شادی کے معاملے میں والدین کی ذِمّہ داری

logomaqbooliya

شادی کے معاملے میں والدین کی ذِمّہ داری

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اِن فرامین کی روشنی میں بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ جوان مرد و عورت کاکسی خاص عذر یا کسی صحیح وجہ کے بغیر غیر شادی شُدہ رہنا انتہائی خطرناک ہے لہٰذا والدین یا سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ جب بچّے شادی کے قابل ہوجائیں تو وقت ضائع کئے بغیر اُن کی شادی کردیں تاکہ وہ اَخلاقی بُرائیوں کا شکار نہ ہوں ، حدیثِ پاک میں بھی اسی بات کی تعلیم دی گئی ہے جیساکہ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ  وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنْ  اِسْمَهُ وَاَدَّبَهُ فَاِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْہُ یعنی جس کا بچّہ پیدا ہو اُسے چاہئے کہ اُس کا اچھا نام رکھے اور اس کی اچھی تَرْبِیَت کرے اور جب وہ بالغ ہو تو اُس کی شادی کردے۔ (1)
________________________________
1 –    شعب الایمان ، باب فی حقوق الاولاد والاھلین ، ۶ / ۴۰۱ ، حدیث : ۸۶۶۶