صبر کرنا، اس پر نہ تو غصہ غالب آتاہے، نہ ہی حمیت طاری ہوتی


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ہے، نہ اس پر خواہش غلبہ پاتی ہے، نہ اس کا پیٹ اسے رُسوا کرتاہے، نہ ہی اس کا لالچ اسے ذلیل کرتاہے، وہ مظلوم کی مدد کرتا اور کمزور پر رحم کھاتا ہے، اپنے مال میں بخل کرتاہے نہ اسے فضول اُڑاتا ہے اور نہ ہی اپنی اولاد پر خرچ میں تنگی کرتاہے، جب اس پر ظلم ہوتا ہے تومعاف کردیتاہے، جاہل سے درگزر کرتاہے، اس کا نفس خود تو اس سے تکلیف پاتا ہے جبکہ لوگ اس سے خوشی پاتے ہیں۔”
  حضرت سیدنا وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”کفر کے چار اسباب (یہ بھی) ہیں: غصہ، خواہش، وعدہ خلافی، طمع۔” اس قول کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کو غصہ نے اسلام سے مرتدہو نے پر ابھارا تو وہ کافر ہو کر مرا۔ لہٰذا غصہ کی برائی اوراس کے نتائج پر خوب غور کرنا چاہے۔
  ایک نبی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اُمتیوں سے ارشاد فرمایا :”تم میں سے جو مجھے غصہ نہ کرنے کی ضمانت دے گا وہ میرا خلیفہ ہوگا اور جنت میں میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔” تو ایک نوجوان نے عرض کی :”میں ضمانت دیتا ہوں۔” تو اس نبی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بات دہرائی تو اس نو جوان نے دوبارہ عرض کی :”میں ضمانت دیتا ہوں۔” پھر اس نے اپنا وعدہ نبھا یا، جب اس کا انتقال ہوا تو وہ اس نبی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ان کا خلیفہ بن کر ان کے درجے میں پہنچ گیا، یہ نوجوان حضرت سیدنا ذوالکفل علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام تھے، انہیں ذوالکفل اس لئے کہا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے بارے میں یہ ضمانت دی تھی کہ میں کبھی غصہ نہ کروں گا اور پھر اپنے اس قول کو نبھایا بھی تھااور ایک قول یہ ہے کہ انہیں ذوالکفل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے رات میں عبادت کرنے اور دن میں روزہ رکھنے کی ضمانت دی تھی اور اسے نبھایا تھا۔