گناہ کبیرہ کی تعریف، تعداد اوردیگر متعلقات

logomaqbooliya

 اَئمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ایک جماعت نے کسی بھی  گناہ کے صغیرہ ہونے کا انکار کیا اور ارشاد فرمایا:”تمام  گناہ، کبیرہ ہی ہیں۔” ان اَئمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں اُستاذ ابو اسحاق اسفرا ینی ، قاضی ابو بکر باقلانی بھی شامل ہیں، جبکہ امام الحرمین علیہ رحمۃ الرحمن نے اس بات کو ”الارشاد”میں اور علامہ ابن قشیری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ”المرشد”میں نقل کیا ہے بلکہ علامہ ابن فورک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس قول کو اشاعرہ سے نقل کرکے اپنی تفسیر میں مختار مذہب کے طور پر ذکر کیا ہے۔چنانچہ،
  آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ہمارے نزدیک اللہ عزوجل کی ہر نافرمانی  گناہ کبیرہ ہے اور کسی  گناہ کو صغیرہ یاکبیرہ صرف اُس سے بڑے دوسرے  گناہ کی طرف نسبت کے اعتبار سے کہا جاتاہے۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس آیت مبارکہ:
اِنْ تَجْتَنِبُوْاکَبَآئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ
ترجمۂ کنزالایمان: اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے۔(پ 5 ،النسآء: 31)
میں یہ تاویل بیان کی کہ اس سے مراد اس کا ظاہری معنی ہے۔
  معتزلہ کہتے ہیں:”گناہوں کو دو انواع یعنی صغیرہ اور کبیرہ میں تقسیم کرنا صحیح نہیں۔”
  بعض اوقات علامہ ابن فورک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی اسی بات پراصحاب مذہب کے اتفاق کا دعوی بھی کیاگیا اور بعض علماء جیسے امام تقی الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اسی پر اعتماد کیاہے۔
  قاضی عبد الوہاب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”کسی گناہ کوصغیرہ کہنا اسی صورت میں ممکن ہے جب اس معنی کے اعتبار سے کہاجائے کہ یہ گناہ، کبیرہ گناہوں سے اجتناب کی صورت میں صغیرہ ہوتا ہے ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  یہ قول حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس روایت کے موافق ہے جسے امام طبرانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے روایت کیا ہے مگریہ روایت منقطع ہے ۔(یعنی وہ حدیث جس کے ایک یا زیادہ راوی سا قط ہوں )
  چنانچہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سامنے کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”ہر وہ عمل جسے کرنے سے منع کیا گیا ہے وہ کبیرہ ہے۔”
  اورانہی سے یہ بھی مروی ہے :”ہر وہ عمل جس میں اللہ عزوجل کی نافرمانی کی جائے گناہ کبیرہ ہے ۔”
  جمہور علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں:” گناہ کی دو قسمیں ہیں: (۱)صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ اور(۲)کبیرہ یعنی بڑے گناہ۔ ”
  ان دونوں فریقوں کے نزدیک ان کے معنی میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف تو ان کے صغیرہ یا کبیرہ نام رکھے جانے میں ہے، کیونکہ اس بات پر تو سب کا اجماع ہے کہ بعض گناہ آدمی کی عدالت(یعنی گواہ بننے کی صلاحیت) کو عیب دار کردیتے ہیں جبکہ بعض گناہ عدالت میں نقص نہیں ڈالتے، لہٰذا پہلے گروہ نے گناہ کو صغیرہ کہنے سے اجتناب کیا اوراس نے اللہ عزوجل کی عظمت اور اس کے عقاب کی سختی کی طرف دیکھتے ہوئے اور اس کی جلالت کی وجہ سے اس کی نافرمانی کو صغیرہ نہ کہا کیونکہ گناہِ صغیرہ اللہ عزوجل کی عظمت کے پیشِ نظر نہ صرف بڑا بلکہ بہت بڑا ہے ۔
  جمہور علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس مفہوم پر کچھ زیادہ غوروفکر نہیں کیا، کیونکہ یہ ایک بدیہی اور واضح بات ہے بلکہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ ؕ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنزالا یمان:اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی۔(پ 26 ، الحجرٰت :7)
کی وجہ سے گناہوں کو دو قسموں یعنی صغیرہ اور کبیرہ میں تقسیم کردیا ۔اس آیت کریمہ میں اللہ عزوجل نے نافرمانی کے تین درجے بیان فرمائے اور ان میں سے بعض کوفسوق یعنی حکم عدولی کہا جبکہ بعض کو فسق سے تعبیر نہ فرمایا۔نیزان علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰنے اللہ عزوجل کے اس فرمان سے بھی اِستدلال کیا ہے:
اَلَّذِیۡنَ یَجْتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:وہ جوبڑے گناہوں اوربے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتناکہ گناہ کے پاس گئے اور رُک گئے۔(پ27،النجم :32)
  عنقریب ایک صحیح حدیث مبارکہ پیش کی جائے گی جس میں بیان کیا گیاہے کہ”کبیرہ گناہ سات ہیں۔”
  ایک روایت میں ہے کہ”کبیرہ گناہ نوہیں۔”
   ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ”یہاں سے لے کر وہاں(مثلاً ایک نماز سے دوسری نماز) تک بیچ کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتارہے۔”
  چونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کبیرہ گناہوں کو دیگر گناہوں سے خاص فرمادیا ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اگر تمام گناہ کبیرہ ہوتے توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہرگز ایسا نہ فرماتے اور جس گناہ کا فساد بڑا ہو وہ کبیرہ کہلانے ہی کا مستحق ہے اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانِ عالی شان:
اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْعَنْکُمْ سَیِاٰتِکُمْ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنزالایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے توتمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے۔(پ 5 ،النسآء : 31)
گناہوں کے صغیرہ اور کبیرہ دوقسموں میں منقسم ہونے پر صریح دلیل ہے۔
  امام غزالی علیہ حمۃاللہ الوالی اسی لئے فرماتے ہیں:”کبیرہ اورصغیرہ گناہوں کے مابین فرق کا انکار کرنا درست نہیں کیونکہ اس کی پہچان شریعت کے اُصولوں سے ہوچکی ہے ۔”
  صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے درمیان فرق کے قائل حضرات کا گناہِ کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے اور ہمارے شافعی علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔

پہلی تعریف:

  ”وہ گناہ جس کا مرتکب قرآن وسنت میں منصوص(یعنی صراحتاً بیان کی گئی )کسی خاص سخت وعید کا مستحق ہو۔”
  بعض متأخرین علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے وعید کے ساتھ سخت کی قید کو حذف کر دیا کیونکہ ان کا کہناہے کہ اللہ عزوجل کی ہر وعید سخت ہوتی ہے لہٰذا اس کا تذکرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور دوسرا یہ کہ اس تعریف میں یہ تصریح بھی کی گئی ہے کہ وہ وعید کتاب و سنت میں ہو، یہ بھی بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وعید ہوتی ہی وہ ہے جو کتاب وسنت میں موجودہو۔

دوسری تعریف:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

”ہر وہ گناہ جو حد کو واجب کرے وہ کبیرہ ہے۔” سیدناامام بغوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ اسی تعریف کے قائل ہیں،جبکہ سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”یہ دونوں وہ تعریفیں ہیں جو اکثر کتب میں پائی جاتی ہیں، لہٰذا علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اس تعریف کو ترجیح دینے میں میلان رکھتے ہیں مگر پہلی تعریف ان کی بیان کردہ کبیرہ گناہوں کی تفصیل کی وجہ سے زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم نے بیان کیا ہے کہ بہت سے کبیرہ گناہ ایسے ہیں جن میں حدواجب نہیں ہوتی جیسے سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، والدین کی نافرمانی کرنا، قطع رحمی کرنا، جادو کرنا، چغل خوری، جھوٹی گواہی دینا، شکوہ کرنا، بدکاری کی دلالی کرنا اور بے غیرتی وغیرہ ۔
  اس سے پتہ چلاکہ پہلی تعریف دوسری تعریف سے زیادہ صحیح ہے ۔ سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے اس فرمان کو ”الحاوی الصغیر” کے مصنف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بھی نقل کیا ہے کہ”علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم دوسری تعريف کو ترجیح دینے کی جانب مائل ہيں۔” جبکہ میں نے حضرت سیدنا امام اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ دونوں حضرات کا یہ قول بڑا عجیب ہے کہ”علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم دوسری تعریف کی جانب مائل ہيں جو کہ مقصودسے دور ہے۔” حالانکہ جب انہوں نے پہلی تعریف کو یہ کہتے ہوئے ترجیح دی کہ ہمارے نزدیک وہ  گناہ کبیرہ ہے جس پرنص قائم ہو اگرچہ اس پر حد کانافذ ہونا ضروری نہیں تو اس پر کیا جانے والا یہ اعتراض خود بخود ختم ہوجاتا تھا کہ بخاری و مسلم میں والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی کو کبیرہ شمار کیا گیاہے اس کے باوجود ان پر کوئی حد نہیں۔ تو جس طرح اس دوسری تعریف پرانہوں نے یہ مثالیں دے کر اعتراض کیا اسی طرح اس پہلی تعریف پر بھی یہ اعتراض پیدا ہوتاہے کہ بعض گناہ ایسے بھی ہیں کہ ان کا کبیرہ ہونا تو معلوم ہے لیکن ان پر کوئی نص وارد نہیں ،جیسا کہ علامہ ابن عبد السلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کئی ایسے کبیرہ  گناہوں کا تذکرہ کیا ہے جن پر بالاتفاق کوئی بھی نص وارد نہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تیسری تعریف:

  ہروہ گناہ جس کی حرمت پر کوئی نص وارد ہو یا اس کی جنس میں سے کسی فعل پر حد واجب ہوتی ہو اور اس کے ارتکاب سے فوری طور پرلازم ہونے والے فرض کو چھوڑنا پڑتا ہو اور گواہی ، روایت اور قسم میں جھوٹ بولناپڑے تویہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔
  علامہ ہروی علیہ رحمۃاللہ القوی نے اپنی کتاب ”الاشراف” اور قاضی شریح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ”الروضۃ” میں یہ اضافہ کیا ہے کہ”اِجماع عام(یعنی سلف سے منقول ہر دور میں قائم رہنے والا اجماع ) کامخالف ہر قول بھی  گناہِ کبیرہ ہے۔”

چوتھی تعریف:

  سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اُمورِ دینیہ کی انجام دہی میں لاپرواہی و بے توجہی سے کام لینا کبیرہ  گناہ ہے، کیونکہ دینی اُمور کی بجاآوری میں حد سے زیادہ نرمی اختیار کرنا عدالت(یعنی گواہ بننے کی صلاحیت) کو باطل کردیتاہے اورلا پرواہی و بے توجہی اُمور دینیہ کی ادائیگی اس بات کو ثابت نہیں کرتی بلکہ اس کے مرتکب سے ظاہری طورپر حُسنِ ظن باقی رہتا ہے اور اس کی عدالت کو باطل نہیں کرتا۔
  سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:”دو متضادچیزوں میں فرق کرنے کے لئے یہ سب سے بہتر تعریف ہے۔” یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن قشیری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ”المرشد” میں اسے ذکر کیا اور سیدنا امام سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے اس تعریف کو پسند کیا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک انسان کسی فعل کو ہیچ اور حقیر جانتے ہوئے سر انجام دے لیکن اس کا یہ ہیچ سمجھنا دیانۃً نہ ہو بلکہ حد درجہ تقوی اور اُمید ِمغفرت کی وجہ سے ہو تو گناہِ کبیرہ ہو گا اور اگر وہ فعل محض دل میں پیدا ہونے والے وسوسے یا پھر آنکھ کے بہک جانے کے سبب ہو تو صغیرہ ہو گا۔ یہاں دیانۃً سے مراد یہ ہے کہ وہ اصلاً اس فعل کو حقیر نہ جانتا ہو کیونکہ اُمورِ دینیہ میں سے کسی چھوٹے سے فعل کو بھی حقیرسمجھنا کفر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعریف میں جو الفاظ استعمال کئے وہ لا پرواہی وبے توجہی کے ہیں ،یہ نہیں کہا کہ قطعاً ان کی پرواہ ہی نہ کی جائے۔کفر اگرچہ سب سے بڑا کبیرہ  گناہ ہے لیکن یہاں مراد اس کے علاوہ وہ افعال ہیں جو کہ ایک مسلمان سے سر زد ہوتے ہیں۔

  علامہ برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”متأخرین علماء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم نے امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کو ترجیح دی شاید اس وجہ سے کہ احادیث میں جو کبیرہ  گناہوں کی تفصیل مروی ہے اور قیاس کے مطابق جو گناہ کبیرہ ہیں ان سب کو امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا قول کفایت کرتا ہے۔”گویا ایسے محسوس ہورہا ہے کہ علامہ برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ان اعتراضات کو نہیں دیکھا جو انہوں نے سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے اس قول کے بارے میں کئے ہیں۔
  حاصلِ کلام یہ ہے کہ جب حضرت سیدنا امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے کلام میں غورو فکر کریں تو یہ بات معلوم ہو گی کہ ان کے نزدیک اس تعریف میں کبیرہ پر کوئی حد نہیں ان لوگوں کے برعکس جنہوں نے اس تعریف سے یہ سمجھا ہے کہ یہاں بھی حد ہے، کیونکہ یہ تعریف ان چھوٹی حقیر باتوں کو بھی شامل ہے جو کبیرہ گناہ نہیں، نیز اس تعریف میں ان چھوٹی حقیر باتوں کو بھی شامل کردیا گیاہے جن سے عدالت باطل ہو جاتی ہے اگرچہ وہ گناہِ صغیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔
  یہ تعریف پہلی دوتعریفوں سے زیادہ عام ہے کیونکہ یہ آئندہ آنے والے تمام کبیرہ گناہوں پر صادق آتی ہے مگر یہ تعریف مانع نہیں جیسا کہ آپ جان چکے ہیں کہ یہ صغیرہ گناہوں پر بھی صادق آتی ہے مثلاً صغیرہ پر اصرار وغیرہ۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  علامہ برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سیدنا امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے گذشتہ توجیہات نقل کرکے ارشاد فرمایا:”بعض محققین رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان تما م تعریفات کو جمع کرلینا چاہے تا کہ قرآن وسنت اور قیاس سے معلوم شدہ کبیرہ گناہوں کو شمار کیا جاسکے کیونکہ بعض گناہوں پر ایک تعریف پوری طرح صادق نہیں آتی تو بعض پر دوسری اس لئے ان تعریفات کو جمع کرنے ہی سے ان کی صحیح تعداد معلوم ہوسکتی ہے ۔”
  مَیں (مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کہتاہوں :امام صاحب کی اس تعریف میں جو بھی تھوڑا بہت غورو فکر کرے تو اس پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ آئندہ بیان کئے جانے والے ہرگناہ پریہ تعریف پوری اُترتی ہے۔” اور ”الخادم” میں سیدناامام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کونقل کرنے کے بعد صاحبِ کتاب لکھتے ہیں:”تحقیق یہ ہے کہ ان وجوہات میں سے ہر ایک کبیرہ گناہوں کی بعض اقسام پر ہی منحصر ہے، جبکہ ان سب کے مجموعے سے کبیرہ گناہوں کی معرفت کا قاعدہ کلیہ حاصل ہوجاتاہے۔”
  اسی لئے علامہ ماوردی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”کبیرہ گناہ وہ ہے جو حد کو واجب کرے یا جس پر وعید آئی ہو۔” اور  علامہ ابن عطیہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”ہر وہ گناہ جس پر حد واجب ہو یا جس کے ارتکاب پر جہنم کی وعید یالعنت آئی ہو وہ کبیرہ ہے۔” اور امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی بیان کردہ تعریف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ”اگر کوئی شخص چوری کے نصاب سے کم مالیت کا مال غصب کرلے تو وہ گناہ صغیرہ کا مرتکب ہے حالانکہ اس کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے، لہٰذا قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہونا چاہے اور اسی طرح اجنبی عورت کو بوسہ دینا صغیرہ گناہ ہے حالانکہ ایسا کرنے والے کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں گناہوں کا صغیرہ ہونا ان علماء کرام کی رائے کے مطابق ہے جو ان تمام تعریفات کو جمع کرنے والے ہیں، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا جبکہ سیدناامام رافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تعریف کے مطابق یہ دونوں کبیرہ ہیں لہٰذا اعتراض ہی نہ رہا، نیز یہ اعتراض تو اس وقت درست ہوتا جب علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اس بات پر اتفاق ہوتا کہ یہ صغیرہ گناہ ہيں حالانکہ یہ ایسے افعال ہيں جن کے کرنے والے کو لوگ اچھا خیال نہیں کرتے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

پانچویں تعریف:

  ”ہر وہ فعل جو حد واجب کرے یا اس کے ارتکاب پر وعید آئی ہے وہ کبیرہ ہے جب کہ جس فعل میں گناہ کم ہو وہ صغیرہ ہے۔”اس تعریف کو علامہ ماوردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ”الحاوی” میں ذکر کیا ہے۔

چھٹی تعریف:

  ”ہروہ گناہ جو بذات خود حرام اور فی نفسہٖ ممنوع ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔” اگر کوئی شخص ایسے فعل کا ارتکاب ان دونوں قیودات یا حرمت کی دیگر وجوہات کو پیشِ نظر رکھ کر کرے تو یہ زیادہ بُرا ہے جیسے زنا ایک کبیرہ گناہ ہے اور پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا اورزیادہ سخت بُراہے۔اس وقت تک صغیرہ گناہ صغیرہ ہی رہے گا جب تک کہ اس کا مرتبہ منصوص علیہ(یعنی جس کے کبیرہ ہونے کاواضح حکم ہو) سے کم ہو یا وہ منصوص علیہ سے کم درجہ کی کسی اور علَّت کے مقابل ہو اور اگر اس میں دو یا دو سے زیادہ حرمت کی وجوہات پائی جائیں تو وہ صغیرہ، کبیرہ ہوجائے گا ،لہٰذا بوسہ دینا ، چھونا اور رانوں پر ران رکھنا صغیرہ گناہ ہيں لیکن پڑوسی کی بیوی کے ساتھ یہ کام کبیرہ گناہ ہیں۔۱؎ جیسا کہ علامہ ابن رفعۃ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قاضی حسین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اور انہوں نے علامہ حلیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے نقل کیا اور عنقریب ان کی عبارت کی تفصیل اپنی جگہ آ ئے گی اور ان کا مختار مذہب بھی یہی ہے کہ ہر گناہ میں صغیرہ او رکبیرہ دونوں پہلو ہوتے ہیں۔
  کبھی کسی قرینہ کی وجہ سے صغیرہ گناہ کبیرہ ہو جاتاہے اور کبیرہ گناہ کسی قرینہ کی وجہ سے زیادہ فحش ہوجاتا ہے، مگر اللہ عزوجل کے ساتھ کفر کرنا تمام کبائر سے زیادہ بُرا ہے اور اس کی انواع میں سے کوئی گناہِ صغیرہ نہیں۔ اس کی چند مثالیں تفصیل کے ساتھ اپنے مقام پر آئيں گی۔

ساتویں تعریف:

  ”ہر وہ فعل جس کی حرمت پر قرآن پاک میں نص وارد ہو یعنی قرآن پاک میں اس کے بارے میں تحریم (یعنی حرام کرنے)کا لفظ استعمال کیا گیاہو۔” قرآن کریم میں جن چیزوں کی حرمت الفاظ میں مذکور ہے وہ چار ہیں: مردار اور خنزیر کا گوشت کھانا، یتیم وغیرہ کا مال کھانا اور میدان جہاد سے بھاگنا۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ یہی چار چیزیں ہيں۔

آٹھویں تعریف:


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  ”کبیرہ گناہ کی کوئی خا ص تعریف نہیں جس کے ذریعے بندہ اس کی معرفت حاصل کر سکے۔” ہمارے شافعی علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے علامہ واحدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ”بسیط” میں اسی قول پر اعتماد کیا ہے، چنانچہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”صحیح بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کی کوئی ایسی تعریف نہیں جس    ذریعے بندے اس کی معرفت حاصل کر سکیں ورنہ تو لوگ صغیرہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتے بلکہ انہیں جائزو مباح سمجھنے لگتے مگر اللہ عزوجل نے کبیرہ گناہوں کو بندوں سے پوشیدہ رکھا تا کہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچنے کے لئے ہر ممنوع فعل سے بچنے کی کوشش کریں اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں جیسے اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی،(یعنی بیچ کی نماز) لَیْلَۃُالْقَدْر اور دعا کی قبولیت کی گھڑی وغیرہ کو پوشیدہ رکھا گیا۔”
  مگران کی یہ بات درست نہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ اس کی ایک معین تعریف ممکن ہے جیسا کہ گذشتہ سطور میں بیان کیا جاچکاہے۔ پھر میں نے بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو علامہ واحدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی یہی بات نقل کرتے ہوئے دیکھا مگر انہوں نے بھی اس بات کو اس طور پر بیان کیا جس سے ان پر ہونے والے اعتراضات کچھ کم ہو گئے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ شافعی مفسر علامہ واحدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”تمام کبیرہ گناہ پہچانے نہیں جاسکتے یعنی انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔” علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ گناہوں کے بارے میں تو بتا دیا گیا کہ یہ کبیرہ ہیں اور کچھ کے بارے میں بتا دیا گیا کہ یہ صغیرہ ہیں لیکن کچھ گناہ ایسے ہیں جن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ جبکہ اکثر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”کبیرہ  گناہ تو مشہور ہیں، البتہ! اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا انہیں کسی تعریف ، ضابطہ یا تعداد کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے یا نہیں؟”
  اب ہم کبیرہ گناہ کے بارے میں اصحاب شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ متاخرین اور دیگر بزرگوں رحمہم اللہ تعالیٰ کی عبارات نقل کرتے ہیں ۔چنانچہ
٭۔۔۔۔۔۔ان میں سے ایک قول حضرت سیدنا حسن بصری، حضرت سیدنا ابن جبیر، حضرت سیدنا مجاہد اور حضرت سیدنا ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں کہ”ہر وہ گناہ، کبیرہ ہے جس کے مرتکب سے جہنم کا وعدہ کیا گیا ہو۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی فرماتے ہیں :”ہروہ گناہ جسے آدمی خوف یا ندامت محسوس کئے بغیر حقیر جانتے ہوئے کرے اور وہ اس پر جری بھی ہوتو وہ کبیرہ ہے اور جو گناہ دل کے وسوسوں کی پیداوار ہو اورپھر اس پر ندامت بھی محسو س ہونیز اس سے لذت حاصل کرنا بھی دشوار ہو تو وہ کبیرہ نہیں ۔”
  سیدناامام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:”یہ ضروری نہیں کہ کبیرہ گناہوں کی کوئی خاص تعداد جانی جائے کیونکہ ان کی پہچان فقط سماعی (یعنی سنی سنائی )ہے اوران کی تعداد کے بارے میں کوئی نص بھی نہیں۔”
  علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی پہلی بات پر یہ اعتراض کیاکہ یہ سیدنا امام رافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کی تفصیل ہے ، مگر یہ بات سخت مشکل میں ڈالنے والی ہے کیونکہ اگر کبیرہ گناہوں کی معرفت کا قاعدہ یہی ہو تو اس پر اعتراض وارد ہوتاہے کہ اگر کوئی شخص زنا جیسا بُرا فعل کرے اوراس پر ندامت محسوس کرے تو کیا یہ کبیرہ گناہ شمار نہ ہوگا؟ اس صورت میں اس تعریف کے مطابق یہ گناہ کبیرہ شمار نہیں ہوتا، نہ ہی یہ معصیت اس کی عدالت کو ختم کرتی ہے، حالانکہ یہ بات بالاتفاق درست نہیں۔ البتہ اگر اس قاعدہ کو ان کبیرہ گناہوں پر محمول کیا جائے جن کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی تو یہ حقیقت سے زیادہ قریب ہوگا۔
  علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”شاید علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ خیال کیا ہے کہ ہر وہ گناہ جس کی تعریف بھی مذکور ہو تووہ منصوص میں داخل ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ، یعنی امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی کابیان کردہ قاعدہ منصوص کے علاوہ دیگر کبائر کے لئے ہے اور یہ حقیقت سے زیادہ قریب ہے،جبکہ علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خود ارشاد فرمایا:”تمام تعریفات منصوص گناہوں کے علاوہ دوسرے گناہوں کو بھی شامل ہیں۔”
٭۔۔۔۔۔۔ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”مناسب ترین بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے فاعل سے اپنے دین کو اس طرح ہلکاجاننا ظاہرہو جس طرح کہ وہ منصوص علیہ کبیرہ گناہ کو صغیرہ سمجھتا ہو۔” مزید فرماتے ہیں: ”جب آپ صغیرہ اور کبیرہ کے درمیان فرق جانناچاہیں تو اس گناہ کے فساد کو منصوص علیہ کبیرہ گناہ کے مقابل رکھ کر دیکھیں اگر اس گناہ کا نقصان کبیرہ سے کم ہے تو یہ صغیرہ ہو گا ورنہ کبیرہ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ”منصو ص علیہ کبیرہ گناہوں کا احاطہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ان گناہوں کو نہ جان لیا جائے جو فساد کے اعتبار سے ان سے کم تر ہوں اورجب تک واقع شدہ گناہ کی خرابی کے ساتھ ان کبیرہ گناہوں کا موازنہ نہ کرلیاجائے ،جو کہ دشوار ہے۔”
  علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ،علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا یہ قول لکھنے کے بعد فرماتے ہیں:”علامہ اذرعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یہ اعتراض تو کر دیا مگر جب اس کے بارے میں وارِد صحیح احادیث کو جمع کیا جائے تو اس میں کوئی دشواری باقی نہیں رہتی۔” اورحقیقت میں ایسا کرنا واقعی مشکل ہے کیونکہ اگر اس کے بیان میں وارِد صحیح احادیث کو جمع کرنے کے امکان کو فرض کر بھی لیاجائے اور ہم تمام کبیرہ گناہوں کے فساد کااحاطہ بھی کرلیں تب بھی یہ جاننا اِنتہائی مشکل اَمر ہے کہ ان میں سے کس گناہ کا فساد کم ہے کیونکہ یہ شارع علیہ الصلوٰۃو السلام کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔”
  علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے قول کا کھو کھلا پن ظاہر کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ”جس نے اللہ عزوجل کو معاذاللہ گالی دی یا اس کے کسی رسول کی توہین کی یا خانہ کعبہ یا قرآن پاک کو گندگی سے آلودہ کر دیا تو اس کا یہ فعل کبیرہ ترین گناہ ہے حالانکہ شارع علیہ الصلوٰۃو السلام نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح نہیں فرمائی۔ اور ان کے رَد کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس بد بخت کا یہ عمل اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنے کے زمرے میں آتاہے جو کہ منصو ص علیہ کبیرہ گناہوں میں سرِ فہرست ہے کیونکہ یہاں شرک سے بالاجماع مطلق کفر مراد ہے نہ کہ صرف شرک۔
  علامہ شمس برماوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”یہ سب اس صورت میں ہے جب کبیرہ گناہ کی تفسیر امام الحرمین رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بیان کردہ معنی کے مطابق نہ ہو بلکہ کفر اور دیگر گناہوں سے عام ہونے کی بناء پر کی جائے اور مَیں( مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) گذشتہ صفحات میں یہ بات بیان کرچکا ہوں کہ امام الحرمین وغیرہ کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کی جوتعریفیں بیان کی گئیں ہیں یہ کفر سے کم تر گناہ کی تعریفیں ہیں کیونکہ اگر کفر کو کبیرہ گناہ کہنا درست ہوتو یہ اکبرالکبائر ہوگا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مذکورہ قول کے بعد چند مثالیں بھی دی ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں: 

(۱)۔۔۔۔۔۔جس نے کسی شادی شدہ پاک دامن عورت کو زنا کے لئے یا کسی مسلمان کوقتل کرنے کے لئے قید کرلیا تو بلاشبہ اس کی برائی یتیم کا مال ناحق کھانے والے سے زیادہ ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اگر کسی نے یہ جاننے کے باوجود کہ کفار میرے بتانے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے، ان کی عورتوں اور بچوں کو گالیاں ديں گے اور ان کے اموال کو غنیمت بنا لیں گے، پھر بھی کافروں کو مسلمانوں کی کمزوریاں بتائیں تو اس کی برائی جہاد سے بغیر عذر فرار ہونے سے بہت زیادہ ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اگر کسی نے مسلمان پر جھوٹا الزام لگایا حالانکہ وہ جانتا تھا کہ جھوٹے الزام کی وجہ سے اسے قتل کردیا جائے گا تو اس کی برائی بھی بہت زیادہ ہے۔
  علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کئی مثالیں دینے کے بعد ارشاد فرمایا:”بعض علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے کبیرہ گناہ کی پہچا ن کے لئے یہ قاعدہ بنایا ہے کہ”ہر وہ گناہ جس پر کوئی وعید آئی ہو یا اس کے ارتکاب سے حد یا لعنت لازم آتی ہو تو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ لہٰذا راستے کے نشان بدل دینا بھی گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ اس پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح ہر وہ گناہ جس کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس کے مفاسد ان گناہوں کی طرح ہیں جن پر وعید، لعنت یا حدوارِد ہوئی ہے یا اُن کے مفاسد ان سے زیادہ ہیں تو وہ گناہ بھی کبیرہ ہیں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    علامہ ابن دقیق العید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ایسی صورت میں یہ بات شرط قرار پاتی ہے کہ اس برائی اور فساد کو لیا ہی نہ جائے جو کسی دوسرے اَمر سے خالی ہو کیونکہ اس میں غلطی واقع ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کیا آپ نہیں جانتے کہ خمر (شراب) کی جو برائی فوراً ذہن میں آتی ہے وہ نشہ اور عقل کا خلجان ہے اگر ہم فقط ان دو چیزوں کو اس کی برائی میں شمار کریں تواس سے یہ بات لازم آئے گی کہ شراب کا ایک قطرہ پینا  گناہِ کبیرہ نہیں کیونکہ اس میں یہ برائیاں نہیں پائی جاتیں حالانکہ یہ بھی  گناہ کبیرہ ہے کیونکہ ایک قطرہ پینا زیادہ شراب پینے کاپیش خیمہ ہے جو کہ ان مفاسد میں ڈال دیتاہے لہٰذاقطرے کی یہی حیثیت اسے کبیرہ کردیتی ہے۔” 

  علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”علامہ ابن دقیق العید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے شراب کے ایک قطرے کا جو ذکر کیا ہے ان سے پہلے علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا ذکر کیاتھا، پھر اپنے قواعد میں یہ بات نقل کرنے کے بعد فرمایا:”میں نے اس تعریف سے بہتر کسی عالم کی بیان کردہ تعریف نہیں دیکھی۔” شاید ان کی مراد یہ ہے کہ میں نے کوئی ایسی تعریف نہیں دیکھی جو اعتراض سے بھی محفو ظ ہو اورجامع و مانع بھی ہو۔
٭۔۔۔۔۔۔علامہ ابن صلاح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:”علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کبیرہ کی اس تعریف کو اختیار کیاہے کہ”کبیرہ ہراس گناہ کو کہتے ہیں جو اتنا بڑا ہو کہ اسے کبیرہ گناہ کہا جاسکتا ہو اور اسے علی الاطلاق کبیرہ گناہ کے ساتھ متصف کیا جاتا ہو، اس کی چند علامتیں ہیں:(۱)وہ گناہ حد کو واجب کرتاہو (۲)اس کے ارتکاب پر عذابِ جہنم کا وعدہ ہو اور اس کی وعید قرآن وحدیث میں بیان کی گئی ہو(۳)اس کے فاعل کو فاسق کہا جاتا ہو اور (۴)اس پر لعنت وارد ہوئی ہو۔”
  شیخ الاسلام علامہ بارزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ”الحاوی”کے حاشیہ پرلکھی گئی اپنی تفسیر میں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے: ”تحقیق یہ ہے کہ ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر قرآن وحدیث میں وعید یا لعنت وارد ہوئی ہو یا جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس کی برائی مذکورہ گناہ جیسی یا اس سے زیادہ ہے یا منصوص علیہ کبائر کوصغیرہ گناہ جاننے کی طرح اس کے مرتکب کااپنے دین کو ہلکا جاننا ظاہر ہوتا ہو جیسے کسی کو بے گناہ سمجھ کر قتل کر دیا پھر پتہ چلا کہ وہ قتل ہی کا حق دار تھا یا کسی عورت سے یہ گمان کرتے ہوئے جماع کرنا کہ میں زنا کر رہا ہوں پھر پتہ چلا کہ وہ اس کی اپنی ہی بیوی یا لونڈی تھی۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  علامہ بارزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جو باتیں آخر میں ذکر کی ہیں انہیں علامہ ابن عبدالسلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے قواعد کی ابتدا ء میں ان سے پہلے ہی ذکر کردیا تھا اور علامہ بارزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جو کلام ابتداء میں کیا ہے، حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول اس کی تائید کرتا ہے کہ”ہر وہ گناہ جس پر اللہ عزوجل نے جہنم، غضب، لعنت یا عذاب کی مُہر لگا دی ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔” اسے حضرت ابن جریررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیاہے۔
  جان لیں کہ بیا ن کردہ تمام تعریفات سے ان بزرگوں کا مقصود فقط اِعتدال کی راہ اختیار کرنا ہے ورنہ یہ تعریفات جامع نہیں ہیں اور جس چیز کی معرفت کا کوئی خاص قاعدہ مقرر نہ ہو اس کا شمار کیونکر ممکن ہے؟
  بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں کی صرف تعداد بیان کی ہے کوئی تعریف بیان نہیں کی۔ لہٰذا حضرت سیدنا ابن عباس اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ”کبیرہ گناہ وہ ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے سورۂ نِساء کی ابتدائی آیات سے لے کر اس آیت:
اِنْ تَجْتَنِبُوْاکَبَآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ
ترجمۂ کنزالایمان :اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے۔(پ5، النسآء:31)
تک بیان کیاہے۔” ایک قول یہ ہے کہ”کبیرہ گناہ سات ہیں۔”اس پر صحیحین(یعنی بخاری مسلم) کی اس روایت سے استدلال کیا گیا ہے چنانچہ،
(1)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ہلاکت میں ڈالنے والے سات گناہوں سے بچتے رہو،وہ یہ ہیں: (۱)اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا(۲)جادو کرنا(۳)اللہ عزوجل کی حرام کردہ جان کو ناحق قتل کرنا(۴)یتیم کا مال کھانا (۵)سود کھانا (۶) جہاد کے دن میدان سے فرار ہونا اور(۷)سیدھی سادی پاک دامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔”
(صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یأکلون اموال الیتمی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۷۶۶،ص۲۲۲)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(2)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نِشان ہے :”کبیرہ گناہ یہ ہیں:(۱)اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا(۲)جادو کرنا (۳)والدین کی نافرمانی کرنا اور (۴)کسی جان کوقتل کرنا۔”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب الکبائر واکبرھا، الحدیث:۲۶۱،ص۶۹۳،بدون”السحر”)
(3)۔۔۔۔۔۔بخاری شریف کی روایت میں یہ اضافہ ہے :”جھوٹی قسم اٹھانا۔”
(صحیح البخاری ،کتاب الایمان والنذور، باب الیمین الغموس، الحدیث:۶۶۷۵،ص۵۵۸)
(4)۔۔۔۔۔۔جبکہ مسلم شریف کی روایت میں ”جھوٹی قسم” کی جگہ ”جھوٹی گواہی ” کاذکر ہے۔
(صحیح مسلم،کتاب الایمان، باب الکبائرواکبرھا،الحدیث:۲۶۰،ص۶۹۳)
  اس کا جواب یہ ہے کہ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ تعداد حالات کے تقاضوں کی بناء پر ارشاد فرمائی تھی اس سے کبیرہ گناہوں کو اس تعدادمیں محصور کرنا ہر گز مقصود نہ تھا۔
  جن بزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ”کبیرہ گناہ صرف سات ہیں۔”ان میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب ، حضرت سیدنا عطاء اور حضرت سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم شامل ہیں۔
  ایک قول کے مطابق کبیرہ گناہ ”پندرہ ”، ایک کے مطابق”چودہ ” اور ایک قول کے مطابق ”چار” ہیں۔
  حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ” گناہِ کبیرہ تین ہیں۔”اور انہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ”دس” ہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    جبکہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے امام عبدالرزاق اور طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نے روایت کیا :”ان کی اقسام کی تعداد کا ”ستر ”ہونا سات سے زیادہ قریب ہے۔” اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلیل القدر شاگرد حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”ان کا اپنی انواع اور اصناف کے اعتبار سے سات سو (700)کی تعدا د میں ہونا زیادہ مناسب ہے ۔” 

(5)۔۔۔۔۔۔امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس قول کو حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دریافت کيا:”کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟ کیاان کی تعداد سات ہے؟” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”ان کی تعداد کا سات سو(700)ہونا سات(7) ہونے سے بہتر ہے مگر یہ کہ کوئی کبیرہ گناہ اِستغفار یعنی توبہ اور اس کی شرائط کی موجودگی میں کبیرہ نہیں رہتا اور کوئی صغیرہ گناہ اصرار کے بعد صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتاہے)۔”
(تفسیردرِمنثور،تحت الآیۃ ان تجتنبوا کبائر۔۔۔۔۔۔الخ،ج۲ص۵۰۰)
  امام دیلمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ہم نے اپنے اجتہاد سے ان کی تعداد کو اپنی ایک کتا ب میں ذکر کردیا ہے جو کہ چالیس سے زیادہ ہے۔” لہٰذا حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے فرمان کی تاویل کی جائے گی۔
  شیخ الاسلام علامہ علائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنے قواعد میں فرماتے ہیں:”میں نے ایک رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں ان کبیرہ گناہوں کوذکر کیا جن کے کبیرہ ہونے کی شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تصریح فرمائی ہے اور وہ یہ ہیں:” شرک کرنا، قتل کرنا، زنا کرنا اورزنا میں سب سے بڑا گناہ پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا، میدان جنگ سے فرار ہونا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا، جادو کرنا، مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا، جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی قسم اٹھانا، چغلی کھانا، چوری کرنا، شراب پینا، بیت الحرام کو حلال ٹھہرانا، بیعت توڑنا ، سنت چھوڑنا، ہجرت کے بعد عرب کا دیہاتی بننا، اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا، اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا، مسافر کو اپنی ضرورت سے زائد پانی کے استعمال سے روکنا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، والدین کی نافرمانی کرنا، والدین کو گالیاں دلوانے کے اسباب پیدا کرنا، وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچانا۔” احادیثِ مبارکہ میں انہی پچیس(25) گناہوں کے کبیرہ ہونے کی تصریح آئی ہے۔
  مَیں(مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کہتاہوں :”ان گناہوں میں یہ اضافہ بھی کیاجاسکتاہے: مالِ غنیمت میں خیانت کرنا اور نرجانور کو جفتی سے روکنا، بلکہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے جیسا کہ آئندہ آنے والی بزار کی روایت میں بیان ہوگا، اسی طرح بیت الحرام کی بے حرمتی کرنا جیسا کہ بیہقی شریف کی روایت میں آئے گا اور یہ بے حرمتی بیت الحرام کو حلال ٹھہرانے کے علا وہ ہے جیسا کہ ظاہر ہے، حرمِ پاک میں کسی بھی قسم کے گناہ کے اِرتکاب پر حرم کی بے حرمتی ثابت ہو جائے گی خواہ وہ پوشیدہ ہی ہو ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    پھر جب مَیں نے علامہ جلال بلقینی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتب کا مطالعہ کیا تو دیکھا کہ انہوں نے بیان کردہ اقوال کے بعد لکھا ہے کہ”گذشتہ احادیث میں مذکور بہت سی چیزیں بیان ہونے سے رہ گئی ہیں۔ مثلا نر جانور کوجفتی سے روکنا، جادو سیکھنا اور اس پرعمل کی کوشش بھی کرنا، اللہ عزوجل سے برا گمان رکھنا، خیانت کرنا اور بغیر عذر کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا البتہ اس کے بارے میں وارد حدیثِ پاک ضعیف ہے، اس کے ساتھ ہی منصوص علیہ کبیرہ گناہوں کی تعداد تیس(30) ہو گئی، مگر نرجانور کو جفتی سے روکنے والی روایت کی سندبھی ضعیف ہے اوراس کا نقصان دیگر کبیرہ گناہوں سے کم ہے ہم نے اسے صرف اس لئے ذکر کیا ہے کہ اس کا ذکر گذشتہ صفحات میں ایک حدیثِ مبارکہ میں ہوچکا ہے۔”

اعتراض:چوری کے کبیرہ گناہ ہونے کے بارے میں کسی حدیثِ مبارکہ میں تصریح نہیں آئی بلکہ حدیثِ پاک میں تو خیانت کے گناہ کبیرہ ہونے پر تصریح وارد ہوئی جس کا مطلب مالِ غنیمت سے چوری کرنا ہے۔
جواب:اس کے بار ے میں تصریح صحیحین میں موجود ہے، چنانچہ،
(6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”چور چوری کرتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔”
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب بیان نقصان الایمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۲،ص۶۹۰)
(7)۔۔۔۔۔۔ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان ہے :”اگر اس نے ایسا کیا(یعنی چوری کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتاردیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عزوجل اس کی تو بہ قبول فرمالے گا۔”
(سنن نسائی،کتاب قطع السارق،باب تعظیم السرقۃ،الحدیث:۴۸۷۶،ص۲۴۰۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  اسی طرح ان کا یہ قول کہ”بیعت توڑنا” تو اس کے بھی کبیرہ گناہ ہونے پر کوئی صریح نص وارد نہیں ہوئی بلکہ اس پر ایک سخت وعید آئی ہے ،اسی طرح سنت ترک کرنے کے گناہِ کبیرہ ہونے پر بھی کوئی نص نہیں بلکہ امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مستدرک میں ایک روایت کو شرط امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر صحیح قراردیتے ہوئے روایت کیا ہے کہ،
(8)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:”فرض نمازوں، جمعہ اور رمضان کے کفاروں کی مثل دیگر ( گناہوں کے) بھی کفارے ہیں مگر اِن تین گناہوں کا کوئی کفارہ نہیں:(۱) اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا(۲) بیعت توڑنا او ر(۳)سنت کو چھوڑنا۔”
(المستدرک،کتاب العلم ، باب الصلاۃ المکتوبۃ الی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۲۰،ج ۱،ص۳۲۳)
(9)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بیعت توڑنے کی وضاحت یوں فرمائی ہے :”تم قسم کے ساتھ کسی شخص کی بیعت کرو، پھر اس بیعت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی تلوار کے ذریعے اس سے لڑ پڑو۔”     (المرجع السابق)
(10)۔۔۔۔۔۔ترکِ سنت کی وضاحت میں حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ”اس سے مراد جماعت سے علیحدہ ہونا ہے۔”  (المرجع السابق)
(11)۔۔۔۔۔۔مسند احمد اور ابو داؤد شریف کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے بالشت بھر بھی جماعت سے علیحدگی اختیار کی تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا۔”
(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ،باب فی الخوارج ، الحدیث:۴۷۵۸،ص۱۵۷۳)
  نیز ترکِ سنت سے مراد بدعات کی پیروی کرنا ہے اللہ عزوجل ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَآلہٖ وَسَلَّم


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  ان احادیثِ مبارکہ کی طرف اشارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جن میں گناہوں کاتذکرہ موجود ہے، ان احادیث کی دوقسمیں ہیں: پہلی قسم وہ ہے جس میں کسی گناہ کے کبیرہ یا اکبرالکبائر ہونے یاسب سے بڑے گناہ، یا ہلاکت میں ڈال دینے والے  گناہ ہونے کی تصریح کی گئی ہو۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں لعنت ، غضب یا سخت وعید کا ذکر ہو۔
۱؎ :اجنبی عورت کے چہرہ اور ہتھيلی کو اگرچہ ديکھنا جائز ہے مگرچھونا جائز نہيں اس لئے کہ شہوت کا مکمل انديشہ ہے کيونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت (اور بلوائے عام) ہے۔ چھونے کی ضرورت نہيں لہٰذا چھوناحرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مصافحہ جائز نہيں اس لئے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بوقت  بيعت بھی عورتوں سے مصافحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بيعت ليتے ،ہاں اگر وہ بہت بوڑھی ہو ں کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مصافحہ کرنے ميں کوئی حرج نہيں اگر مرد زيادہ بوڑھا ہو کہ فتنے کا انديشہ ہی نہ ہو تو مصافحہ کر سکتا ہے ۔          (بہارِ شريعت، ج ۲،حصہ ۱۶،ص۷۸)