(۵۸) تکلیفوں کے بدلے جنت

logomaqbooliya

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہٖ۔متفق علیہ (1)
  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم شہوتوں سے ڈھانپی ہوئی ہے اور جنت تکلیفوں سے ڈھانپی ہوئی ہے۔یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔

تشریحات وفوائد

  مطلب یہ ہے کہ جہنم تک نہیں پہنچ سکتے مگر شہوتوں کے مرتکب بن کر اور جنت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تکلیفوں کے مرتکب نہیں ہوں گے۔
تکلیفوں سے مُراد قسم قسم کی عبادتوں کی محنتیں اور تکلیفیں، نیز مصائب اور طاعات پر صبر کی کلفتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر قسم کی تکلیفوں پر صبرکی جزاء جنت ہے توگویا جنت تکلیفوں سے گھری ہوئی ہے کہ مسلمان جب تکلیفوں کی منزلوں کوصبرکے ساتھ طے کرلیتا ہے تو جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم