حدیثِ پاک کا مفھوم:

logomaqbooliya

 اس حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنا نیک عمل لوگوں کے سامنے اس لئے ظاہر کرے تا کہ وہ ان کے نزدیک معظم و محترم ہو جائے حالانکہ وہ نیک نہ ہو تو اللہ عزوجل قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کا راز کھول دے گا۔
(35)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے عطا نہ کی گئی ہو جھوٹ کا لباس پہننے والے کی طرح ہوتا ہے۔ ”
(صحیح البخاری ،کتاب النکاح،باب المتشبع بما لم ینل، وما ینھی من ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۹ ۵۲،ص۴۵۱)
(36)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میری اُمت کا شرک چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز سے زیادہ مخفی ہوگا۔”
(الکامل فی الضعفاء،ج۹،ص۹۸)
(37)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اے لوگو! شرک سے بچتے رہنا کیونکہ یہ چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہے۔” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہم شرک سے کس طرح بچ سکتے ہیں؟”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”یہ دعا پڑھ لیاکرو: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ اَنْ نُّشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَانَعْلَمُہ،، یعنی اے اللہ عزوجل ! ہم دانستہ طور پر کسی کو تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پنا ہ چاہتے ہیں
اور نادانستہ طو ر پر ایسا کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المعجم الاوسط،الحدیث:۳۴۷۹،ج۲،ص۳۴۰)
(38)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :تم لوگوں میں شرک چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہو گا اور اب میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتاہوں کہ جب تم اسے کرو گے تو شرک کا چھوٹا بڑا عمل تم سے دُور ہوجائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرو: ”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَآاَعْلَمُ،  یعنی اے اللہ عزوجل! میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتاہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتاہوں۔”
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ، باب الریاء،الحدیث:۷۵۰۰،ج۳،ص۱۹۱)
(39)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم لوگوں میں شرک چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہو گا۔ بے شک آدمی کا یہ کہنا بھی شرک ہے :”جو اللہ عزوجل اور میں چاہوں گا وہی ہو گا۔” اور آدمی کایہ کہنا(یعنی یہ اعتقاد رکھنا) بھی شرک ہے :”اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو فلاں مجھے قتل کر دیتا۔” کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل تم سے چھوٹا بڑا شرک دور فرما دے، روزانہ تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرو: ”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَآاَعْلَمُ ، یعنی اے اللہ عزوجل! میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتاہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتاہوں۔”
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الریاء،الحدیث:۷۵۱۹،ج۳،ص۱۹۴)
(40)۔۔۔۔۔۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مجھے اپنی اُمت پر شرک اورمخفی شہوت کا خوف ہے۔” عرض کی گئی :”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اُمت شرک میں مبتلا ہو جائے گی؟”تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ہاں! مگر یہ لوگ سورج، چاند، پتھر یابتوں کی پوجا نہیں کریں گے بلکہ لوگوں کے سامنے دکھاوے کے لئے عمل کریں گے اورخفیہ شہوت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی روزہ رکھ کر پھر کسی نفسانی خواہش کی بناء پر توڑ ڈالے۔”
(المسندللامام احمد ، مسند الشامیین، الحدیث:۱۷۱۲۰،ج۶، ص۷۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(41)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بندہ صبح کو روزہ دار ہو گا پھر اس کی کوئی خواہش اس کے سامنے آئے گی تو وہ اس خواہش میں مبتلا ہو کر اپنا رو زہ توڑ ڈالے گا۔”
(المعجم الاوسط،الحدیث:۴۲۱۳،ج۳،ص۱۶۸)
(42)۔۔۔۔۔۔ نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”آدمی پوشیدہ طور پر کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے اپنے پاس پوشیدہ نیکیوں میں لکھ لیتاہے،پھر شیطان اس شخص کے پیچھے پڑجاتاہے یہاں تک کہ وہ شخص اپنا عمل لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے تو اللہ عزوجل اسے پوشیدہ اعمال سے مٹاکر اعلانیہ اعمال میں لکھ دیتاہے، پھر جب وہ دوسری مرتبہ اپنا عمل ظاہر کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے پوشیدہ اور اعلانیہ نیکیوں میں سے مٹا کر ریاکاری میں لکھ دیتا ہے۔”
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،الحدیث:۷۱۸،ج۱،ص۱۱۶)
(43)۔۔۔۔۔۔ مروی ہےکہ اللہ عزوجل فرماتاہے :”میں اچھا بدلہ دینے والا ہوں لہٰذا جو کسی کو میرا شریک ٹھہرا ئے گا وہ میرے شریک کے لئے ہی ہو گا۔” اے لوگو! اپنے عمل میں اللہ عزوجل کے لئے اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لئے کئے جاتے ہیں اور جو کام اللہ عزوجل کے لئے کیا جاتا ہو اس کے بارے میں یہ مت کہوکہ میں یہ کام اللہ عزوجل اور رشتہ داری کی وجہ سے کر رہا ہوں، کیونکہ وہ کام پھر رشتہ داری کے لئے ہی ہو گا نہ کہ اللہ عزوجل کے لئے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(شعب الایمان، باب فی اخلاص العمل للہ وترک الریاء،الحدیث:۶۸۳۶،ج۵،ص۳۳۶)
(44)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” جس نے اللہ عزوجل کی رضا کے لئے حاصل کیا جانے والا علم، دنیا کا مال پانے کے لئے حاصل کیا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب العلم، باب فی طلب لغیر اللہ، الحدیث:۳۶۶۴،ص۱۴۹۴)
(45)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، نورِ مجسَّم،شاہِ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغریعنی ریاکاری کاخوف ہے، جب لوگ اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو ریاکاروں سے کہا جائے گا :”ان کے پاس جاؤجن کے لئے تم ریا کاری کیا کرتے تھے اور ان کے پاس اپنا اجر تلاش کرو۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث:۴۳۰۱،ج۴،ص۲۵۳)
(46)۔۔۔۔۔۔ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ”کیامیں تمہیں نہ بتاؤں کہ مجھے تم پر چہرے بگڑ جانے سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے، وہ شرکِ خفی ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے مرتبہ کی خاطر کوئی عمل کرے۔”
 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید الخدری،الحدیث:۱۱۲۵۲،ج۴،ص۶۱)
(47)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل کی اطاعت کو بندوں سے تعریف کی محبت سے ملانے (یعنی لوگوں کی زبانوں سے اپنی تعریف پسندکرنے)سے بچتے رہوکہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں۔”
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،فصل فی التحذیر والوعید،الحدیث:۱۵۶۷،ج۱،ص۲۲۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(48)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اے لوگو! پوشیدہ شرک سے بچتے رہواور وہ یہ ہے کہ آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو اور لوگوں کی نظروں کو اپنی جانب متوجہ پانے کی وجہ سے اپنی نماز کو سنوارے یہی پوشیدہ شرک ہے۔”
(السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب الصلوٰۃ ، باب الترغیب فی تحسین الصلوٰۃ ، الحدیث:۳۵۸۵،ج۲،ص۴۱۳)
(49)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”شرک خفی سے بچتے رہو جو یہ ہے کہ بندہ لوگوں کی نگاہوں کی وجہ سے نمازکے رکوع و سجود کامل طریقے سے ادا کرے۔”
(شعب الایمان ،باب فی الصلوات ،الحدیث:۳۱۴۱،ج۳،ص۱۴۴)
(50)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”میری اُمت کا شرک چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز سے بھی زیادہ مخفی ہو گا اور مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز کاترک کرنا ہے۔”
(المستدرک ،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحسین۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۲۰۲،ج۳،ص۷)
(سنن ابن ماجہ ، ابواب اقامۃ الصلوٰات ، باب ماجاء فی من ترک الصلوٰۃ ، الحدیث:۱۰۸۰،ص۲۵۴۰،”الکفر” بدلہ” الشرک”)
(51)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ”جس نے کوئی عمل کیا اوراس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کیا تو اس کا سارا عمل اسی کے لئے ہے جبکہ میں شریکوں سے بے نیاز ہوں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

           (سنن ابن ماجہ،ابواب الزہد،باب الریاء والسمعۃ ، الحدیث:۲۷۳۲،ص۴۲۰۲،”بتقدمٍ وتاخرٍ”)
(52)۔۔۔۔۔۔نبی رحمت ،شفیع اُمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جوبندہ دنیا میں ریاکاری اور شہرت کے مقام و مرتبہ پر ہو تو اللہ عزوجل جمعہ کے دن اسے لوگوں کے سامنے رسوا کریگا۔”
(المعجم الکبیر،الحدیث:۲۳۷،ج۲۰،ص۱۱۹،”یوم الجمعۃ” بدلہ” یوم القیٰمۃ ”)
  یہاں جمعہ سے مراد قیامت کا دن ہے کیونکہ اسی دن سب سے بڑا مجمع ہوگا۔
(53)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو لوگوں کی خاطر ایسے اعمال سے خود کو مزین کرے کہ جن کی حقیقت اللہ عزوجل کے علم میں کچھ اور ہو تو اللہ عزوجل اس کو اپنی بارگاہ سے دور فرما دیتا ہے۔”
    (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۲۱۶۶۰،ج۷،ص۱۶۹)
(54)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جواپنے قول اور لباس کے ذریعے لوگوں کی خاطر بنے سنورے اور عمل میں اس کے خلاف کرے اس پر اللہ عزوجل، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

         (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۲۱۷۰۰،ج۷،ص۱۷۵)
(55)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے ریاکاری کے ساتھ نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے ریاکاری کے طور پر صدقہ دیا اس نے بھی شرک کیا۔”
                       (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۱۳۹،ج۷،ص۲۸۱)