صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سخاوت

logomaqbooliya

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے بطور ہدیہ ایک صحابی کے گھر بکری کا ایک سر بھیج دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ہم سے زیادہ تو میرا فلاں بھائی اس سر کا ضرورت مند ہے۔ وہ سر اس کے گھر بھیج دیا تو اُس نے کہا کہ میرا فلاں بھائی مجھ سے بھی زیادہ محتاج ہے۔ یہ کہا اور وہ سر اُس صحابی کے گھر بھیج دیا۔ اسی طرح ایک نے دوسرے کے گھر اور دوسرے نے تیسرے کے گھر اُس سر کو بھیج دیا یہاں تک کہ جب یہ سر چھٹے صحابی کے پاس پہنچا تو انہوں نے سب سے پہلے والے کے گھر یہ کہہ کر بھیج دیا کہ وہ ہم سے زیادہ مفلس اور حاجت مند ہیں اس طرح وہ سر جس گھر سے سب سے پہلے بھیجا گیا تھا پھر اسی گھر میں آگیا۔ اس موقع پر سورہ حشر کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی جس میں اللہ جل جلالہٗ نے صحابہ کرام کی سخاوت کا خطبہ ارشاد فرمایا ہے:
وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ9﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔ (پ28،الحشر:9)
یہ تو زمانہ رسالت کا ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں تقریباً اِسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا جو عبرت خیز اور نصیحت آموز ہونے میں پہلے واقعہ سے کم نہیں۔ چنانچہ منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار ایک تھیلی میں بند کر کے اپنے غلام کو حکم دیا کہ یہ تھیلی حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی خدمت میں پیش کردو اور پھر تم گھر میں اس وقت تک ٹھہرے رہو کہ تم دیکھ لو کہ وہ اس تھیلی کا کیا کرتے ہیں؟ چنانچہ غلام تھیلی لے کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور عرض کیا کہ حضرت امیرالمؤمنین نے یہ دیناروں کی تھیلی آپ کے پاس بھیجی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ اس کو اپنی حاجتوں میں خرچ کریں۔ امیرالمومنین کا پیغام سن کر آپ نے یہ دعا دی کہ اللہ تعالیٰ امیرالمومنین کا بھلا کرے۔ پھر اپنی لونڈی سے فرمایا کہ اے خادمہ!یہ سات دینار فلاں کو دے آؤ اور یہ پانچ دینار فلاں کو۔ اسی طرح انہوں نے ایک ہی نشست میں تمام دیناروں کو حاجت مندوں میں تقسیم کرادیا۔ صرف دو دینار ان کے سامنے رہ گئے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اے لونڈی!یہ دو دینار بھی فلاں ضرورت مند کو دے دو۔
یہ ماجرا دیکھ کر غلام امیرالمومنین کے پاس واپس آگیا تو امیرالمومنین نے چار سو دینار کی دوسری تھیلی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی اور غلام سے فرمایا کہ تم اس وقت تک ان کے گھر میں بیٹھے رہنا اور دیکھتے رہنا کہ وہ اس تھیلی کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ چنانچہ غلام حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھیلی لے کر پہنچا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیرالمومنین کا تحفہ اور پیغام پانے کے بعد یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ امیرالمومنین پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور ان کو نیک بدلہ دے پھر فوراً ہی اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ فلاں فلاں صحابہ کے گھروں میں اتنی اتنی رقم پہنچادو۔ صرف دو دینار باقی رہ گئے تھے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی آگئیں اور کہا کہ خدا کی قسم! ہم لوگ بھی تو مفلس اور مسکین ہی ہیں۔ یہ سن کر وہ دینار جو باقی رہ گئے تھے بیوی کی طرف پھینک دیئے۔ یہ منظر دیکھ کر غلام امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور سارا چشم دید ماجرا سنانے لگا۔ امیرالمومنین حضرت ابو عبیدہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس سخاوت و اولو العزمی کی داستان کو سن کر فرط ِ تعجب سے انتہائی مسرور ہوئے اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہ کرام یقینا آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے پر انتہائی رحم دل اور آپس میں بے حد ہمدرد ہیں۔
حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دوسرے صحابہ کرام سے بھی یہ روایت منقول ہے۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۳۸، پ۲۸، الحشر:۹)
ایک حدیث میں ہے کہ آیت مذکورہ بالا کا نزول اس واقعہ کے بعد ہوا کہ بارگاہِ نبوت میں ایک بھوکا شخص حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات کے حجروں میں معلوم کرایا کہ کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ معلوم ہوا کہ کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابِ کرام سے فرمایا کہ جو اس شخص کو مہمان بنائے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے۔
گھر جا کر بیوی سے دریافت کیا کہ گھر میں کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صرف بچوں کے لئے تھوڑا سا کھانا ہے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بچوں کو بہلا پھسلا کر سلادو۔ اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے کے لئے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ مہمان اچھی طرح کھالے۔ یہ تجویز اس لئے کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوجائے گا تو وہ اصرار کریگا اور کھانا تھوڑا ہے۔ اس لئے مہمان بھوکا رہ جائے گا۔ اس طرح حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہمان کو کھانا کھلا دیا اور خود اہلِ خانہ بھوکے سو رہے۔ جب صبح ہوئی اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر فرمایا کہ رات فلاں فلاں کے گھر میں عجیب معاملہ پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے بہت راضی ہے اور سورہ حشر کی یہ آیت نازل ہوئی۔  (تفسیرخزائن العرفان،ص۹۸۴،پ۲۸،الحشر:۹) درسِ ہدایت:۔یہ آیتِ مبارکہ اور اس کی شانِ نزول کے حیرت ناک واقعات ہم مسلمانوں کے لئے کس قدر عبرت خیز و نصیحت آموز ہیں۔ اس کو لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر شخص خود ہی انصاف کی عینک لگا کر اس کو دیکھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے دل میں بصیرت کی روشنی اور آنکھوں میں بصارت کا نور موجود ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔