تمام سواریوں کا ذکر قرآن میں

logomaqbooliya

زولِ قرآن کے وقت جو چوپائے عام طور پر بار برداری اور سواری کے لئے استعمال ہوتے تھے وہ چار جانور تھے۔ اونٹ، گھوڑے، خچر، گدھے۔باربرداری اور سواری کے ان چار جانوروں کا ذکر قرآن مجید میں خاص طور سے صراحتاً مذکور ہے ان کے علاوہ قیامت تک جتنی سواریاں اور باربرداری کے سادھن عالم وجود میں آنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب کا تذکرہ قرآن مجید میں اجمالاً بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ سورہ نمل کی مندرجہ ذیل آیت کو بغور پڑھ لیجئے ارشاد ربانی ہے کہ:۔
وَ الۡاَنْعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمْ فِیۡہَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَمِنْہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪5﴾وَلَکُمْ فِیۡہَا جَمَالٌ حِیۡنَ تُرِیۡحُوۡنَ وَحِیۡنَ تَسْرَحُوۡنَ ﴿۪6﴾ وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا بٰلِغِیۡہِ اِلَّا بِشِقِّ الۡاَنۡفُسِ ؕ اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ۙ﴿7﴾وَّالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡہَا وَزِیۡنَۃً ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور چوپائے پیدا کئے ان میں تمہارے لئے گرم لباس اور منفعتیں ہیں اور ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارا ان میں تجمل ہے جب انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرنے کو چھوڑتے ہو اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ایسے شہر کی طرف کہ اس تک نہ پہنچتے مگر ادھ مرے ہو کر بیشک تمہارا رب نہایت مہربان رحم والا ہے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے اور وہ پیدا کر ے گا جس کی تمہیں خبر نہیں۔ (پ14،النحل:5۔8)
   اس آیت مبارکہ میں آخری جملہ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸﴾ میں قیامت تک عالم وجود میں آنے والے تمام بار برداری کے ذرائع اور قسم قسم کی ان مختلف سواریوں کے پیدا ہونے کا بیان ہے جو نزولِ قرآن کے وقت تک ایجاد نہیں ہوئی تھیں۔ مثلاً سائیکل، موٹر، ریل گاڑیاں، سڑکیں، بحری جہاز، ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، راکٹ وغیرہ وغیرہ تمام نقل و حمل کے سامان اور سواریوں کے ذرائع سب کا اجمالاً ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کا اظہار اور غیب کی خبر کا اعلانِ عام فرمایا ہے۔ ذرائع نقل و حمل اور سواریوں کے علاوہ اس آیت میں تو اس قدر عموم ہے کہ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی ہر ہر چیز اور تمام کائناتِ عالم کا اجمالاً بیان ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
چاروں سواریاں جو نزولِ قرآن کے وقت عرب میں عام تھیں۔ ان کے بارے میں کچھ خصوصیات حسب ِ ذیل ہیں جو یاد رکھنے کے قابل ہیں۔
اونٹ: ۔ یہ بہت سے نبیوں اور رسولوں کی سواری ہے۔ خود حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی سواری فرمائی اور آپ کی دو اونٹنیاں بہت مشہور ہیں۔ ایک ”قصویٰ” اور دوسری ”عضباء” جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کبھی دوڑ میں کسی اونٹ سے مغلوب نہیں ہوئی تھی مگر ایک مرتبہ ایک اعرابی کے اونٹ سے دوڑ میں پیچھے رہ گئی تو حضرات صحابہ کرام کو بہت شاق گزرا۔ اس موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر یہ حق ہے کہ جب وہ کسی دنیا کی چیز کو بلند فرما دیتا ہے تو اس کو پست بھی کردیتا ہے۔ مروی ہے کہ آپ کی اونٹنی ”عضباء”نے آپ کی وفات کے بعد غم میں نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور وفات پا گئی اور بعض روایتوں میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اسی اونٹنی پر سوار ہو کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدانِ محشر میں تشریف لائیں گی۔ (تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۸۹،پ۱۴، النحل:۷)
”حیات الحیوان” میں ہے کہ اونٹ کے بالوں کو جلا کر اس کی راکھ اگر بہتے ہوئے خون پر چھڑک دی جائے تو خون فوراً بند ہوجائے گا اور اونٹ کی کلنی اگر کسی عاشق کی آستین میں باندھ دی جائے تو اس کا عشق زائل ہوجائے گا اور اونٹ کا گوشت بہت مقوی باہ ہے۔
       (تفسیر روح البیان، ج۵، ص ۹،پ۱۴،النحل:۷)
گھوڑا:۔ سب سے پہلے گھوڑے پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سواری فرمائی۔ آپ سے پہلے یہ وحشی اور جنگلی چوپایہ تھا۔ اسی لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تم لوگ گھوڑے کی سواری کرو کیونکہ یہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی میراث ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کے بعد سب سے زیادہ گھوڑا محبوب تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ گھوڑا میدانِ جنگ میں یہ تسبیح پڑھتا ہے ”سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْح” خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند گھوڑے تھے جن پر آپ سواری فرمایا کرتے تھے۔
منقول ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ کون کون سی سواریاں آپ کو پسند ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ گھوڑا اور گدھا اور اونٹ کیونکہ گھوڑا اولو العزم رسولوں کی سواری ہے اور اونٹ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری ہے اور گدھا حضرت عیسیٰ وحضرت عزیر علیہما السلام کی سواری ہے اور میں کیوں نہ اس چوپائے (گدھے)سے محبت رکھوں جس کو مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا۔  (تفسیر روح البیان،ج۵، ص ۱۱۔۱۰ (ملخصاً) پ۱۴، النحل:۸)
خچر:۔یہ بھی ایک مبارک سواری ہے۔ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں چھ خچر تھے۔ ان میں سے ایک سفید رنگ کا تھا جو مقوقس والئ مصر نے بطور ہدیہ آپ کی خدمت مبارکہ میں پیش کیا تھا جس کا نام ”دلدل” تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اندرون شہر مدینہ اور اپنے باہر کے سفروں میں اس پر سواری فرمایا کرتے تھے۔ اس کی عمر بہت زیادہ ہوئی یہاں تک کہ اس کے سب دانت ٹوٹ گئے اور اس کی خوراک کے لئے جو کوٹ کر دَلیا بنایا جاتا تھا۔ یہ حضور کی وفات کے بعد مدتوں زندہ رہا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کے دوران اس پر سوار ہوئے۔ اور آپ کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جنگ ِ خوارج کے موقع پر اسی خچر پر سوار ہو کر جنگ کے لئے نکلے۔ پھر آپ کے بعد آپ کے صاحبزادگان حضرت امام حسن و حضرت امام حسین و حضرت محمد بن الحنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی اس کی سواری کا شرف پایا۔  (تفسیر روح البیان،ج۵، ص۱۱، پ۱۴، النحل: ۸ )
گدھا:۔یہ بھی انبیاء اور رسولوں کی سواری ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملکیت میں بھی دو گدھے تھے، ایک کا نام ”عفیر”اور دوسرے کا نام ”یعفور”تھا۔ روایت ہے کہ ”یعفور” آپ کو خیبر میں ملا تھا اور اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کلام کیا تھا کہ یا رسول اللہ!میرا نام ”زیاد بن شہاب”ہے اور میرے باپ داداؤں میں ساٹھ ایسے گدھے گزرے ہیں جن پر نبیوں نے سواری فرمائی ہے اور آپ بھی اللہ کے نبی ہیں لہٰذا میری تمنا ہے کہ آپ کے بعد دوسرا کوئی میری پشت پر نہ بیٹھے۔ چنانچہ اس چوپائے کی تمنا پوری ہو گئی کہ آپ کی وفات اقدس کے بعد ”یعفور” شدتِ غم سے نڈھال ہو کر ایک کنوئیں میں گر پڑا اور فوراً ہی موت سے ہمکنار ہو گیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ”یعفور” کو بھیجا کرتے تھے کہ فلاں صحابی کو بلا کر لاؤ تو یہ جاتا تھا اور صحابی کے دروازہ کو اپنے سر سے کھٹکھٹاتا تھا تو وہ صحابی یعفور کو دیکھ کر سمجھ جاتے کہ حضور نے مجھے بلایا ہے چنانچہ وہ فوراً ہی یعفور کے ساتھ دربار نبوی میں حاضر ہوجایا کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ادنیٰ کپڑا پہنے گا اور بکری کا دودھ دوہے گا اور گدھے کی سواری کریگا۔ اس میں بالکل ہی تکبر نہیں ہو گا۔  (تفسیر روح البیان،ج۵، ص۱۱، پ۱۴، النحل: ۸ )
درسِ ہدایت:۔ان چاروں سواریوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بطور انعام و احسان کے ان جانوروں کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے اور پھر ان چاروں سواریوں پر حضرات انبیاء علیہم السلام سوار ہوئے ہیں لہٰذا ان سواریوں کی توہین و تحقیر بہت بڑی گستاخی و بے ادبی ہے جو کفر تک پہنچا دینے والی منحوسیت ہے بلکہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان چوپایوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت جان کر شکر بجا لائے اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی نسبت سے ان سواریوں کی دل سے قدر کرے اور ہرگز ہرگز ان کی توہین و تحقیر نہ کرے کہ اس میں ایمان کی سلامتی بلکہ ایمان کی نورانیت کا راز مضمر ہے اور ان چاروں سواریوں کے بعد جو دوسری سواریاں ایجاد ہوئی ہیں ان پر بھی سوار ہونا جائز ہے اور ان سواریوں کے بارے میں یہ ایمان رکھنا لازم ہے کہ یہ سب خدا ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں اور یہ سب سواریاں وہی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸﴾ فرما کر ان کے پیدا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔