حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی کاحسب ونسب

logomaqbooliya

سید صادق انواری اشرفی

عربی ٹیچر نورالنبی عربک اسکول بیجاپور۔

حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی کاحسب ونسب

علم الانساب ایک فضیلت والا علم ہے اس کی حقیقت کا انکار کوئی جاہل ہی کرسکتا ہے اور ویسے بھی عرب کی قوم ایسی قوم تھی جو اپنے آباء واجداد پر فخر کرتی تھی اور ان کی شرافت و بزرگی کے تذکرے کرتی اور حسب ونسب پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہو جاتی تھی ۔ ایسے میں ضروری تھا کہ اللہ رب العزت اپنے پیارے نبی مصطفی جان رحمت ﷺ کو ایسے خاندان میں بھیجتا جس کے حسب ونسب پر کوئی طعن نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی پاک ﷺ کے ددھیال اور ننھیال عرب کے بہترین قبیلے، بہترین قوم اور بہترین شاخ میں سے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ کا سارا شجرہ نسب محترم اورنامور شخصیات پر مشتمل ہے ۔ وہ سب کے سب اپنے دور میں اپنی قوم کے سردار اور رہنماتھے اور معاشرے میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ مصطفی جان رحمت ﷺ کے شجرۂ مبارکہ کی ہر کڑی شرافت و عظمت کی پیکر تھی۔ دنیا میںکسی بھی بڑے سے بڑے روحانی وجسمانی پیشوا کا خاندانی سلسلہ اور نسب نامہ اس وضاحت و تحقیق کے ساتھ محفوظ نہیں۔یہ فضیلت ومرتبہ صرف اسی ذات اقدس ﷺ کو حاصل ہے جسے اللہ رب العزت نے انتخاب در انتخاب کے ذریعے چنا ہے ۔اس انتخاب عظیم کے بعد بھی اپنے سلسلۂ نسب کی اہمیت وافادیت کو بیان فرماتے ہوئے آقائے نامدارمدنیٔ تاجدار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فاطمہ میرے وجودکاٹکڑا ہے۔ جو اسے ناراض کرے گا وہ مجھے ناراض کرے گا اور جو اسے خوش کرے گا وہ مجھے خوش کرے گا۔قیامت کے روز میرے نسب وسبب اور دامادی کے سوا سب انساب منقطع ہوجائیں گے ۔ ( الصواعق المحرقہ مترجم صفحہ 438 )   ۔نسب کے متعلق بیشمار روایات ہیں یہاں صرف کچھ پر اکتفاء کیا گیا ہے۔
نسب کے معنی اصل، نسل، سلسلۂ خاندان کو کہتے ہیں اس کی جمع انساب ہے۔خاندان کے شجرہ کو نسب نامہ یا کرسی نامہ کہتے ہیں۔
( فیروزاللغات اردو ۔ص: ۱۳۵۸۔ ازمولوی فیروز الدین صاحب)
قرابت داریوں کے روشن سلسلے کو نسبی سلسلہ کہا جاتا ہے نسل ونسب کا یہ تسلسل ہر جاندار میں قدرت کی جانب سے ودیعت ہے اس میں انسان کی کوئی تخصیص نہیں ۔ لیکن لفظ نسب صرف انسانوں کے نسلی سلسلے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ ہم سب کے جد اعلیٰ حضرت سیدنا آدم صفی اللہ ؈ ہیں حدیث پاک میں تواضع کی تلقین کرتے ہوئے مصطفی جان رحمت  ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : الناس بنو آدم وآدم من تراب،ترجمہ۔ تم سب حضرت آدم ؈ کی اولاد ہو اور حضرت آدم خاک کی پیداوار ہے ۔ (جامع ترمذی۔ ابواب تفسیر القرآن باب من سورۃ الحجرات )
یٰٓاَ یُّھَا النَّا سُ اِ نَّا خَلَقنٰکُمْ مِّنْ ذَ کَرٍٍ وَّ اُ نْثٰی وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْ بًا وَّ قَبَا ئِلَ لِتَعَا رَ فُواط اِ نَّ  اَ کْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط اِ نَّ اللّٰہَ عَلِیْمُٗ خَبِیْرُٗ ہ( سورۃ الحجرات آیت ۱۳)
(ترجمہ)اے لوگو! بلا شبہ ہم نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک مردا ورایک عورت سے، اوربنا دیا تمہیں کئی شاخیںاور کئی قبیلے ، تاکہ باہم پہچان رکھو ۔ بے شک تمہارازیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہے، بے شک اللہ علم والا خبر دار ہے ۔  (سیدالتفاسیر المعروف بہ تفسیر اشرفی جلدششم۔ص :۹۱۔)
جب کسی کے سوانحی خاکہ پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو عموماحسب ونسب کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور پہلے حسب بعد میں نسب کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن مجید میں پہلے نسب اور بعدحسب کا ذکر جمیل ہے ۔ ارشاد باریٔ تعالیٰ ہے۔
وَ ھُوَ الَّذِ یْ خَلَقَ مِنَ الْمَآ ئِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِھْرً ا ط   وَ کَا نَ رَ بُّکَ قَدِ یْرًا ہ( سورۃ الفرقان ۔ آیت : ۵۴)
(ترجمہ)اور وہی ہے جس نے پیدا فرمایا پانی سے بشر کو، پھر کردیا اُسے نسل والا اورسسرال والا۔ اورتمہارا رب قدرت والا ہے۔
(تفسیر ) (اور ) واضح کیا جارہا ہے کہ ( وہی ہے جس نے پیدا فرمایا پانی سے بشر کو)  یعنی آدم ؈ کو۔ پانی سے اُن کی مٹی کا خمیر کیا ۔۔چنانچہ ۔۔ وہ پانی اُن کے مادہ کا ایک جزء ہے ۔۔ یا یہ کہ۔۔ پیدا کیا آدمی کو آبِ منی سے ( پھر کردیا ا ُسے نسل والا اور سسرال والا)
صھر(حسب) اور نسب میں فرق بیان فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہے کہ نسب  کارجوع آباء کی جہت سے ولادتِ قریبہ کی طرف یعنی باپ کی طرف ہوتا ہے۔اور صھر ا ً وہ رشتہ ہے جو تزویج اور نکاح کی وجہ سے وجود میں آتا ہے ، یعنی سسرالی رشتے ۔  (سیدالتفاسیر المعروف بہ تفسیر اشرفی جلدچہارم ۔ص : ۳۸۰۔ از شیخ الاسلام حضرت سید محمد مدنی اشرفی جیلانی مدظلہ العالی)
جس مبارک شخصیت کا حسب ونسب رقم کیا جارہاہے وہ حضور شیخ الاسلام ادام اللہ فیوضھم العالی ہیں۔ جن کا اسم گرامی سید محمد مدنی ،کنیت ابوا لحمزہ، القاب شیخ الاسلام،رئیس المحققین ہے آپ حسنی سادات ہیںآپ کا سلسلۂ نسب چھتیس (۳۶) واسطوں سے حضور سیدناغوث پاک سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے ہوتا ہوا باب العلم حیدر کرار حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے جا ملتا ہے ۔ یہاں صرف حضور سیدناغوث پاک سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ تک کا شجرہ نسب و حسب تحریر کیا جاتا ہے سرکار غوث صمدانی حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہٗ سے تو شجرۂ مبارکہ مشہورہے۔
شجرۂ نسب:۔ حضرت رئیس المحققین شیخ الاسلام والمسلمین سید محمد مدنی اشرفی الجیلانی ادام اللہ فیوضھم العالی ابن حضرت مخدوم الملت مولاناشاہ ابوالمحامدسیدمحمد (محدث اعظم ہند)قدس سرہٗ ابن حکیم مولاناسید شاہ نذر اشرف قدس سرہٗ ابن سید شاہ فضل حسین قدس سرہٗ  ابن سید شاہ منصب علی قدس سرہٗ ابن سید شاہ قلندر علی قدس سرہٗ ابن سید شاہ تراب اشرف  قدس سرہٗ ابن سید محمد نواز قدس سرہٗ ابن سید محمد غوث  قدس سرہٗ ابن سید محمد جمال الدین  قدس سرہٗ ابن سید عزیزالرحمن قدس سرہٗ ابن سید محمدعثمان قدس سرہٗ ابن سید ابوالفتح المعروف  زندہ پیر قدس سرہٗ ابن سید محمد قدس سرہٗ ابن سید محمداشرف قدس سرہٗ ابن سید حسن شریف قدس سرہٗ (مقدمہ فرش پر عرش از پروفیسر سید طارق سعید میاں اشرفی جیلانی)
حضرت قدوۃ الآفاق حاجی مولاناسید عبدالرزاق نورالعین قدس سرہٗ ابن حضرت سیدعبدالغفورحسن جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدابوالعباس احمد جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدبدرالدین حسن جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدعلاء الدین علی جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدشمس الدین محمد جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدسیف الدین یحییٰ جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدظہیرالدین احمد جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدابوالنصرمحمد جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدعمادالدین ابو صالح نصر جیلانی قدس سرہٗ ابن قاضی القضاۃ حضرت سیدابوبکرتاج الدین عبدالرزاق جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سید غوث الثقلین نور القمرین سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ( حوالہ۔ صحائف اشرفی حصہ دوم۔ صفحہ ۔ ۶۲)
شجرۂ حسب :۔ حضرت رئیس المحققین شیخ الاسلام والمسلمین سید محمد مدنی اشرفی الجیلانی ادام اللہ فیوضھم العالی ابن مخدومہ حضرت سیدہ فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا بنت سلطان المناظرین علامہ سیدشاہ احمداشرف اشرفی جیلانی قدس سرہٗ ابن اعلیٰ حضرت ابواحمد سیدشاہ محمد علی حسین اشرفی الجیلانی اشرفی میاں قدس سرہٗ ابن حضرت سید شاہ سعادت علی قدس سرہٗ ابن سید شاہ قلندر علی قدس سرہٗ ابن سید شاہ تراب اشرف قدس سرہٗ ابن سیدشاہ  محمد نواز قدس سرہٗ ابن سیدشاہ محمد غوث  قدس سرہٗ ابن سیدشاہ محمد جمال الدین قدس سرہٗ ابن سیدشاہ عزیزالرحمن قدس سرہٗ ابن سیدشاہ محمدعثمان قدس سرہٗ ابن سیدشاہ ابوالفتح  قدس سرہٗ ابن سیدشاہ محمد قدس سرہٗ ابن سیدشاہ اشرف قدس سرہٗ ابن سیدشاہ حسن شریف خلف اکبر قدس سرہٗ (مقدمہ فرش پر عرش از پروفیسر سید طارق سعید میاں اشرفی)
حضرت قدوۃ الآفاق حاجی مولانا سیدعبدالرزاق نورالعین قدس سرہٗ ابن حضرت سیدعبدالغفورحسن جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدابوالعباس احمد جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدبدرالدین حسن جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدعلاء الدین علی جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدشمس الدین محمد جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدسیف الدین یحییٰ جیلانی الحموی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدظہیرالدین احمد جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدابوالنصرمحمد جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سیدعمادالدین ابو صالح نصر جیلانی قدس سرہٗ ابن قاضی القضاۃ  حضرت سیدابوبکرتاج الدین عبدالرزاق جیلانی قدس سرہٗ ابن حضرت سید غوث الثقلین نور القمرین سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ( حوالہ۔ صحائف اشرفی حصہ دوم۔ صفحہ ۔ ۶۲)
حضور شیخ الاسلام کے حسب ونسب میں کئی شخصیات ایسی ہیں جن سے امت محمدیہ کو بیشمار فیض حاصل ہوا ۔چند مشہور حضرات کا مختصر تذکرہ پیش ہے جس سے آپ کے حسب ونسب کی فضلیت اور آشکار ہوگی۔
آپ کے والد گرامی قدر حضرت مخدوم الملت مولاناشاہ ابوالمحامدسیدمحمد محدث اعظم ہند قدس سرہ (متوفی۔۱۳۸۱ھ)ہیں جن کی عظمت و بزرگی کے سبھی قائل ہیں آپ کی ذات میں شرف و بزرگی کے علاوہ قیادت وسیادت جیسی گوناگوں خصوصیت نمایاں طور پر نظر آتی تھی۔بصیرت  ورفعت ، فضل وعطاجیسی مختلف خوبیوں نے آپ کی شخصیت کو اجاگر فرمایا۔خطابت وشاعری میں آپ کی ذات حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ کی پرتوتھی اپنے سلسلہ اشرفیہ کی ترویج واشاعت کے علاوہ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے تعلیمات ، افکار ونظریات کو پھیلانے میں نمایاں کردار ادا فرمایا اورخصوصا جنوبی ہند میںحضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات کو آپ ہی نے متعارف فرمایا۔
آپ کے دادا حضرت حکیم مولاناسید شاہ نذر اشرف قدس سرہٗ ہیںملک ہندوستان کے نہایت مشہور ومعروف حکماء میں آپ کا شمار ہوتا ہے جس کا تذکرہ خطبات برطانیہ میں موجود ہے۔ آپ طبیب حاذق تھے جن کی نباضی پر دلی کے حکماء خراج تحسین ادا کرتے تھے۔ حکمت کی اس منزل پرتھے جہاں آواز سن کر ، کپڑا سونگھ کر مرض کی تشخیص کی جاتی رہی ۔آج کا دور ایسے گرامی قدر حکیموں سے محروم نظر آ رہاہے۔
آپ کے نانا سلطان المناظرین حضرت علامہ سیدشاہ احمداشرف اشرفی جیلانی قدس سرہٗ کا شہرہ ہر سو پھیلا ہوا تھا۔ آپ کو علم ظاہری وعلم باطنی پر قدرت کمال حاصل تھا
آپ کے پر نانا اعلیٰ حضرت ابواحمد سیدشاہ محمد علی حسین اشرفی الجیلانی اشرفی میاں قدس سرہٗ(متوفی ۔۱۳۵۵ھ) اپنے زمانہ کے اہل علم وسادات ومشائخ نے آپ بالاتفاق ہم شبیہہ غوث اعظم تصور کرتے تھے۔تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت سلطان خواجہ سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آپ ہی کو وہ مقام رفیع حاصل ہوا کہ آپ نے اپنے جد امجد کی عظیم سنت پر عمل کرتے ہوئے سیر وسیاحت کو اپنایا اور ساری دنیا میں پیغامِ اشرف کو پہنچایا۔
حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ(متوفی۔۱۳۴۰ھ) کوجب معلوم ہوا کہ  ان کے پیر ومرشد حضرت آلِ رسول علیہ الرحمہ (متوفی۔۱۲۹۶ھ )کی طبیعت زیادہ ناساز ہے تو آپ خود بغرض مزاج پرسی مارہرہ شریف تشریف لے گئے ۔ حضرت آل رسول علیہ الرحمہ حضرت امام احمد رضافاضل بریلوی علیہ الرحمہ کو دیکھ کر فرمایا کہ میرے پاس سرکار غوث اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان کی امانت ہے جسے اولاد غوث میں شبیہہ غوث الثقلین حضرت مولانا شاہ ابواحمد محمد علی حسین اشرفی کچھوچھوی کو سونپنی اور پیش کردینی ہے اور وہ اس وقت شیخ المشائخ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء چشتی علیہ الرحمہ کے آستانہ پر ہیں ۔محراب مسجدمیں ملاقات ہوگی۔ چنانچہ  الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ دلی تشریف لائے۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے آستانہ پرحاضری دی پھر مسجد میں تشریف لائے تو واقعی پیر ومرشد کی نشاندہی کے بموجب اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ کو محراب مسجد میں پایا اور برجستہ فی البدیہہ یہ شعر کہے:
اشرفی اے رخت آئینۂ حسن خوباں
اے نظر کردہ و پروردۂ سہ محبوباں
اے اشرفی میاں سرکار! آپ کا چہرہ انور حسن وخوبی کا آئینہ ہے۔آپ تینوں محبوبین کے پروردہ اور نظر کردہ ہیں۔تینوں محبوبین سے مراد (۱)  محبوب سبحانی غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ  (بغداد شریف) (۲) محبوب الٰہی سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء بدایونی چشتی رضی اللہ عنہٗ(دلی) (۳)  محبوب یزدانی غوث العالم سلطان مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہٗ (کچھوچھہ شریف)ہیں۔
پھر عرض مدعاکیا۔ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی نے مارہرہ شریف میں حاضری دی حضرت سید شاہ آل رسول علیہ الرحمہ نے سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کی اجازت اور خلافت بخشی اور یہ فرمایا کہ جس کا حق تھا اس تک یہ امانت پہونچادی ۔ اس کے بعد حضرت آلِ رسول علیہ الرحمہ کے اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی خاتم الخلفاء کہلائے۔
آپ نے سارے اسلامی ممالک کی سیر وسیاحت فرمائی۔ اور تبلیغ وارشاد میں حضرت مخدوم جہانیاں گشت علیہ الرحمہ کا پر تو اورحضرت مخدوم اشرف علیہ الرحمہ کے مظہر اتم و حقیقی جانشین کہلانے لگے اس ضمن میں آپ کے مریدوں کی تعداد( ۲۳) لاکھ اور خلفاء کی تعداد ( ۱۳۵۰) ساڑھے تیرہ سو سے زائد ہے۔
حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ میں محبت رسول ہی کا اثر تھا کہ حضور سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نسبی تعلق رکھنے والے اشخاص یعنی سادات کرام کا بے پناہ احترام اور محبت فرماتے اور اس بات میں آپ سن وسال، قدو قامت، عالم وجاہل ، امیر غریب اور نیک وبد کا امتیاز رکھ کر حسن سلوک نہ فرماتے بلکہ رشتہ خون کا لحاظ کرتے ہوئے سبھی کے ساتھ نیاز مندی کا رویہ رکھتے۔
ایک شاگرد کی تعلیم وتربیت کے لئے ایک استاذ مناسب تادیبی کاروائی کے لئے ہاتھ اور زبان دونوں استعمال کرنے کا پورا پورا حق رکھتاہے ۔ شرعا اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بلکہ خدا وندکریم  اپنے رحم وکرم سے اسے نوازے گا مخدوم االملۃ حضرت سید محمد کچھوچوی معروف بہ محدث اعظم ہند حصول تعلیم کے لئے بارگاہ رضویہ میں تشریف لے گئے ۔ ایک موقعہ پر برائے تربیت امام موصوف نے جو طریقہ اختیار فرمایا ہے انتہائی دلچسپ اور ناموس عشق کی حرمت سے مملو ہے محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کی زبانی ملاحظہ ہو۔
کار افتاء کے لئے جب میں بریلی حاضر ہوا۔ جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے مسجد میں آیا تو سب سے آخری صف میں تھا نماز ہوگئی تو مجھے دریافت فرمایا کہ کہاں ہیں میں بریلی والوں کے لئے بالکل نیا تھا لوگ ایک دوسرے کا منھ دیکھنے لگے یہاں تک کہ اعلیٰ حضرت خود کھڑے ہوگئے اور باب مسجد پر مجھ کو دیکھ لیا تو مصلے سے اٹھ کر آخری صف میں آکر مجھ سے مصافحہ سے نوازا۔ اس سے زیادہ کا ارادہ کیا تو میں تھرا کر گر پڑا۔اعلیٰ حضرت پھر مصلے پر تشریف لے گئے اور سنن ونوافل ادا فرمانے لگے۔(المیزان امام احمد رضا نمبر۔ ص۔  ۳۶۹ )
اس طرح حضرت شیخ الاسلام کے حسب ونسب میں سادات اہل علم وتقویٰ اور اہل اللہ گزرے ہیںجن کی تعظیم وتکریم اہل علم ودانش نے فرمائی ۔سادات کچھوچھہ کے کتب ورسائل اور امام احمد رضا اور احترام سادات کتاب وغیرہ کا مطالعہ کرنے سے عظمت سادات کرام کا پتہ چلتا ہے آج جہلاء تو کیا اہل علم معمولی فروعی اختلافات اورآپسی بغض وعناد کی آگ میں جلتے ہوئے بزرگوں کی ذاتیات پرحملہ کرتے ہیں اور حتی کہ نسب پر بیجا طعن کیا جاتا ہے۔ جب کہ حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ من لم یعرف عترتی والانصار والعرب فھو لاحدی ثلاث اما منافقا واما لزنیۃ وما لغیر طھور‘‘  یعنی جو میری اولاد اورانصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں ، یاتو منافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔(شعب الایمان)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری فرماتے ہیں کہ ’’ سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے ، اگر چہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں ان اعمال کے سبب اس سے نفرت کی جائے، نفس اعمال سے نفرت ہو بلکہ اس(سید) کے مذہب میں بھی ٹھوڑا فرق ہو کہ حد کفر تک نہ پہنچے جیسے تفضیل تو اس حالت میں بھی اس کی تعظیم سیادت نہ جائے گی ، ہاں اگر اس کی بدمذہبی حد کفر تک پہنچے ۔جیسے رافضی وہابی قادیانی نیچری وغیرہم ،  تو اب اس کی تعظیم حرام ہے کہ جو وجہ تعظیم تھی یعنی سیادت وہی نہ رہی۔ (فتاوی رضویہ) حضرت عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ سنن کبریٰ میں فرماتے ہیں’’ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک یہ ہے کہ میں ساداتِ کرام کی بے حد تعظیم کرتاہوں اگر چہ لوگ ان کے نسب میں طعن کرتے ہوں۔
میں اس تعظیم کو اپنے اوپر ان کا حق تصور کرتاہوں ، اسی طرح علماء و اولیاء کی اولاد کی تعظیم شرعی طریقے سے کرتاہوں۔اگر چہ وہ متقی نہ ہوں، پھر میں سادات کی کم ازکم اتنی تعظیم وتکریم کرتاہوں جتنی والی مصر کے کسی بھی نائب یا لشکر کے قاضی کی ہوسکتی ہے ‘‘ (الشرف المؤہد)
بزرگان دین کا احترام سادات کے متعلق یہ عمل تھا لیکن آج ماحول کی پراگندی میں یہ بھی خرابی دیکھی جاتی ہے کہ غریب و نادار سید کو لوگ کسی خاطر میں نہیں لاتے ، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشہور امیر سادات کرام کو تو سر کی آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔ لیکن اگرکوئی غریب سید اور غیر مشہور سید سامنے آجائے تو اس کی طرف التفات کرنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا حالانکہ جس طرح امیر مشہور سید تعظیم واحترام کا مستحق ہے اسی طرح غریب ونادار سید زادہ بھی مستحق احترام ہے ، اس لئے کہ جس طرح وہ سید سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جزء  ہونے کا شرف رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی جزء ہونے کی سعادت رکھتا ہے تو پھر کیوں احباب اس طرح کا سلوک کرتے ہیں کہ جس سے غریب سید زادے کے دل کو تکلیف پہنچتی ہے۔
جو شخص نسبی اعتبار سے سید نہ ہو ں وہ اپنے آپ کو سید نہ کہے اور جو سید ہوں وہ اپنے آپ کو غیر سادات میں شامل نہ کرلے اس کے معاملہ میں دونوں پر وعید ہے ۔ کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعنۃ اللہ علی داخلین فینا بغیر نسب وعلی خارجین منھا بغیر سبب  یعنی ایسے شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو ہم میں بغیر نسب کے داخل ہو اور سید کہلوائے اور اس سید پر لعنت ہو جو بغیر سبب کے دوسرانسب کہلوائے۔
حضرت شیخ الاسلام قبلہ کا حسب ونسب بیان کردیا گیا ہے میں نے مناسب سمجھا کہ اس بات کی بھی وضاحت کروں کہ سادات کچھوچھہ میں حسنی وحسینی کی جو شہرت ہے وہ کیا ہے خواص تو بخوبی جانتے ہیں لیکن عوام میں یہ بات واضح ہوجائے ۔
جن حضرات کا نسب پدری حضرت سید نا امام حسن مجتبیٰ ؈ سے ملتا ہے ان کو حسنی سادات اور جن حضرات کا نسب پدری حضرت سیدنا امام حسین شہید کربلا ؈ سے ملتا ہے ان کو حسینی سادات کہتے ہیں۔حضرت قطب الاقطاب غوث العالم محبوب یزادانی میر سید مولانا اوحدالدین  سلطان اشرف جہانگیرنوربخشی سمنانی سامانی قدس سرّہٗ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسین شہید کربلا ؈ سے ملتا ہے اور آپ حسینی سادات ہیں۔ (لطائف اشرفی مترجم حضرت شمس بریلوی ؒ کے دیباچہ میں صفحہ (۲) پر بحوالہ صحائف اشرفی ڈاکٹر خضر نوشاھی صاحب قبلہ )
حضرت حاجی سیدعبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمۃ والرضوان حضرت قطب الاقطاب غوث العالم محبوب یزادانی میر سید مولانا اوحدالدین سلطان اشرف جہانگیرنوربخشی سمنانی سامانی قدس سرّہٗ کے شاگرد و جانشین کے علاوہ آپ کے فرزند معنوی بھی ہیں رشتہ میں حضرت کے خالہ زاد بہن کے بیٹے ہیں۔اور حضرت حاجی سید عبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمہ  11 ہویں پشت میںبراہ راست حضرت غوث الثقلین سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد ہیں۔اور آپ حسنی سادات ہیں۔( حوالہ۔ صحائف اشرفی حصہ دوم۔ صفحہ ۔ ۶۲)
حضرت حاجی سیدعبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمۃ والرضوان جانشین حضرت قطب الاقطاب غوث العالم محبوب یزادانی میر سید مولانا اوحدالدین سلطان اشرف جہانگیرنوربخشی سمنانی سامانی قدس سرّہٗ کے چار فرزند ہیں (۱) حضرت سیدشاہ حسن شریف خلف اکبر قدس سرہٗ (۲) حضرت سید شاہ حسین خلف ثانی قدس سرہٗ (۳) حضرت سیدشاہ احمد قدس سرہٗ (۴)  حضرت سیدشاہ فریدقدس سرہٗ تھے ۔حضرت حاجی سیدعبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمۃ والرضوان نے حضرت سیدشاہ حسن شریف خلف اکبر قدس سرہٗ کو اپنا جانشین اور ولایت کچھوچھہ شریف ،  حضرت سید شاہ حسین قدس سرہٗ کو ولایت جونپور،حضرت سیدشاہ احمد قدس سرہٗ کو ولایت جائس ،رائے بریلی، اورحضرت سیدشاہ فریدقدس سرہٗ کو ولایت بارہ بنکی ، رودلی عطا فرمائے تھے
حضرت سید شاہ حسین خلف ثانی قدس سرہٗ نے ایک عرصہ کے بعد ولایت جونپور سے درگاہ کچھوچھہ شریف بغرض چلہ کشی تشریف لائے۔ اور پھر مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اور بڑے بھائی کی محبت وشفقت نے انہیں پناہ دی اور مستقل رہنے کی اجازت بھی عطا فرمائی ۔ اور حضرت خلف اکبر علیہ الرحمہ کی آبے نفسی وسیع القلبی اور والہانہ تعلق خاطر کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے یہ بھی گوارہ نہ کیا کہ خود تمام حقوق رکھنے کے باوجود تنہا ء مراسم عرس شریف اداکریں اور چھوٹے بھائی کے نام کا چراغ روشن نہ ہو ۔لہذاانہوں نے بکمال اخلاص ومحبت اپنے چھوٹے بھائی حضرت سید شاہ حسین خلف ثانی قدس سرہٗ کو  ۲۷؍محرم الحرام کی تاریخ برائے ادائیگی مراسم عرس مرحمت فرمائی اور اپنے لئے  ۲۸؍ محرم الحرام یعنی عرس حضرت مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ کی خاص تاریخ محفوظ رکھی اس طرح حضرت سید شاہ حسین قدس سرہٗ خلف ثانی کو حضرت سیدشاہ حسن شریف  قدس سرہٗ خلف اکبر سرکار کلاں کے بخشندہ یا مرحمت کردہ حقوق سجادہ نشینی حدود درگاہ کچھوچھہ شریف ملے ورنہ حضرت حاجی سیدعبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمۃ والرضوان نے حضرت سید شاہ حسین خلف ثانی قدس سرہٗ کو ولایت جونپور کا سجادہ نامزد فرمایا تھا۔ (حیات محدث اعظم ہند)
اس طرح سادات کچھوچھہ ،جائس ، جونپور وبارہ بنکی تمام حضرت حاجی سیدعبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمۃ والرضوان جانشین حضرت قطب الاقطاب غوث العالم محبوب یزادانی میر سید مولانا اوحدالدین سلطان اشرف جہانگیرنوربخشی سمنانی سامانی قدس سرّہ کی اولاد میں ہیں لیکن کچھوچھہ شریف میں دو خانقاہ ایک خانقاہ حسنیہ سے مرادحضرت سیدشاہ حسن شریف خلف اکبر قدس سرہٗ کی اولاد ہے اور کانقاہ حسینیہ سے مراد حضرت سید شاہ حسین خلف ثانی قدس سرہٗ کی اولاد سے ہیں حضور شیخ الاسلام قبلہ کا تعلق خانقاہ حسنیہ سے ہی ہے آپ کا حسب اور نسب دونوں حضرت سیدشاہ حسن شریف خلف اکبر قدس سرہٗ سے ہوتا ہوا حضرت غوث الثقلین سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے ملتا ہے۔