بچّہ کی پیدائش

logomaqbooliya

مروّ جہ رسمیں:
  بچّہ کی پیدائش کے موقع پر مختلف ملکوں میں مختلف رسمیں ہیں مگر چند رسمیں ایسی ہیں جو تقریباً کسی قدر فرق سے ہر جگہ پائی جاتی ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں :
(۱)    لڑکا پیدا ہونے پر عام طور زِیادہ خوشی کی جاتی ہے اور اگر لڑکی پیدا ہو تو بعض لوگ بجائے خوشی کے رنج وغم محسوس کرتے ہیں۔
(۲)     پہلے بچّہ پر زِیادہ خوشی کی جاتی ہے پھر اور بچّوں پر خوشی منائی تو جاتی ہے مگر کم۔
(۳)    لڑکا پیدا ہوتو پیدائش کے چھ روز تک عورتیں مل کر ڈھول بجاتی ہیں۔
(۴)     پیدائش کے دن لڈّو یا کوئی مٹھائی اہلِ قرابت میں تقسیم ہوتی ہے۔
(۵)    اس دن میراثی ڈوم، دوسرے، گانے بجانے والے گھر گھیر لیتے ہیں اور بیہودہ گانے گاکر انعام کے خواستگار ہوتے ہیں۔ منہ مانگی چیز لے کر جاتے ہیں۔
(۶)     بہن،بہنوئی وغیرہ کوجوڑے روپیہ وغیرہ بہت سی رسموں کے ماتحت دیئے جاتے ہیں۔لٹ دھلائی، گوند بنوائی وغیرہ۔
(۷)     دلہن کے ماں باپ بھائی کی طرف سے چھوچھک آنا ضروری ہوتا ہے جس میں (یہ ہے )کہ دولہادلہن، ساس سسر، نند نندوائی، حتٰی کہ گھر کے بہشتی بھنگی کیلئے بھی کپڑوں کے جوڑے نقدی اور اگر لڑکی پیدا ہوئی ہے تو بچّی کیلئے چھوٹا چھوٹا زیور ہونا ضَروری ہے غرضیکہ میکہ و سسرال کا دیوالیہ ہوجاتا ہے۔
(۸)     مالن اور بھٹیاری (یعنی روٹی پکانے والی)گھر کے دروازے پر پتّوں کا سہرا یا کاغذ کے پھول باندھتی ہیں جس کے معاوضہ میں ایک جوڑا اور روپیہ کم از کم وصول کرتی ہیں۔