جامعہ نظامیہ اور درس صحیح بخاری شریف

logomaqbooliya

جامعہ نظامیہ اور
درس صحیح بخاری شریف

علوم اسلامیہ کی قدیم و عظیم درس گاہ جامعہ نظامیہ میں روز اول سے ہی علم حدیث شریف علی صاحبہ و آلہ الصلاۃ والسلام درس و تدریس اور نشر و اشاعت کا پورا اہتمام اور اس کے ساتھ کامل عنایت رہی ہے۔ شیخ الاسلام عارف باللہ حضرت مولاناامام محمد انوار اللہ فاروقی رحمہ اللہ تعالیٰ بانی جامعہ نظامیہ نے آنحضور علیہ و آلہ الصلاۃ والسلام کے اشارہ منامی کی تعمیل میں مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفا سے دکن مراجعت فرماتے ہوئے علم حدیث اور حدیث شریف کی عظیم کتاب ’’کنزالعمال‘‘، خوارزمی کی جامع مسانید امام اعظم اور الجوہر النقی علی سنن البیہقی کو نقل کرکے اپنے ساتھ لائے اور دائرۃ المعارف قائم کرکے ان کتابوں کی طباعت کا اہتمام فرمایا اور حدیث موضوع کے اہم ترین موضوع پر معرفت قرائن وضع سے متعلق ’’الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع‘‘تصنیف فرمائی اور کتب صحاح ستہ سے مجموعہ منتخبہ ترتیب دیا اور تعلیم و تربیت اور تزکیہ کے اہم تراجم قائم فرمائے اللہ تعالیٰ نے اس جامعہ اور اس کے علوم میں برکت ڈال دی۔ اقطاع عالم سے جوق درجوق طلبۃ العلوم اس عظیم اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لینے اور منبع علم و ہدایت سے سیراب ہونے کے لیے چلے آتے ہیںاور یہ سلسلہ بلا انقطاع جاری و ساری ہے۔ عالم عرب میں بھی طلبہ اس جامعہ سے انتساب کو باعث سعادت سمجھتے رہے ہیں اور تاقیام ساعت انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ جامعہ نظامیہ مقبول بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اس جامعہ کے ہر شعبہ میں علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر علماء ربانیین تدریس کے منصب پر فائز رہے ہیں، حضرت شیخ الاسلام کو علم حدیث شریف سے خصوصی تعلق تھا، اس کی برکت ہے کہ تدریس حدیث شریف علی صاحبہ و الہ الصلاۃ ولسلام کے منصب جلیل پر جلیل القدر محدثین باکرامت اہل اللہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ، حضرت مولانا عبدالکریم افغانیؒ، حضرت مولانا مفتی مخدوم بیگ صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی رحیم الدین صاحبؒ، حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کان اللہ لہؒ، حضرت مولانا حکیم محمد حسین صاحبؒ، حضرت مولانا حاجی منیر الدین صاحبؒ جیسے خاصان خدا درس دیتے رہے ہیں اور اب شیخ الحدیث کے جلیل القدر عہدہ پر حضرت مولانا محمد خواجہ شریف صاحب فائز ہیں۔ الحمد للہ شیخ الجامعہ، جامعہ نظامیہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد صاحب کے دور میں شعبہ حدیث میں کافی ترقی ہورہی ہے۔ دارالحدیث کی جدید پر شکوہ عمارت تعمیر ہورئی ہے اور حدیث شریف کاجو درس ہوتا ہے اس کو قلمبند کیا جاکر ’’ثروۃ القاری من انوار البخاری‘‘کے نام سے شائع کیا جارہا ہے ۔درس حدیث شریف کے طرق سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ محدث رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب انفاس العارفین میں بضمن احوال، تین (۳) اسالیب ذکر کئے ہیں۔
(۱) سرد
(۲) بحث و حل
(۳) امعان و تعمق۔
سرد:میں مسلسل عبارت پڑھی جاتی ہے، طالب علم کے دریافت کرنے پر بتادیا جاتا ہے، اسلاف کرام میں یہ طریقہ رائج رہا ہے، چنانچہ خود حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے مؤطا امام مالک اپنے استاد وفد اللہ مکی علیہ الرحمہ سے چار مجلسوں میں ختم کیا۔ علامہ فیروز آبادی صاحب قاموس نے مسلم شریف کو تین دن میں ختم کیا۔ علامہ ابوالفضل عراقی نے چھ مجلسوں میں، علامہ خطیب بغدادی نے پانچ مجلسوں میں اور بخاری شریف کو چالیس گھنٹوں میں، نسائی شریف دس مجلسوں میں، ابن ماجہ شریف چار مجلسوں میں اور معجم طبرانی ایک مجلس میں ختم کیا ۔
دوسرا طریقہ بحث و حل :لغات غریبہ کا حل رواۃ کا تعارف، معنی حدیث شریف کی وضاحت اور کسی بھی اشکال کا جواب دیا جائے۔
تیسرا طریقہ امعان و تعمق: یعنی حدیث شریف کے مالہ و ماعلیہ اور مسائل فقہیہ کا استنباط، اختلاف ائمہ اور ان کے دلائل اور وجوہ ترجیح سے بحث کی جاتی ہے۔ جامعہ نظامیہ میں شروع سے دوسرا و تیسرا طریقہ رائج ہے اور اسلاف کے طریقے کے مطابق مضمون سے متعلق بصیرت افروز تقریر اور احادیث شریفہ مسائل فقہیہ کا استنباط اختصار کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ موضوع سے متعلق بحث کا کوئی گوشہ چھوٹنے نہ پائے اور حسب ضرورت رجال سے بحث اور رواۃ صحابہ علیہم الرضوان کے ایمان افروز واقعات اور شروع سے آخر تک یکساں اسلوب میں بیان کئے جاتے ہیںیہ جامعہ کے درس کی خصوصیات ہیں۔
الحمدللہ جامعہ نظامیہ میں ہر سال جلسہ ختم بخاری شریف منعقد ہوتا ہے۔ اس جلسہ کی نگرانی مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد صاحب شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ فرماتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد خواجہ شریف صاحب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہیں اس موقع پر کلیۃ البنات جامعہ نظامیہ کی طالبات کا بھی بخاری شریف کا اختتامی درس ہوتا ہے۔ آخر میں حسب ذیل خصوصی دعاء ختم بخاری شریف پڑھی جاتی ہے۔
ہذا دعاء صحیح الامام محمد بن اسماعیل البخاری
للعارف باللہ المنان السید احمد بن زینی دحلان شیخ الاسلام بمکۃ المکرمۃ نفع اللہ بہ المسلمین آمین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ الکریم المنعم الذی لاتحصی نعمہ الاعداد۔ ولایضجرہ مسائل السائلین ولایبرمہ الحاح العباد۔ ولایمسک مافی خزائن رحمتہ الاعدام والنفاد۔ وھو اللہ الذی لا الہ الا ھولامعطی لما منع ولا مانع لما اعطی من الخیر والامداد۔ احمدہ سبحانہ و تعالیٰ و ہو بالحمد اولی و احق۔ واشکرہ عز و علا علی ما جل من نعمائہ و دق واشھد أن لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ شھادۃ صدق و حق و اشھدان سیدنا محمدا عبدہ و رسولہ المبعوث الی کافۃ الخلق، اللھم فصل وسلم علی ھذا النبی الکریم والرسول العظیم سیدنا محمد المخصوص بأشرف الادیان المنزل علیہ فی محکم کلامک القدیم و اذا سألک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذادعان و علی الہ و اصحابہ المحافظین علی اتباع سنتہ فی السر والاعلان صلاۃ و سلاما یکونان سببا لتفریح الھموم و کشف الغموم و ذھاب الاحزان۔ ونسألک اللھم یا من لایعلم قدرہ الاھو ولایبلغ صفتہ الواصفون و یامن امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون یامن لایشغلہ شان عن شان ولایشتبہ علیہ صوت بصوت ویامن یحیی العظام وھی رمیم ویکسوھا لحمابعد الموت کما وفقتنا لقرآء ۃ صحیح الامام محمد بن اسماعیل البخاری فی ہذا المحل فضلا منک ومناویسرت لنا تلاوتہ مکملا ان توفقنا للعمل بما جاء فیہ من المواعظ والاحکام۔ وبما رواہ الثقات عن رسولک علیہ افضل الصلاۃ والسلام وان تجعلہ حجۃ لنا لا حجۃ علینا فی ھذہ الدار و فی تلک الدار و تدر علی من الفہ و کتبہ و قراہ وسمعہ سحائب رحمتک و رضوانک آناء اللیل و اطراف النھار اللھم وفقنا للعمل بما احتوی علیہ من اثر وخبروآیۃ۔ و نور اللھم بہ ابصارنا و بصائرنا لنفوز من برکاتہ بالنھایۃ واحفظنا من الوقوع فی الشک والوھن والجھل والغفلۃ والندامۃ واجعلہ شاھدا لنا عندالحضور بین یدیک یوم القیامۃ اللھم انا نتوجہ الیک باوجہ الشفعاء لدیک واکرم من اقسم بحقہ علیک نبیک الطاھر النسب الکریم الحسب خیر العجم والعرب سیدنا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب فنسالک اللھم ببلاغہ عنک وقربہ منک وجاھہ المقبول لدیک وسائر الانبیاء والمرسلین واھل بیت نبیک صلی اللہ علیہ وسلم وصحابتہ اجمعین وبما تلوناہ مما اشتمل علیہ صحیح الامام محمد بن اسماعیل البخاری و بمن ذکر فیہ من الرجال اھل الخصوصیۃ والفوز والاکرام وبحملۃ الشریعۃ من علماء ہذہ الأمۃ وبالأولیاء والصالحین الذین منحھم جزیل الانعام وبمن حضر ھذا المجمع من مقبول الدعاء و محقق الاستقامۃ وبکل عبدا جبتہ من یوم خلقت الدنیا الی یوم القیامۃ ان تکشف عنا البلاء والوباء واغلاء والامراض ولاسقام و تزیل عنا الشکوی والأوھام (اللھم عمر بنا منازلنا ولاتھلکنا بسوء فعالنا ولا تکلنا الی انفسنا طرفۃ عین یاحی یا قیوم برحمتک نستغیث یا مغیث اغثنا ثلاثا) ونتوسل الیک بکل من اقسمنا بہ علیک ان تنصر الاسلام والمسلمین و تشید قواعد ھذا الدین بالتا ییدوالتمکین وان تعجل بالنصر والفتح المبین اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات والف بین قلوبھم واصلح ذات بینھم واجعل فی قلوبھم الایمان والحکمۃ وثبتھم علی ملۃ رسولک و اوزعھم ان یوفوا بعھدک الذی عاھدتھم علیہ وانصرھم علی عدوک و عدوھم لہ الحق واجعلنا منھم۔ اللھم انتصر لنا انتصارک لاحبابک علی اعدائک اللھم لاتمکن الاعداء لافینا ولامنا ولاتسلطھم علینا بذنوبنا اللھم قنا الاسوی ولاتجعلنا محلا للبلوی یامن اجاب نوحا فی قومہ یامن نصر ابراہیم علی اعدائہ یامن رد یوسف علی یعقوب یامن کشف ضر ایوب یامن اجاب دعوۃ زکریا یامن قبل تسبیح یونس بن متی نسالک اللھم باسرار اصحاب ھذہ الدعوات المستجابات ان تقبل مابہ دعوناک وان تعطینا یاربنا ماسالناک انجزلنا وعدک الذی وعدتہ لعبادک المؤمنین لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین انقطعت آمالنا و عزتک الامنک وخاب رجاؤنا وحقک الا فیک یا اللہ یااللہ یااللہ۔
ان ابطات غارۃ الارحام وابتعدت
عنا فاسرع شئی غارۃ اللہ
یا غارۃ اللہ حتی السیر مسرعۃ
فی حل عقدتنا یا غارۃ اللہ
عدت العادون وجاروا
ورجونا اللّٰہ مجیرا
وکفی باللّٰہ ولیّا
وکفٰی باللّٰہ نصیرا
وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم اللھم انا نسالک التوبۃ الکاملۃ والمغفرۃ الشاملۃ المحبۃ الکاملۃ والخلۃ الصافیۃ والمعرفۃ الواسعۃ والانوار الساطعۃ والشفاعۃ القائمۃ والحجۃ البالغۃ والدرجۃ العالیۃ وفک وثاقنا من المعصیۃ ورھاننا من النقمۃ بمواھب الفضل والمنۃ اللھم انہ لم ینزل بلاء الا بذنب ولم یکشف الابتوبۃ ولھذا ایدینا الیک بالذنوب ونواصینا الیک بالتوبۃ فاکشف عنا من البلاء مالا یکشفہ غیرک اللھم احفظنا من الوباء والامراض والاسقام واکشف عنا الغلاء وازل عنا الشکوک والاوھام اللھم اسقنا الغیث ولاتجعلنا من القانطین اللھم اسقنا غیثا مغیثا ھنیئا مریئا غد قامجللا سحاباطبقا دائما نافعا غیر ضار اللھم اسقنا الغیث ولاتجعلنا من القانطین اللھم أنبت لنا الزرع وادرلنا الضرع واسقنا من برکات السماء و أنبت لنا من برکات الارض واکشف عنا من البلاء مالا یکشفہ غیرک اللھم ان نستغفرک انک کنت غفارا فارسل السماء علینا مدرارا اللھم انا نعوذبک من الذنوب التی توجب النقم ونعوذبک من الذنوب التی تغیر النعم ونعوذبک من الذنوب التی تھتک العصم ونعوذبک من الذنوب التی تمنع غیث السماء و نعوذبک من الذنوب التی تذل الاعز و تذلل الاعداء اللھم اصلح الامام اللھم اصلح الامام والامۃ اللھم اغفرلنا ولوالدینا ومشائخنا واساتیذناوتلامیذنا ومن حضرھنا ومن احسن الینا ولاصحاب الحقوق علینا ولسائر المؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات اللھم الف بین قلوبنا واصلح ذات بیننا واھدنا سبل السلام ونجنا من الظلمات الی النور وجنبنا الفواحش ماظہر منھا وما بطن وبارک لنا فی اسماعنا ابصارنا و قلوبنا وازواجنا و ذریاتنا وتب علینا انک انت التواب الرحیم واجعلنا شاکرین لنعمتک مثنین بھا قابلیھا واتمھا علینا اللھم احسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ اللھم ارخص اسعارنا وغزرامطارنا واجعل ھذہ البلدۃ آمنۃ مطمئنۃ رخیۃ وسائر بلاد المسلمین اللھم امنا فی اوطانا ودمر من ارادنا بسوء اللھم اکتب السلامۃ والعافیۃ لنا ولعبیدک الحجاج والغزاۃ والزوار والمسافرین فی برک وبحرک من المسلمین اجمعین اللھم ان آمالنا الیک موقوفۃ واکفنا من البسط الی من سواک مکفوفۃ فأفض علینا من سحائب معروفک المعروفۃ ولاتصرفنا الا وھذہ الشدۃ مصروفۃ اللھم انا عبیدک الضعفاء وان اسانا متمسکون باذیال حلمک وان جھلنا فاغفرلنا وارحمنا وعافنا واعف عنا اللھم انا عبیدک المقصرون طامعون فی سعۃ جودک و کرمک یاذا الجلال والاکرام فلا تردنا خائبین ولاعن باب جودک مطرودین اللھم انا عبیدک الواقفون علی بابک الخاضعون لعزۃ جنابک الطامعون فی شرابک فلاتردنا علی اعقابنا متذللین اللھم انا دعونا وان اسانا متمسکون باذیال حلمک و ان جھلنا فاغفرلنا وارحمنا وعافنا واعف عنا اللھم لاتدع لنا ذنبا الا غفرتہ ولا عیبا الاسترتہ ولاھما الافرجتہ ولاکربا الاکشفتہ ولادینا الاقضیتہ ولا ضالا الا ھدیتہ ولاعائلا الا اغنیتہ ولا عدوا الا خذلتہ وکفیتہ ولاصدیقا الا رحمتہ وکافیتہ ولافسادا الااصلحتہ ولا مریضا الا عافیتہ ولا غائبا الا رددتہ ولا حاجۃ من حوائج الدنیا والاخرۃ لک فیھا رضاء ولنا فیھا صلاح الاقضیتھا ویسرتھا فانک تھدی السبیل وتجبر الکسیر وتغنی الفقیر یارب العالمین ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذھیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شئی قدیر وصلی اللہ علی سیدنا محمد و علی الہ وصحبہ اجمعین سبحان ربک العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العالمین۔
٭٭٭
جامعہ نظامیہ کو
اربابِ شعر وسخن کا خراج عقیدت
دہدنوید کہ ایں مکتبِ معالی را
نگربہ چشمِ دل ایں اسوۂ غزالی را
زمان و ساعت فرخندہ فال اے عثماںؔ
دہدچہ کرد شئے ایام و ہم لیالی را
(آصفؔ سابع)
اس جامعہ پہ رحمت باری ہے دیکھئے
فیضانِ علم آج بھی جاری ہے دیکھئے
ایک ایک خوشہ چیں چمنستانِ علم کا
مسند نشینِ فقہ وبخاری ہے دیکھئے
رویاء میں شاہِ دین نے فرمائی دستخط
مقبولیت سند کی ہماری ہے دیکھئے
(حضرت سیدصادق محی الدین فہیمؔ)    
سلام اے جامعہ تجھ پر تیرے اوجِ مقدر پر
سلام اے جامعہ اے مظہرِ انوارِپیغمبر
سلام اے جامعہ اے درس گاہ و فضل کے محور
سلام اے جامعہ اے خانقاہ و علمِ دیں پرور
(حضرت نصرالحقؔ قادری )
جامعہ نظامیہ کے ہیں انوار دیکھئے
علم وعمل کے قافلہ سالار دیکھئے
طاہرؔ ہیں قلب ملتا ہے سرمایۂ خلیلؔ
ہر ذرہ  درس گاہ کا ہے شاہکار دیکھئے
(حضرت صاحبؔ قدیری)
آزادِ دیں جو ہیں وہ ترے پائے بند
عالم نوازیاں تری سب کو پسند ہیں
میں کیا بتاؤں جو ترے رتبے بلند ہیں
کیسے بڑے بڑے تر ے احسان مند ہیں
کتنوں کو تو نے عالم و فاضل بنادیا
ناقص کوئی جو آگیا کامل بنادیا
(حضرت عثمان حسینی ذکیؔ)      
جامعہ  یہ حضرتِ انوار کی ہے یادگار
جو مخاطب تھے فضیلت جنگ سے عالی وقار
ہے دعا تسکینؔ کی قائم نظامیہ رہے
روزِ روشن کی طرح دائم نظامیہ رہے
(حضرت عبدالکریم تسکینؔ )
یہ بیانو خوب ہیں اور یہ بارہ خوب ہیں
دونوں عالم کو یہ دونوں ہندسے محبوب ہیں
اِس طرف نامِ مبارک اُس طرف میلادِ پاک
جامعہ کے سال بھی انوار میں محجوب ہیں
(ڈاکٹرسید عباس متقیؔ)
مکتبِ انوارِحق، اے منبعِ علم وہنر
مرکزِ رشدو ہدایت، مسکنِ اہلِ نظر
وادیٔ گنگ و جمن میں دارِ ارقم کی مثال
سینۂ ارضِ دکن پر خواہشِ خیرالبشر
تاابد جلتی رہیں یارب نظامیؔ مشعلیں
نیل کے ساحل سے لیکر تا بہ خاکِ کا شغر
(حضرت جلیلؔ نظامی)
شاہد ہیں زمانے میں در وبامِ جامعہ
گزرے ہوئے لمحات وایامِ جامعہ
شامل ہیں ہم بھی ان میں پسِ پردہ سربکف
روشن کئے ہوئے ہیں جوکہ نامِ جامعہ
(حضرت رحمتؔ بخاری)    
٭٭٭