کبيرہ نمبر86: قوم کے ناپسند یدہ شخص کا ان کی امامت کرنا

logomaqbooliya

(1)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تین شخص ايسے ہيں جن پر اللہ عزوجل لعنت فرماتا ہے(۱)جو کسی قوم کی امامت کرے اور قوم اسے ناپسند کرتی ہو، (۲)جو عورت اس طرح رات گزارے کہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور (۳)وہ شخص جو حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ سنے پھر بھی جماعت ميں حاضر نہ ہو۔”
 ( جامع الترمذی ، ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء فیمن ام قوما الخ ، الحدیث ۳۵۸ ، ص ۱۶۷۶ )
(2)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے :”تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے تجاوز نہيں کرتی: (۱) بھاگا ہو اغلام جب تک واپس نہ آئے(۲)وہ عورت جو اس طرح رات گزارے کہ اس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور (۳)قوم کا وہ امام جسے اس کی قوم ناپسند کرتی ہو۔”
 (جامع الترمذی ،ابواب الصلوۃ،باب ماجاء فیمن ام قوما،الحدیث:۳۶۰،ص۱۶۷۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(3)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل تین شخصوں کی کوئی نماز قبول نہيں فرماتا ، (۱)جوکسی قوم کا امام بنے اورقوم اسے ناپسند کرتی ہو (۲)وہ شخص جو (بلا عذر)جماعت ہو جانے کے بعد مسجد ميں آئے اور(۳)وہ شخص جس نے کسی آزاد کو غلام بنا ليا ہو۔”
( سنن ابی داؤد،ابواب الصلوۃ باب الرجل یوم القوم۔۔۔۔۔۔ الخ ،الحدیث:۵۹۳،ص۱۲۶۷)
(4)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناطلحہ بن عبيد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھيرا تو فرمايا: ”ميں امامت کرانے سے پہلے تم سے اجازت لينا بھول گيا تھا کيا تم ميرے نماز پڑھانے سے راضی ہو؟” لوگوں نے عرض کی ”جی ہاں! راضی ہيں اے صحابئ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آپ کی امامت کو کون ناپسند کر سکتا ہے۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :”ميں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ”جو شخص کسی قوم کا امام بنے حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو تو اس کی نماز اس کے کانوں سے تجاوز نہيں کرتی۔”       ( المعجم الکبیر،الحدیث:۲۱۰ ،ج۱،ص۱۱۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(5)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”تین شخص ايسے ہيں جن کی اللہ عزوجل کوئی نماز قبول نہيں فرماتا، وہ نماز نہ تو آسمان کی طرف اٹھتی ہے نہ ہی ان کے سروں سے تجاوز کرتی ہے (۱)وہ شخص جوکسی قوم کا امام بنے اور وہ قوم اسے ناپسند کرتی ہو (۲)وہ شخص جس نے اجازت کے بغير نمازِ جنازہ پڑھا دی اور (۳)وہ عورت جسے اس کا شوہر رات ميں بلائے تو وہ انکار کر دے۔”
( صحیح ابن خزیمہ ،کتاب الامامۃ فی الصلوٰۃ،باب الزجرعن امامۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث ۱۵۱۸،ج۳،ص۱۱)
(6)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تین شخص ايسے ہيں کہ جن کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھر بھی نہيں اٹھتی(۱)وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں (۲)وہ عورت جو اس حال ميں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور (۳) باہم قطع تعلقی کرنے والے دومسلمان بھائی۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( سنن ابن ماجہ ، اقامۃ الصلوات،باب من امّ قوما وھم لہ کارھون ، الحدیث:۹۷۱،ص۲۵۳۴ )
(7)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل تین قسم کے لوگوں کی کوئی نماز قبول نہيں فرماتا، (۱)قوم کا وہ امام جسے قوم ناپسند کرتی ہو (۲)وہ عورت جو اس حال ميں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور (۳) باہم قطع تعلقی کرنے والے دومسلمان بھائی۔” ( صحیح ابن حبان،کتاب الصلوٰۃ،باب صفۃ الصلوۃ، الحدیث:۱۷۵۴ ، ج۳ ،ص۱۲۶)

تنبیہ:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  ہمارے بعض ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام کی بناء پر اسے یقین کے ساتھ کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے، شايد ان کی نظر انہی احادیثِ مبارکہ پر تھی حالانکہ يہ بات بڑی عجیب ہے کيونکہ ہمارے نزديک يہ عمل مکروہ ہے وہ بھی اس صورت ميں جبکہ قوم کے اکثر لوگ اس کے کسی ايسے شرعاً مذموم عمل کی وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہوں جو اس کی عدالت(یعنی گواہ بننے کی صلاحیت) ميں نقص نہ ڈالتا ہو نیز وہ عمل بھی ایسا ہو جو امامت يا اس کی اقتداء ميں کراہت پيدا کرتا ہو، لہذا ايسے شخص کی امامت مطلقاًمکروہ نہيں اور نہ ہی اس کی اقتداء مطلقاً حرام ہے چہ جائيکہ اسے کبيرہ گناہ قرار ديا جائے کيونکہ امام کسی کو اپنی اقتداء پر مجبور نہيں کرتا،
نيز لوگوں کو اختيار ہے کہ اس امام کے پيچھے نماز نہ پڑھيں اس صورت ميں تو لاپرواہی مقتديوں ہی کی طرف سے ہے نہ کہ امام کی جانب سے۔ہاں!اگر ان احادیثِ مبارکہ کو تنخواہ دار امام اور مقتديوں پر زيادتی کرتے ہوئے زبردستی نماز پڑھانے والے پر محمول کيا جائے تو اس صورت ميں اس عمل کو کبيرہ گناہ کہنا ممکن ہے کيونکہ عہدہ غصب کرنے کو اموال غصب کرنے کے مقابلے ميں کبيرہ گناہ کہنا زيادہ مناسب ہے۔