غرابتِ سند کے اعتبار سے خبرِ غریب کی اقسام

logomaqbooliya

سند میں غرابت کے اعتبار سے خبرِ غریب کی دو قسمیں ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔۔فردِ مطلق        (۲)۔۔۔۔۔۔ فردِ نِسبی
(۱)۔۔۔۔۔۔فردِ مُطْلَق:
  وہ حدیثِ غریب جس کی اصل سند میں غرابت ہو، اصل سند سے مراد سند کی وہ طرف ہے جس میں صحابی ہو۔یعنی صحابی سے صرف ایک تابعی روایت کرے۔
مثال:
  ”اَلْوَلَاءُ لُحْمَۃٌ کَلُحْمَۃِ النَّسَبِ لَا یُبَاعُ وَلاَ یُوْھَبُ وَلَا یُوْرَثُ” ترجمہ: ولاء نسبی رشتے کی طرح ایک رشتہ ہے اسے نہ بیچاجاسکتاہے نہ ہبہ کیا جاسکتاہے اور نہ ہی اس کا وارث ہوا جاسکتاہے۔اس حدیث کو حضرت عبد اللہ بن دینار (تابعی)رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے اکیلے روایت کیا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔فردِ نِسبْی:
  وہ حدیثِ غریب جس کے درمیانِ سند میں غرابت ہویعنی اصلِ سند میں تو راوی کثیر ہوں لیکن اثناءِ سند میں کوئی راوی اکیلا رہ جائے۔
مثال:
  ”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّۃَ وَعَلٰی رَأْسِہٖ الْمِغْفَرُ۔” ترجمہ:نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سر اقدس پر خَود تھا۔اس حدیث کے درمیانِ سند میں امام مالک، امام زہری سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
نوٹ:
  (i)فرد مطلق اور فرد نسبی خبر غریب کی قسمیں ہیں اور خبر غریب کا حکم گذرچکا ہے لہذا اعادہ کی ضرورت نہیں ۔(ii)فرد کا اکثر اطلاق فرد مطلق پر اور غریب کا اکثر اطلاق فرد نسبی پر ہوتاہے۔
(مشق)
سوال نمبر (1):فرد مطلق وفرد نسبی کس حدیث کی اقسام ہیں؟
سوال نمبر (2):فرد مطلق وفرد نسبی کی طرف حدیث کی تقسیم کس اعتبار سے کی گئی ہے؟
سوال نمبر (3):فرد مطلق کی تعریف مثال اور حکم بیان کریں۔
سوال نمبر (4):فرد نسبی کی تعریف مثال اور حکم بیان کریں۔