شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی منبع علم و حکمت

logomaqbooliya

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی
منبع علم و حکمت

ترتیب و پیشکش: حافظ محمد تقی الدین احمد، متعلم جامعہ نظامیہ

خلفاء راشدین وصحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اور تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتھدین، صلحاء ، شہدا ، اولیاء علماء صالحین نے جو کام سرانجام دیئے ہیں وہ سب واضح طورپر ہم میں تابندہ و درخشاں ہیں ایک جانب حضور ﷺ پر رسالت ونبوت کا خاتم لگنا تو دوسری طرف تاابداسلام کے زندہ وتابندہ رہنے کی بشارتیںبھی موجودہیں اسی ضرورت کی تکمیل یعنی اسلام کی حیات کیلئے اللہ جل مجدہ ہر دور میں ایسے مطہر انفاس کو پیدا فرماتا رہا جن کی تخلیق عوام الناس کیلئے باعث رحمت ہے جو اپنے علم وعمل اخلاق وکردار ، حکمت ودانائی سے عوام کی اصلاح کرتے رہے۔ جنکے اعلی علمی جاہ وجلال اور بے پناہ فیضان سے ساری قوم مستفیض ہوتی ہے انہی تاریخ سازپاک ہستیوں میں ایک ایسی ذات گرامی باوقار بھی ہے کہ جسکے عشق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وعلمی وجاہت ،باطنی روحانی فیضان اوراسلامی، دینی ، علمی وعملی واصلاحی کارناموں کا عالم بھرمیں شہرہ ہے جن کی ذات بابرکت کو دنیاامام اہلسنت ،مجدددین وملت، قاطع بدعت ،حامی سنت، ماہر رموزوفنون عقلیہ ، واقفِ اسرارِعلوم نقلیہ، امام الشریعت ،شیخ معرفت، محدث کبیر، مفتی شہیر، مثردۂ بشیر ، مربی یتیم ویسیر، مشفق صغیر وکبیر، معارف آگاہ ، حقائق دستگاہ، عارف باللہ شیخ الاسلام ابوالبرکات حضرت شاہ محمدانوار اللہ فاروقی خان بہادر فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ والرضون کے نام نامی اسم گرامی سے یادکرتی ہے۔
دنیائے علم کے اکابر صاحبان فضیلت وکمال نے آپکو منبعِ علم وحکمت ، مجمع البحرین مانتے ہوئے آپ کے علمی دبدبے کے آگے اپنا سر خم تسلیم کرلیا علوم وفنون ، اخلاق وکردا ر، اصلاح وتقویٰ کی ساری خوبیاں اس مرد مجاہدمیں یکجا جمع ہوگئی تھیں جن کے دل کی دھڑکن سے وحدانیت کی صدائیں بلندہوتی جن کی ہر نگاہ انوار مدینہ سے جگمگاتی ، جنکا سینہ عشق رسول ﷺ کا مدینہ، جنکی ہرادا میں سنت نبویﷺکا خزینہ تھا، جنکے کلام میں صدیق اکبرؓ کی شان صداقت جلوہ فگن تھی ، جنکے چہرے پر فاروقی ؓرعب وجلال جھلکتا، جنکے قلب انورمیں عثمان غنی ؓکی سخاوت گامزن تھی، جن کی زبان مبارک میں حیدرکرارؓ کی بے باکی تھی، جنکے درس حدیث میں صاحبین کے جلوئے نمایاں ہوتے ، جنکے فتووں میں امام اعظم ؒ کی علمی وفقہی ذہانت جھلکتی ، جن کے رشد وہدایت میں غوث پاک رضی اللہ عنہ کی ولایت کی تجلیاں چمکتی، جنکی فقیرانہ شان میں غریب نوازؒ کی غریب نوازی ظاہر ہوتی، جنکے عشق رسول میں ڈوبے ہوئے کلام کو پڑھکر حسان بن ثابت ؓ کی جانثاری کی یاد تازہ ہوجاتی ، وہ غزالی دوراں بھی وہ اپنے زمانہ کے رازی، وہ اپنے عصرکے رومی ، وہ اپنے وقت کے ابن عربی ‘ وہ معلم اسباق بھی وہ مربی اخلاق، وہ مفتی محدث ومفسر، وہ مفکراسلام ، وہ مولف وہ خطیب وادیب، وہ صوفی باصفاوہ عابدشب بیدار، وہ علوم شریعت کے بحر بیکراں ، وہ معرفت کے دانائے راز، وہ اپنی ذات میں ایک انجمن علم و فضل کے معدن زرخیزجس نے فقیری کی چٹائی پر جلوہ فگن ہوکر دنیائے علم ودانش میں شہنشاہی کی اور مردہ قلوب میں نئی جان ڈالدی اسی مرد قلندر و مردمجاہد کی علمی برکت اور فیضان نظر کے اثر نے سلطان دکن کو سلطان العلوم بنادیا، ایسی عظیم المرتبت وجلیل القدر شخصیتیں صدیوں بعد کہیں پیدا ہوتی ہیں جنھیں اللہ تبارک وتعالیٰ وقت واحد میں کئی خوبیوں اور بے پناہ کمالات سے نوازتاہے ۔
حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں
’’ہندمیں پچاس سال کے عرصہ میں کتنے مذاہب باطلہ بن گئے۔ عموماً اہلِ اسلام باشندگانِ ہندودکن اہل سنت وجماعت تھے ، او راسی چالیس پچاس سال کے عرصہ میں کتنے مذاہبِ باطلہ بن گئے ، ان میں جتنے فرقے مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں سب اہل سنت وجماعت سے نکلے ہوئے لوگ ہیں کیونکہ ان میں نہ ہندوشریک ہوئے نہ یہودی ونصاریٰ نہ شیعہ اس سے ظاہر ہے کہ جسقدر ان مذاہبِ باطلہ کی مردم شماری ہے وہی تعداد ان اشخاص کی ہے جو ہمارے مذہب سے خارج ہوگئے ہیں اور روزبروزانکی تعداد بڑھتی اور سنیوں کو تعداد گھٹتی جاتی ہے اگر ہماری کثیرالتعداد قوم متوجہ ہوتی تو کیا ممکن تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے فرقے ہمارے عزیزواقارب کو ہم سے چھین سکتے؟(۱)
اب ذراغور کیجئے کہ جتنے بھی فرقے ہیں وہ سب کے سب باطل ہیں کیونکہ یہ اہل سنت وجماعت سے نکل کر الگ فرقے بنالئے ہیں اہلسنت وجماعت ہی حضور ﷺ وصحابہ کی جماعت ہے اب آپ ہی اپنا محاسبہ کرلیں کہ آیاہم کو نسی جماعت میں ہیں حق یا باطل کی کیونکہ ہماری نجات اسی میں ھیکہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ واعتصمو بحبل اللہ اب رہا سوال یہ کہ اللہ کی رسی ہے کیا ؟ تو اللہ کی رسی قرآن اور صاحبِ قرآن، صحابہ ہیں پس انکوجوپکڑلے وہ کامیاب ہے۔
ان کا خیال شعر کے پیکر میں ڈھل گیا
مری حیاتِ نو کا مقدر بدل گیا
جانِ چمن وروحِ صبا کہہ کے پکاروں
ائے رہبرِ ملت تجھے کیا کہہ کے پکاروں
چارہ گرِاربابِ محبت کہوں تجھے
یادردِتمنا کی دوا کہہ کے پکاروں
مذہب کی حفاظت اور اسکی اشاعت کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام رقمطراز ہیں۔
’’یہ بات پوشیدہ نہیںہے کہ مذہب کی حفاظت اور اشاعت اس زمانے میں صرف علماء سے متعلق ہے کیونکہ ہر مذہب وملت والا شخص اپنے مذہب کی ترقی چاہتا ہے چنانچہ فرق باطلہ کے عالم جاہلوں پر ان کے مذہب کی خوبی اپنے مذہب عمدگی تحریروتقریر سے ثابت کرتے رہتے ہیں اگر ان کا جواب مذہب کی طرف سے نہ دیاجائے توجہلاتوکیا متوسط اور کم درجے کے علماء متزلزل ہو جاتے ہیں اگراعلی درجے کے علماء مذہب میں نہ ہوں جو ہر قسم کے اعتراضات کے جوابات دے سکیں تو ظاہر ھیکہ مخالفین جو ہر فن میں کمال حاصل کرتے ہیں اقسام کے اعتراض کرکے مذہب کو اہل مذہب کے خیالوں میں کم دقعت بلکہ بے اصل ثابت کردینگے جس سے مذہب کا باقی رہنا ممکن نہوگا اسی وجہ سے حدیث شریف میں ہے ۔ فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ عالم کی موت اسلام میں رخنہ ہے ، ظاہر ھیکہ جب تک کہ اس عالم کا کوئی جانشین نہ ہوا س رخنے کا انسداد نہیں ہوسکتا ، اب زمانہ سابق اور حال کوصرف سرسری نظر سے دیکھے تومعلوم ہوجائیگا کہ اس زمانہ میں ایک عالم کے جانشین ان کے صدہا شاگرد ہوتے تھے اب جو مشہور اور دین کی حفاظت کرنے والے علماء کا انتقال ہوتا ہے تو ان کا قائم مقام ایک بھی نہیں ہوتا(۲)۔
امام اہلسنت مجدد الملت فرماتے ہیں
’’ہر زمانے میں مسلمانوں کو علماء کی اشدضرورت ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف سے ثابت ہے :
آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ علماء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمانوں میں ستارے جن سے جنگل اور سمندر میں لوگ راستہ پاتے ہیں اگر ستارے نہ ہوں تو جو لوگ راستہ پر ہیں وہ بھی راہ گمراہ کردینگے ، اسکی وجہ ظاہر ہے کہ علماء ہی کے انفاس کی برکت ہے کہ ہر وقت جو شبہات اور وساوس شیاطین الجن والانس مسلمانوں میں ڈالتے رہتے ہیں وہ دفع ہوجاتے ہیں اگر ان حضرات کی صحبت میسر نہ ہوتو اس تاریکی کے زمانے میں بہت سے گمراہ ہوجائیں گے ، تائیددین میں ان حضرات کی سعی مجاہدوں کی کوشش سے کم نہیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے
حضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ علماء نے جس سیاہی سے لکھا ہے وہ اور شہیدوں کے خون قیامت کے روزوزن کیے جائینگے اس وقت انکی سیاہی کا ہی وزن غالب ہوگا ، کیوں نہ ہو ، مجاہدوں نے جو ملک اپنی جانبازی سے فتح کیا تھا علماء کی جانفشانیوں سے اس میں اسلام باقی رہتاہے ۔ یہی وجہ ھیکہ طالب علم مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی افضل ہوتاہے (۳)۔
فرمایا نبی ﷺ نے کہ علم اللہ تعالی کے نزدیک نماز، روزہ حج اور جہاد سے بھی افضل ہے ، اور یہ حدیث شریف میں علم اسلام کی حیات اور ستون ہے۔
فرمایا نبی ﷺ نے کہ علم عبادت سے افضل ہے اسکی وجہ دوسری حدیث شریف سے معلوم ہوتی ہے یعنی علم اسلام کی حیات اور دین کا ستون ہے ۔
ظاہر ہے کہ جس چیزسے اسلام کی حیات اور بقا متعلق ہو اس سے عبادت کیونکرافضل ہوسکے کیونکہ کل عبادتوں کا مدار اسلام ہی پر ہے ، اور اسلام کا مدارعلم پر ان تمام حدیثوں سے مقصود آنحضرت ﷺ کا ظاہر ہے کہ ہر زمانے میں اہل اسلام علم کی تحصیل اور اسکے باقی رکھنے کا اہتمام سب عبادتوں سے زیادہ کریں جس سے خدا اوررسول کی خوشنودی حاصل ہو۔
حواشی و حوالہ جات
(۱)امام محمد انواراللہ فاروقیؒ ،مقاصد الاسلام حصہ چہارم، ص ۲۔۳
(۲) امام محمد انواراللہ فاروقیؒ، مقاصد الاسلام، حصہ چہارم،ص۴۳۔
(۳) امام محمد انواراللہ فاروقیؒ، مقاصد الاسلام، حصہ چہارم،ص۵۴۔
٭٭٭