وصیت میں نقصان پہنچانے والی چند صورتیں:

logomaqbooliya

    علامہ ابنِ عادل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تفسير ميں فرمايا:ياد رکھو ! وصيت ميں نقصان پہنچانے کی چند صورتيں ہيں: (۱)ثلث مال سے زائد کی وصيت کرنا(۲)اجنبی کے لئے تمام يا بعض مال کا اقرار کرنا(۳)ورثاء کو وراثت سے محروم کرنے کے لئے ايسے قرض کا اقرار کرنا جس کی کوئی حقيقت نہ ہو(۴)يہ اقرارکرنا کہ فلاں پر ميرا جو قرض تھا وہ ميں نے وصول کر ليا ہے (۵)ورثاء کومال سے محروم کرنے کے لئے کوئی چيز نہايت کم قيمت ميں بيچ دينا يا بھاری قيمت ادا کرکے کوئی چيز خريدنا اور (۶)ثلث مال کی وصيت اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نہيں بلکہ ورثاء کو وراثت سے محروم کرنے کے لئے کرنا۔” يہ تمام صورتيں وصيت ميں نقصان پہنچانے ميں داخل ہيں۔

(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اگر کوئی شخص 70برس تک جنتيوں جسے اعمال کرتارہے ، پھر اپنی وصيت ميں جانبداری سے کام لے تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہو گا اور وہ جہنم ميں داخل ہو گا اور کوئی شخص 70سال تک جہنميوں جسے اعمال کرتارہے پھر اپنی وصيت ميں عدل سے کام لے تو اس کا خاتمہ اچھے عمل پر ہو گا اور وہ جنت ميں داخل ہو گا۔”
( المسند للاما م احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ،الحدیث: ۷۷۴۶، ج۳، ص ۱۱۵)
(3)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے اللہ عزوجل کی فرض کردہ ميراث کاٹی اللہ عزوجل جنت سے اس کی ميراث کاٹ دے گا۔”
(کنزالعمال،کتاب الفرائض،قسم الاقوال،الفصل الاول فی فضلہ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۰۳۹۷، ج ۱ ۱،ص۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  اس آيت مبارکہ کے بعد اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان:”تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ ”اس پر دلالت کرتا ہے، اور فرمانِ باری تعالیٰ ”وَمَنْ يعصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ” حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے مطابق وراثت کے بارے میں ہے، نيزموت کے وقت اللہ عزوجل کے حکم کی مخالفت سخت خسارے پر دلالت کرتی ہے جوکہ کبيرہ گناہوں ميں سے ہے۔
  علامہ زرکشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے يہی مسلک اپنايا کيونکہ متاخرين علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے کسی کا فرمان ہے کہ”ميں نے علامہ زرکشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا لکھا ہوا مجموعہ ديکھا، انہوں نے تقریبًاعلامہ ابنِ عادل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا ہی مذکورہ کلام ذکر کيا اور علامہ زرکشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا اسے ذکر کرنا بھی عجيب ہے کيونکہ علامہ ابنِ عادل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے وصيت کی ایک تہائی سے زائد جو صورتيں مطلق بيان کی ہيں وہ ہمارے مسلم قواعد کے مطابق نہيں کيونکہ وہ ہمارے نزديک فقط مکروہ ہيں حرام نہيں چہ جائیکہ وہ کبیرہ ہوں، البتہ اگر ورثاء کو محروم کرنے کی نيت ہو تو اس کا حرام ہونا بالکل ظاہر ہے اور اس سے يہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی ظلم اور عداوت کی بناء پر تہائی مال سے زيادہ ميں وصيت کرے تو ايسی صورت ميں اس وصيت کو کبيرہ قرار دينا بعيد نہيں کيونکہ اس ميں ورثاء کو نقصان پہنچانا پايا جا رہا ہے خصوصاً ايسے وقت ميں جب جھوٹا شخص بھی سچ بولتا ہے اور بدکا ر توبہ کر ليتا ہے، لہذا اس کا يہ عمل اس کی قساوتِ قلبی، فسادِ عقل اور انتہائی جرأت پر واضح دليل ہے، اسی لئے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم ميں داخل ہو جاتا ہے۔

وصيت کے ذريعے نقصا ن پہنچانے کی ايک صورت:

  وصيت کے ذريعے نقصا ن پہنچانے کی ايک صورت يہ بھی ہے کہ اپنے بچوں وغيرہ پر ايسے شخص کو پرورش کے لئے مقرر کرنے کی وصيت کرے جس کے بارے ميں وہ جانتا ہو کہ يہ شخص ان کا مال کھا لے گا يا صحيح طريقے سے تصرف نہ کرنے کی وجہ سے ان کے مال کو ضائع کر بيٹھے گا۔ ميری بيان کردہ يہ باتيں ان دو احادیثِ مبارکہ سے لی گئی ہيں:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(4)۔۔۔۔۔۔پہلی حديثِ مبارکہ کو امام ابن ماجہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس طرح روايت کيا ہے :”آدمی 70برس تک جنتيوں جیسے عمل کرتا رہتاہے پھر اپنی وصيت ميں خيانت کر بيٹھتا ہے تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم ميں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی آدمی 70برس تک جہنميوں جيسے عمل کرتارہتا ہے پھر اپنی وصيت ميں انصاف سے کام ليتا ہے تو اس کا خاتمہ اچھے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جنت ميں داخل ہو جاتاہے۔”
( سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیۃ ، الحدیث: ۲۷۰۴، ص۲۶۳۹)
(5)۔۔۔۔۔۔دوسری حدیث پاک کو امام ابن ماجہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان الفاظ ميں روايت کيا ہے :”جو اپنے وارث کی ميراث سے بھاگے گا اللہ عزوجل بروزِقیامت جنت سے اس کی ميراث کاٹ دے گا۔”
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیۃ ، الحدیث: ۲۷۰۳ ، ص۲۶۳۹)
  پہلی حديثِ پاک کی تائيد حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی يہ حديثِ پاک بھی کرتی ہے جسے امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما نے روایت کیا ہے کہ،
(6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”مرد يا عورت 70برس تک اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کرتے ہيں، پھر جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو وصيت ميں نقصان پہنچاتے ہيں تو ان کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔” پھر حضرت سيدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے يہ آيت مبارکہ تلاوت فرمائی:
مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَ ۃٌ وَّلَہٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکْثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ12﴾تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿13﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الايمان: ميت کی وصيت اور دين نکال کر جس ميں اس نے نقصان نہ پہنچايا ہو يہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔يہ اللہ کی حديں ہيں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں ميں لے جائے گا جن کے نيچے نہريں رواں ہميشہ ان ميں رہيں گے اور يہی ہے بڑی کاميابی۔(پ4، النساء:12۔13)
(جامع الترمذی،ابواب الوصایا،باب ماجاء فی الضرار فی الوصیۃ، الحدیث:۲۱۱۷، ص۱۸۶۳”سبعین” بدلہ”ستین”)