کبیرہ نمبر57: گردشِ اَیَّام کے سبب زمانے کو برا کہنا

logomaqbooliya

(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایاکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:”آدمی زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ زمانہ(بنانے والا) تو میں ہوں اور اس کے دن،رات میرے ہی قبضۂ قدرت میں ہیں۔”
(صحیح البخاری،کتاب الادب،باب لاتسبواالدھر،الحدیث:۶۱۸۱،ص۵۲۱)
(2)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ مَیں ہی اس(یعنی زمانہ )کے دن،رات پھیرتا ہوں اور جب میں چاہتاہوں ان دونوں کو روک ديتا ہوں۔”
(صحیح مسلم،کتاب ا لالفاظ من الادب، با ب النھی عن سب الدھر، الحدیث: ۵۸۶۴،ص۱۰۷۷)
(3)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم میں سے کوئی زمانے کوگالی نہ دے کیونکہ اللہ عزوجل ہی زمانہ (بنانے والا) ہے۔”
  (المرجع السابق، الحدیث: ۵۸۶۷،ص۱۰۷۷)
(4)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”انگور کی بیل کو کَرْم نہ کہو ۱؎ اور نہ ہی یہ کہو کہ زمانے کا برا ہو کیونکہ اللہ عزوجل ہی زمانہ (بنانے والا) ہے۔”
(صحیح البخاری،کتاب الادب، باب لاتسبوالدھر،الحدیث:۶۱۸۲،ص۵۲۱)
(5)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ ”انسان یہ کہہ کر مجھے ايذاء ديتا ہے :”اے زمانے !تیرا برا ہو۔” لہٰذا تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہا کرے کیونکہ میں ہی زمانہ (بنانے والا) ہوں اس کے دن رات میں ہی پھیرتا ہوں۔”
(صحیح مسلم، کتاب الالفاظ من الادب، با ب النھی عن سب الدھر، الحدیث: ۵۸۶۴،ص۱۰۷۷)
(6)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص زمانے کوبرا نہ کہا کرے کیونکہ اللہ عزوجل ہی زمانہ (بنانے والا) ہے۔”
  (المرجع السابق، الحدیث: ۵۸۶۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(7)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:” میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا تو اس نے مجھے قرض نہ دیا اور میرابندہ بے خبری میں مجھے گالی دیتا ہے وہ کہتا ہے: ”ہائے زمانہ! ہائے زمانہ! ”حالانکہ زمانہ(بنانے والا) تو مَیں ہوں۔” (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی ہریرہ ،الحدیث: ۷۹۹۴،ج۳،ص۱۶۱)
(8)۔۔۔۔۔۔نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”زمانہ کو برا نہ کہا کرو کیونکہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : ”میں زمانہ(بنانے والا) ہوں اس کے دن اور رات کو میں ہی تازہ کرتا ہوں اور میں ہی انہیں بوسیدہ کرتا ہوں اور میں ہی ایک بادشاہ کے بعد دوسرا بادشاہ لاتا ہوں۔”

تنبیہ:

  ان احادیثِ مبارکہ کے ظاہری مفہوم کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور خصوصًا اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان کی وجہ سے :”میرا بندہ مجھے گالی دیتا ہے۔” اللہ عزوجل نے زمانہ کو گالی دینے کو اپنی برائی قرار دیا یعنی ارشاد فرمایا: ” زمانے کو برا کہنا دراصل اللہ عزوجل کو برا کہنا ہے اور یہ کفر ہے اور جو چیز کفر کی طرف لے جانے والی ہو اس کا ادنیٰ مرتبہ گناہِ کبیرہ ہوتا ہے، مگر ہمارے شافعی ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا کلام اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ صرف مکروہ ہے نہ کہ حرام چہ جائیکہ کبیرہ گناہ ہو، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے :”جوزمانے کو برا کہتے وقت زمانہ مراد لیتا ہے تو اس کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں اور جو اس سے اللہ عزوجل کی برائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے کفر میں کوئی کلام نہیں اور اگر وہ کوئی ارادہ کئے بغیر زمانہ کو برا کہتا ہے تو یہی صورت محلِ شک ہے کیونکہ اس میں کفر اور غیرکفر دونوں کا احتمال ہے ، ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا ظاہری کلام اس بارے میں بھی کراہیت ہی کا ہے کیونکہ زمانے کو برا کہنے سے جو بات فوراً سمجھی جاتی ہے وہ زمانہ ہی ہے اور اس لفظ کا اللہ عزوجل پراطلاق کرنا جوازی ہے، اسی وجہ سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس حدیثِ مبارکہ کا یہ معنی بتایا ہے کہ عربوں پر جب کوئی آفت نازل ہوتی یا مصیبت آتی تو وہ یہ اعتقاد کرتے ہوئے زمانے کو برا کہتے :”انہیں یہ مصیبت زمانے کی وجہ سے پہنچی ہے۔” جیسا کہ وہ ستاروں سے بارش مانگتے اور کہتے :”ہمیں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش حاصل ہوئی۔” اور یہی اعتقاد رکھتے :”اس کے فاعل وہی ستارے ہیں۔” اور یہ اعتقاد فاعلِ حقیقی پر لعنت کرنے کی طرح ہے، اور چونکہ ہر چیز کا فاعل اورخالق اللہ عزوجل ہی ہے اس لئے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
  پھرمیں نے بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو یہ کہتے دیکھا :”نازل ہونے والی آفت میں زمانے کی تاثیر کا اعتقاد رکھ کر زمانے کو برا کہنا کبیرہ گناہ ہے۔” اور پیچھے جو بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسا اعتقا د کفرہے حالانکہ اس میں کوئی کلام نہیں اس بناء پر یہ بات محلِ نظر ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  علامہ ابن داؤد نے محدثین کی اس روایت کا انکار کیا ہے کہ جس میں اَنَا الدَّھْرُکے الفا ظ (یعنی’ ‘را” پرپیش کے ساتھ) مروی ہیں، وہ کہتے ہیں :”اگر ایسا ہوتا تو دَھْر،اللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام ہوتا۔” لہٰذا وہ جو روایت بیان کرتے ہیں اس میں اَنَا الدَّھْرَ(یعنی” را” پر زبر) ہے اور اس کا معنی یہ ہے :”میں ہی زمانے کے دن رات کو بدلتا ہوں۔” اس صورت میں الدھر،اقلب کی ظرف ہے، بعض دیگر افراد نے بھی ان کی پیروی کی اور را کی زبر کو راجح قرار دیا، مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ روایت کہ ”اللہ عزوجل ہی دہرہے۔” ان کے گمان کو باطل کر رہی ہے، اسی لئے جمہورکا مؤقف یہی ہے کہ را پر پیش ہے اور ابن داؤد کے گمان سے ہمارے مؤقِّف پر یہ اعتراض لازم نہیں آتا کہ دَھْراللہ عزوجل کے ناموں میں سے ایک نام ہونا چاہے کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اللہ عزوجل پردَھْرکا لفظ جوازاً بولا جاتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان عالیشان میں مؤثرکو اثرکی تعظیم اوراس کی برائی سے روکنے میں شدت پیدا کرتے ہوئے عین اثربنا دیا ہے۔
۱؎ :حکیم الا ُمت مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ العلی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”اہل عرب انگور کو اس لئے کَرْم کہتے تھے کہ اس سے شراب بنتی تھی، شراب پی کر انسان نشہ میں بہت سخی بن جاتا ہے کہ اپنامال جائز و ناجائز کاموں میں خوب اُڑاتا ہے، وہ سمجھتے تھے انگور شراب کی اصل ہے اور شراب کرم و سخاوت کی اصل،لہٰذا انگور گویا سراپا کرم و سخاوت ہے جب شراب حرام کی گئی تو انگور کو کرم کہنے سے منع کر دیا گیا اور فرمایا گیا : کرم تو مؤمن کا قلب یا خو د مؤمن ہے،تم ایسا اچھا نام ایسی خبیث چیز کو کیوں کہتے ہو ۔عربی میں اچھی زمین ،انگور ،حج،جہاد سب کو کرم کہتے ہیں۔” (مرأۃ المناجیح،ج۶،ص۴۱۲،۴۱۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});