مکڑی کا گھر

logomaqbooliya

کفار نے بتوں کو معبود بنا کر ان کی امداد و اعانت اور نصرت و نفع رسانی پر جو اعتماد اور بھروسا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس حماقت مـآبی کے اظہار اور ان کی خود فریبیوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے ایک عجیب مثال بیان فرمائی ہے جو بہت زیادہ عبرت خیز اور اعلیٰ درجے کی نصیحت آموز ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتْ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الْعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿41﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں مکڑی کی طرح ہے اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتااگر جانتے۔(پ20،العنکبوت:41)
مطلب یہ ہے کہ مکڑی جالے کا گھر بنا کر اپنے خیال میں مگن رہتی ہے کہ میں مکان میں بیٹھی ہوئی ہوں مگر اس کے مکان کا یہ حال ہے کہ وہ نہ دھوپ سے بچا سکتا ہے نہ بارش سے، نہ گرمی سے محفوظ رکھ سکتا ہے نہ سردی سے حفاظت کرسکتا ہے اور ہوا کے ایک معمولی جھونکے سے تہس نہس ہو کر برباد ہوجایا کرتا ہے۔ یہی حال کفار کا ہے کہ ان لوگوں نے بتوں کو اپنے نفع و نقصان کا مالک بنالیا ہے اور ان بتوں کی امداد و نصرت پر اعتماد اور بھروسا کررکھا ہے۔ حالانکہ بتوں سے ہرگز ہرگز کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچ سکتا اور کافروں کا بتوں پر اعتماد اتنا ہی کمزور سہارا ہے جتنا کہ مکڑی کا جالا کمزور ہوتا ہے۔ کاش کفار اس بات کو سمجھ لیتے تو یہ ان کے حق میں بہت ہی اچھا ہوتا۔
مکڑی:۔مکڑی ایک عجیب الخلقت جانور ہے اس کے آٹھ پاؤں اورچھ آنکھیں ہوتی ہیں یہ بہت ہی قناعت پسند جانور ہے۔ مگر خدا کی شان کہ سب سے حریص جانور یعنی مکھی اور مچھر اس کی غذا ہیں۔ مکڑی کئی کئی دنوں تک بھوکی پیاسی بیٹھی رہتی ہے مگر اپنے جالے سے نکل کر غذا تلاش نہیں کرتی۔ جب جالے کے اندر کوئی مکھی یا مچھر پھنس جاتا ہے تو یہ اس کو کھا لیتی ہے ورنہ صبر و قناعت کر کے پڑی رہتی ہے۔
مکڑی کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہجرت کے وقت جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور میں تشریف فرما تھے تو مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تن دیا تھا اور کبوتری نے انڈے دے دیئے تھے۔ جس کو دیکھ کر کفار واپس چلے گئے کہ اگر غار میں کوئی شخص گیا ہوتا تو مکڑی کا جالا اور انڈا ٹوٹ گیا ہوتا۔
      (تفسیر صاوی،ج۴، ص ۱۵۶۴، پ۰،العنکبوت:۴۱)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے گھروں سے مکڑیوں کے جالوں کو دور کرتے رہو کہ یہ مفلسی اور ناداری کا باعث ہوتے ہیں۔
  (تفسیر خزائن العرفان، ص ۷۲۲،پ۲۰، العنکبوت:۴۱)