کبيرہ نمبر87: صف کو مکمل نہ کرنا کبيرہ نمبر88: صف کو سيدھا نہ کرنا

logomaqbooliya

(1)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو صف کو ملائے گا اللہ عزوجل اسے ملا دے گااور جو صف کو قطع کریگا اللہ عزوجل اسے قطع کر دے گا۔”
( سنن ابی داؤد،کتاب الصلوۃ،باب تسویۃ الصفوف ، الحدیث ۶۶۶، ص۱۲۷۲ )
(2)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے صف پوری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے رہتے ہيں۔”
( سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃالصلاۃ۔۔۔۔۔۔الخ،باب اقامۃ الصفوف،الحدیث:۹۹۵،ص۲۵۳۵)
(3)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم صحابہ کرام علیہم الرضوان کو صفوں ميں اپنے مبارک ہاتھ سے برابر کرتے اور ارشاد فرماتے تھے :”الگ الگ مت رہو کہيں تمہارے دل بھی الگ نہ ہو جائيں۔”اور ارشاد فرماتے : ”اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے اگلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہيں۔”
( سنن ابی داؤد،کتاب الصلوۃ، باب تسویۃ الصفوف ، الحدیث ۶۶۴،ص۱۲۷۲،بدون”انہ کان یسویھم فی صفوفھم بیدہ یقول”)
(4)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو صف کی کشادگی پُر کرے گا اللہ عزوجل اس کاايک درجہ بلند فرمائے گا اور اس کے لئے جنت ميں گھر بنائے گا۔”
( مجمع الزوائد،کتاب الصلوۃ، باب صلۃ الصفو ف وسد الفر ج ، الحدیث:۲۵۰۲،ج۲،ص ۲۵۰ )


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(5)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو صف کے خلاء کو پُر کرے گا اس کی مغفرت کر دی جائے گی۔”
 ( المرجع السابق ، الحدیث ۲۵۰۳ ، ج۲ ، ص ۲۵۱ )
(6)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”بے شک اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے صفيں پوری کرنے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہيں اورجو بندہ صف پوری کرتا ہے اللہ عزوجل اس کا درجہ بلند فرما ديتا ہے اور ملائکہ اس کے پاس خیر لے آتے ہیں۔”
( مجمع الزوائد ،کتاب الصلوۃ، باب صلۃ الصفو ف وسد الفر ج ، الحدیث:۲۵۰۸ ،ج۲،ص۲۵۱ )
(7)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم صفيں ضروربرابر کیا کرو ورنہ اللہ عزوجل تمہارے چہرے بدل دے گا۔”
(صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب تسویۃ الصفوف عند الاقامۃ وبعدھا،الحدیث: ۷۱۷،ص۵۷)
(8)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”صفيں قائم کرو ورنہ اللہ عزوجل تمہارے دل بدل دے گا۔”
  ( سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ، باب تسویۃ الصفوف،الحدیث:۶۶۲،ص۱۲۷۲ )
(9)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”تم صفيں ضرور سيدھی کروگے يا تمہارے چہروں کا نور چھين ليا جائے گا يا پھر تمہاری بينائی اُچک لی جائے گی۔”
( المسند للاما م احمد بن حنبل، الحدیث ۲۲۲۸۸ ، ج ۸ ،ص ۲۸۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:

  ان دونوں کو اس حدیثِ پاک”جو صف قطع کریگا اللہ عزوجل اسے قطع کر دے گا۔”کے تقاضے کی بناء پر کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا کيونکہ اس کا مطلب يا تو يہ ہے کہ اللہ عزوجل اس پر لعنت فرمائے گا يا اس کا قريب ترين معنی مراد ہے اور ہم بيان کر چکے ہيں کہ لعنت کبيرہ گناہوں کی علامات ميں سے ہے، نيزحضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا يہ فرمانِ عبرت نشان”ورنہ اللہ عزوجل تمہارے دل اور چہرے بدل دے گا۔” بھی اس کے کبيرہ گناہ ہونے پر دلالت کرتا ہے کيونکہ اس ميں دل اور چہرے بدل دينے کی وعید ہے جو کہ ايک سخت وعيد ہے، مگر ميں نے کسی کو ان کے کبيرہ گناہ ہونے کی تصريح کرتے ہوئے نہيں ديکھا کيونکہ ہمارے نزديک صف پوری نہ کرنا يا قطعِ صف صرف مکروہ ہے حرام نہيں ، چہ جا ئيکہ اسے کبيرہ گناہ قرار ديا جائے(احناف کے نزدیک:”جب تک اگلی صَف کونے تک پوری نہ ہوجائے جان بوجھ کرپیچھے نمازشروع کردیناترک واجب،حرام اورگناہ ہے۔”تفصیل کے لئے:فتاوی رضویہ،ج۷ص۲۱۹تا۲۲۵)، البتہ ہمارے نزديک قوم کی ناپسنديدگی کے باوجود امامت کرنے،بغير منڈير کی چھت پر سونے اور جماعت ترک کرنے کو مکروہ ہونے کے باوجود کبيرہ گناہ شمار کرنے سے يہ لازم آتاہے کہ ان دونوں کو بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا زيادہ اَولیٰ ہے کيونکہ ان ميں زيادہ سخت وعيد آئی ہے۔
(10)۔۔۔۔۔۔حضورنبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”لوگ پہلی صف سے پيچھے ہٹتے رہيں گے يہاں تک کہ اللہ عزوجل انہيں جہنم ميں پہنچادے گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح البخاری،کتاب الاذان،باب صف النساء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۷۹،ص۱۲۷۳)
  گويا ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان احادیثِ مبارکہ سے يہ سمجھا ہے کہ ان کے ظاہری معنی مراد نہ ہونے پر اجماع ہے کيونکہ اس باب ميں سخت وعيدوں کا ظاہری معنی مراد نہيں ہوتا بلکہ صفوں ميں خلل ڈالنے پر زجر کرنا اور لوگوں کو حتی الامکان صف پوری کرنے پر ابھارنا مقصود ہے۔