فضيلت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

logomaqbooliya

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
اُحِلَّ لَکُمْ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنۡتُمْ تَخْتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیۡکُمْ وَعَفَا عَنۡکُمْ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ
ترجمہ کنزالایمان:     روزوں کی راتوں ميں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا(۱) وہ تمہاری لباس ہيں اور تم ان کے لباس اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خيا نت ميں ڈالتے تھے (۲) تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہيں معاف فرمايا  اور اب ان سے صحبت کرو(۳)۔(پ۲، البقرۃ:۱۸۷ )
تفسير:
  (۱) يہ حلتِ قطعی ہے جس کا انکار کفر ہے کبھی مباح يا  مستحب کا انکار بھی کفر ہوتا ہے۔
  (۲) (شان نزول)اسلام ميں اولاً رمضان کی راتو ں ميں اپنی بيوی سے صحبت حرام تھی ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام عليہم الرضوان سے يہ فعل واقع ہو گيا ۔ مقدمہ بارگاہِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم ميں پيش ہوا اس پر يہ آيت اتری اس سے يہ معلوم ہوا کہ بزرگوں کی خطاء چھوٹوں کيلئے عطا کا ذريعہ ہوتی ہے، عالم کا ظہور آدم عليہ السلام کے گندم کھانے کے صدقے سے ہے۔ ہماری اطاعتوں سے ان کی خطائيں افضل ہيں ۔خيا ل رہے کہ يہاں خيا نت سے مراد غلطی ،لغزش، خطا ہے۔ نہ وہ جو گناہِ کبيرہ ہے، جيسے انبيا ء کرام عليہم السلام کی خطا کو قرآنِ مجيد ميں ظلم فرمايا  گيا ۔
  (۳) اس سے ايک مسئلہ يہ معلوم ہوا کہ رب عزوجل نے صحابہ کرام عليہم الرضوان کی گزشتہ غلطی کو معاف فرما ديا  کوئی کفارہ وغيرہ لازم نہ فرمايا ، يہ ان کی خصوصيت ہے ۔ دوسرا يہ کہ اب جو کوئی ان بزرگوں کی اس لغزش کو برائی سے يا د کرے وہ سخت مجرم ہے،رب عزوجل معافی کا اعلان کر چکا تو تم بگڑنے والے کون۔(تفسير نورالعرفان)