حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی توبہ:

logomaqbooliya

(53)۔۔۔۔۔۔منقول ہے کہ حضرت سیدنا مالک بن ديناررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ(توبہ سے پہلے) نشہ کے عادی تھے، آپ کی توبہ کا سبب يہ بنا کہ آپ اپنی ايک بيٹی سے بہت محبت کيا کرتے تھے، اس کا انتقال ہوا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے شعبان کی پندرھويں رات خواب ديکھا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی قبر سے ايک بہت بڑا اژدھا نکل کر آپ کے پيچھے رينگنے لگا، آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جب تيز چلنے لگتے وہ بھی تيز ہو جاتا، پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ايک کمزور سن رسیدہ شخص کے قريب سے گزرے تو اس سے کہا :” مجھے اس اژدھے سے بچائیں۔” انہوں نے جواب ديا :” ميں کمزور ہوں، رفتار تيز کر لو شايد اس طرح اس سے نجات پا سکو۔” تو آپ مزید تيز چلنے لگے، اژدھا پيچھے ہی تھا يہاں تک کہ آپ آگ کے ابلتے ہوئے گڑھوں کے پاس سے گزرے، قريب تھا کہ آپ اس ميں گرجاتے، اتنے میں ايک آواز آئی:”تو ميرا اہل نہيں ہے۔” آپ چلتے رہے حتیٰ کہ ايک پہاڑ پر چڑھ گئے، اس پر شاميانے اور سائبان لگے ہوئے تھے، اچانک ايک آواز آئی:”اس نااميد کو دشمن کے نرغے ميں جانے سے پہلے ہی گھير لو۔” تو بہت سے بچوں نے انہيں گھیر لیاجن ميں آپ کی وہ بيٹی بھی تھی، وہ آپ کے پاس آئی اور اپنا دائياں ہاتھ اس اژدھے کو مارا تو وہ بھاگ گيا اور پھر وہ آپ کی گود ميں بيٹھ کر يہ آيت پڑھنے لگی:
اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۙ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الایمان:کيا ايمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آيا کہ ان کے دل جھک جائيں اللہ کی ياد اور اس حق کے لئے جو اترا۔(پ27، الحديد:16)
  آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ميں نے اپنی اس بیٹی سے پوچھا :”کيا تم(فوت ہونے والے) قرآن بھی پڑھتے ہو؟” تو اس نے جواب دیا :”جی ہاں! ہم آپ(یعنی زندہ لوگوں)سے زيادہ اس کی معرفت رکھتے ہيں۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے اس جگہ ٹھہرنے کا مقصد پوچھا تو اس نے بتايا :”يہ بچے قيا مت تک يہاں ٹھہر کر اپنے ان والدين کا انتظار کريں گے جنہوں نے انہيں آگے بھيجاہے۔” پھر اس اژدھے کے بارے ميں پوچھا تو اس نے بتايا :”وہ آپ کا برا عمل ہے۔” پھر اس ضعیف العمرشخص کے بارے ميں پوچھا تو اس نے بتايا :”وہ آپ کا نيک عمل ہے، آپ نے اسے اتنا کمزور کر ديا ہے کہ اس ميں آپ کے برے عمل کا مقابلہ کرنے کی سکت نہيں، لہٰذا آپ اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں توبہ کریں اور ہلاک ہونے سے بچیں۔” پھر وہ بلندی پر چلی گئی جب آپ بيدار ہوئے تو اسی وقت سچی توبہ کرلی۔        (روض الریاحین، ص۹۱)
  پس اولاد کے نفع ميں غور کرلو مگر يہ صرف اسے حاصل ہو گا جو مصيبت پر راضی رہے اور صبر کرے اور جو ناراض ہو کر اپنی ہلاکت و بربادی کی دعا کرنے لگے يا اپنے رخسار پيٹے، گريبان چاک کرے يا سر منڈائے تو اللہ عزوجل اس پر ناراض ہو گا اور لعنت فرمائے گا خواہ وہ مرد ہو يا عورت۔
(54)۔۔۔۔۔۔مروی ہے :”مصيبت کے وقت رانوں پر ہاتھ مارنا اجر کو برباد کر ديتا ہے۔”
(فردوس الاخبار،باب الضاد،الحدیث:۳۷۱۷،ج۲،ص۴۲)
(55)۔۔۔۔۔۔مروی ہے:”جسے کوئی مصيبت پہنچے پھر وہ اس کی وجہ سے اپنے کپڑے پھاڑے يا رخسار پيٹے يا گريبان چاک کرے يا بال نوچے تو گويا اس نے اپنے رب عزوجل سے جنگ کرنے کے لئے نيزہ اٹھا ليا۔”
(کتاب الکبائر،فصل فی التعزیۃ، ص۲۲۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(56)۔۔۔۔۔۔حضرت صالح مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں :”ميں ايک مرتبہ شبِ جمعہ ايک قبر ستان ميں سو گيا، ميں نے (خواب میں) مُردوں کو اپنی قبروں سے نکل کر حلقہ بناتے ہوئے ديکھا، ان پر غلاف سے ڈھانپے ہوئے طباق اترے جبکہ ان ميں سے ايک نوجوان پر عذاب ہو رہا تھا، ميں نے اس کے پاس آکر عذاب کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:”ميری والدہ نے ميت پر رونے اور اس کی خوبیاں بيان کرنے واليوں کو جمع کر رکھا ہے، اللہ عزوجل ميری طرف سے اسے اچھی جزاء نہ دے۔” پھر وہ رونے لگا اور کہا کہ ميں اس کی والدہ کے پاس جاؤں، اس نے مجھے اس کا پتہ بتايا اور کہا کہ ميں اس سے يہ عذاب دور کروں جس کے اسباب اس کی ماں نے پيدا کئے ہيں، لہٰذاجب صبح ہوئی تو ميں اس کی ماں کے پاس گيا، ميں نے ديکھا کہ رونے والی عورتيں اس کے پاس موجود ہيں اور کثرتِ گريہ اور رخسار پيٹنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سياہ پڑ گيا ہے، ميں نے اپنا خواب اسے سنايا تو اس نے توبہ کی اور رونے والی عورتوں کو گھر سے نکال ديا اور اس کی طرف سے صدقہ کرنے کے لئے مجھے کچھ درہم دئيے، پھر ميں حسبِ معمول شبِ جمعہ قبرستان پہنچا تو وہ درہم صدقہ کر چکا تھا، جب ميں سويا تو ميں نے اس نوجوان کوپھر خواب ميں ديکھا اس نے کہا: ”اللہ عزوجل آپ کو جزائے خير عطا فرمائے، اللہ عزوجل نے مجھ سے عذاب دور کر ديا ہے اور صدقہ بھی مجھ تک پہنچ گيا ہے، آپ ميری ماں کو اس کے بارے ميں بتا دیں۔” پھر ميں بيدار ہو کر اس کی ماں کے پاس پہنچا تو اس کو مردہ پايا پھر ميں اس کی نمازِ جنازہ ميں شريک ہوا اوراسے اس کے بيٹے کے پہلو ميں دفن کر ديا۔”