ریاء کی اقسام:

logomaqbooliya

ریا یا تو جلی یعنی واضح ہوتی ہے یا خفی ہوتی ہے۔ جلی ریا سے مراد وہ ریا ہے جو عمل پر ابھارے اور اس کا باعث بنے۔جبکہ خفی ریا سے مراد وہ ریا ہے جو عمل پر تو نہ ابھارے البتہ مشقت میں کمی کر دے، جیسے کوئی شخص روزانہ نمازِ تہجد ادا کرنے کا عادی ہولیکن اس طرح کہ وہ نماز اس پر گراں گزرتی ہو، مگر جب اس کے ہاں کوئی مہمان آئے یا کوئی شخص اس کی تہجد پر مطلع ہو جائے تو اب اس کی چستی میں اضافہ ہو جائے اور اس پر وہ گراں بھی نہ گزرے، نیز اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ عمل اللہ عزوجل کی رضا کے لئے بھی ہو(تو یہ خفی ریاہے) کیونکہ اگر ثواب کی امید نہ ہوتی تو وہ تہجد ہی ادا نہ کرتا۔ خفی ریاء کی پہچان کی علامت یہ ہے کہ وہ تہجدادا کرتا رہے اگرچہ کوئی اس کے عمل پر مطلع نہ بھی ہو۔
  اس سے بھی زیادہ خفی ریا وہ ہے جو نہ تو آسانی مہیا کرے اور نہ ہی کسی تخفیف کا سبب بنے، اس کے باوجود وہ ریاکاری میں اس طرح مبتلا ہوجائے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی خفی ریا کو پہچاننا علامات کے بغیر ممکن نہیں ہوتا اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ لوگوں کا کسی کی اطاعت اور عبادت پر مطلع ہونا اسے خوش کردے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کچھ بندے اپنے عمل میں ریاکاری کوناپسند کرتے ہیں اور اس کی مذمت بھی کرتے ہیں، انہیں ریاکاری نہ تو کسی عمل کی ابتداء پر ابھارتی ہے نہ ہی کسی عمل پر قائم رکھتی ہے، البتہ جب لوگ ان کی عبادت پر مطلع ہوتے ہیں تو انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے اس صورت میں ریا ان کے دل میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ خوشی خفی ریا پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر دل لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوتا تو وہ اپنی عبادت پر ان کے آگاہ ہونے سے خوشی کا اظہار نہ کرتا، چونکہ ”لوگوں کے اس کے عمل سے آگاہ ہونے کوناپسندنہ کرنے نے” اس کے سکون کو حرکت دی تو یہی چیز خفی ریا کی رگ کی غذا بن گئی، اس قسم کی ریا میں وہ کسی ایسے سبب کو تلاش کرتا ہے جو لوگوں کے آگاہ ہونے کا با عث بن سکے، خواہ وہ سبب تعریض ہو یا پست آواز کرنا ہو یا ہونٹوں کو خشک رکھنا یا طویل تہجد گزاری پر دلالت کرنے والی انگڑائیوں اور جمائیوں کے غلبے کا اظہار ہو۔ 

  اس سے بھی بڑھ کر خفی ریایہ ہے کہ نہ تو لوگوں کے آگاہ ہونے کی خواہش ہو اور نہ ہی عبادت کے ظاہر ہونے پر خوشی ہو، البتہ اس بات پر خوشی ہو کہ ملاقات کے وقت لوگ سلام کرنے میں پہل کریں اوراُسے خندہ پیشانی سے ملیں، نیز اس کی تعریف کریں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں جلدی کریں، خریدوفروخت میں اس کی رعایت کریں اور جب وہ ان کے پاس آئے تو وہ اس کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔ جب کوئی شخص ان معا ملات میں ذرہ بھر کوتاہی کرے تو یہ بات اسے اُس عبادت کے عظیم ہونے کی وجہ سے ناگوار گزرے جو وہ پوشیدہ طور پر کر رہا تھا۔ گویااس کا نفس اس عبادت کے مقابلہ میں اپنا احترام چاہتا ہے یہاں تک کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے یہ عبادات نہ کی ہوتیں تو وہ اس احترام کی خواہش بھی نہ رکھتا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

نوٹ:جب بھی مخلوق سے متعلق چیزوں میں اطاعت کا پایا جانا اس کے نہ پائے جانے کی طرح نہ ہوجائے توبندہ نہ تو اللہ عزوجل کے علم پرقناعت کرسکتا ہے اور نہ ہی چیونٹی کی چال سے زیادہ خفیف ریا کے شائبہ سے خالی ہو سکتا ہے۔

  سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی ارشاد فرماتے ہیں :”ان تمام صورتوں میں اَجر ضائع ہوسکتا ہے اوراس سے صرف صدیقین ہی محفو ظ رہ سکتے ہیں۔”
  حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں :”اللہ عزوجل قیامت کے دن قاریوں سے ارشاد فرمائے گا کیا تمہیں سودا سستا نہیں دیا جاتا تھا؟ کیا تمہیں سلام کرنے میں پہل نہیں کی جاتی تھی؟ کیاتمہاری حاجتیں پوری نہیں کی جاتی تھیں؟۔”
(64)۔۔۔۔۔۔ایک حدیث (قُدسی) میں ہے :”تمہارے لئے کوئی اَجر نہیں کیونکہ تم نے اپنا اَجر پورا پورا وصول کرلیا۔”
  لہٰذا مخلص بندے ہمیشہ خفی ریا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کے نیک اعمال کے سلسلہ میں انہیں دھو کا نہ دے سکیں دیگر لوگ جتنی کو شش اپنے  گناہ چھپانے میں کرتے ہیں یہ ان سے زیادہ اپنی نیکیاں چھپانے کے حریص ہوتے ہیں اوراس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی نیکیوں کو خالص کرنا چاہتے ہیں تا کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن لوگوں کے سامنے انہیں اَجر عطا فرمائے کیونکہ انہیں اس بات پر یقین ہے کہ اللہ عزوجل صرف وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اخلاص کے ساتھ کئے ہوتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ سخت محتاج اور بھوکے ہوں گے اوران کا مال و اولاد انہیں کچھ کام نہ آئے گا سوائے اس کے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قلبِ سلیم (یعنی  گناہوں سے محفوظ دل )لے کر حاضر ہو گااور نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا یہاں تک کہ صدیقین کو بھی اپنی ہی فکر ہو گی ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہو گا، جب صدیقین کا یہ حال ہوگا تودیگر لوگ کس حال میں ہوں گے؟


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ہر وہ شخص جو اپنے دل میں بچوں، دیوانوں اور دیگر لوگوں کے اپنے عمل پرآگاہ ہونے سے فرق محسوس کرتا ہو وہ ریا کے شائبے میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ یہ جان لیتا کہ نفع ونقصان دینے والااور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اللہ عزوجل ہی ہے اور دوسرے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تو اس کے نزدیک بچوں اور دیگر لوگوں کا آگاہ ہونا برابر ہوتا اور بچوں یا بڑوں کے مطلع ہونے سے اس کے دل پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ ریاء کاہرشائبہ عمل کو فاسد اور اَجر کو ضائع کرنے والا نہیں ہوتا، اپنے اعمال پر خوشی کبھی قابل تعریف ہوتی ہے اور کبھی قابلِ مذمت۔ 

  قابلِ تعریف خوشی جیسے(۱)۔۔۔۔۔۔کسی کو یہ مشاہدہ حاصل ہو کہ اللہ عزوجل نے اس کے اچھے عمل کوظاہر کرنے کے لئے لوگوں کو اس کے عمل پر مطلع کیا ہے اور اس پر کرم فرمایا ہے، حالانکہ وہ اپنی عبادت و معصیت کو دل میں چھپائے ہوئے تھا لیکن اللہ عزوجل نے محض اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال کر اس کی عبادت کو ظاہر فرما دیا اور اس سے بڑااحسان کسی پر کیا ہو گا کہ اللہ عزوجل اپنے بندے کے گناہوں کو چھپا دے اور عبادت کو ظاہرکردے لہٰذا بندہ اللہ عزوجل کی اس پر نظرِ رحمت کی وجہ سے خوش ہو لوگوں کی تعریف اور ان کے دلوں میں اس کے لئے جو مقام و مرتبہ ہے اس کی وجہ سے خوش نہ ہو (تو یہ ریا نہیں) جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ
تر جمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہے کہ خو شی کریں۔(پ11، یونس:58)
(۲)۔۔۔۔۔۔یا خوشی کا قابلِ تعریف ہونا اس وجہ سے ہے کہ بندہ یہ سو چ کرخوش ہو جاتا ہے کہ اللہ عزوجل نے جب دنیا میں اس کے  گناہوں کو چھپایا اور اس کی نیکیوں کو ظاہر فرمایا تو آخرت میں بھی اس کے ساتھ یہی سلوک فرمائے گا، چنانچہ،
(65)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل جس بندے کے گناہ کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتاہے آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔”
(کنزالعمال،کتاب التوبۃ، قسم الاقوال،باب فی فضلھاوالترغیب فیھا الحدیث:۱۰۲۹۶،ج۴،ص۹۷،بدون”ذنباً”)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(۳)۔۔۔۔۔۔یاپھربندہ یہ خیال کرے کہ میرے نیک اعمال پر مطلع ہونے والوں کو میری اِقتدا میں رغبت ملے گی اور اس طرح مجھے دُ گنا ثواب ملے گا ایک ثواب تواس بات کا ہوگا کہ اس کا مقصود ابتداء میں عمل کو پوشیدہ رکھنا تھا اور دوسرا ثواب اس کے ظاہر ہونے اور لوگوں کی اقتداء کی وجہ سے ہوگا کیونکہ عبادت و طاعت میں جس کی پیروی کی جاتی ہے اسے ان پیروی کرنے والوں کاثواب بھی ملتا ہے اوران کے ثواب میں بھی کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس خیال سے خوشی حاصل ہونا بالکل درست ہے کیونکہ نفع کے آثار کا ظہور لذت بخشتا ہے اور خوشی کا سبب بنتا ہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اسی طرح کبھی بندہ اس وجہ سے خوش ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل نے اسے ایسے عمل کی توفیق دی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے اس سے محبت کرتے ہیں کیونکہ بعض گنہگار مسلمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو عبادت گزار لوگوں کو دیکھ کرا ن کا مذاق اڑاتے اورانہیں ایذا دیتے ہیں، اس صورت میں اِخلاص کی علامت یہ ہے کہ جس طرح اسے اپنی تعریف پر خوشی حاصل ہوتی ہے اسی طرح دوسروں کی تعریف بھی اس کے لئے باعثِ مسرت ہو۔
  قابلِ مذمت خوشی یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے نزدیک اپنے مقام ومرتبہ پر خوش ہو اور یہ خواہش کرے :”وہ اس کی تعریف وتعظیم کریں، اس کی حاجتیں پوری کریں، آمدورفت میں اسے اپنے آگے کریں حالانکہ یہ ایک ناپسندیدہ خیال ہے۔
  گذشتہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ عمل چھپانے کا مقصد اخلاص حاصل کرنا اور ریا سے نجات پانا ہے جبکہ عبادت ظاہر کرنے کا فائدہ یہ ہو کہ لوگ اس کی پیروی کریں اوران میں نیکی کی رغبت پیدا ہو مگر اس میں ریاکاری کی آفت ہے۔
  اللہ عزوجل نے ان دونوں قسموں کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ وَ اِن تُخْفُوۡہَا وَتُؤْتُوۡہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپاکرفقیروں کو دویہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے۔ (پ3، البقرۃ :271)
  مگر اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں عمل چھپانے کی تعریف فرمائی ہے کیونکہ اس میں ان عظیم آفات سے تحفظ پایا جاتا ہے جن سے بہت کم لوگ بچ پاتے ہیں اسی طرح بعض اوقات ایسے اعمال کے اظہار کی بھی تعریف کی جاتی ہے جن کو چھپانا دشوار ہوتا ہے جیسے جہاد،حج، جمعہ اور جماعت وغیرہ ایسے اُمور کی ادائیگی میں جلدی اور رغبت ظاہر کرنا جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس میں ریا کا شائبہ نہ ہو۔
  الغرض جب عمل ان تمام چیزوں سے پاک ہو اور اسے ظاہر کرنے میں کسی کی ایذا رسانی بھی نہ ہو تواب اگر اس اظہار میں لوگوں کو اس عمل پر ابھارنے کی نیت ہو تا کہ وہ اس کی اقتدا اور پیروی کريں بشرطیکہ اس کا شمار ان علماء یا نیک لوگوں میں ہوتا ہو کہ جن کی پیروی کرنے میں تمام لوگ جلدی کرتے ہیں، لہٰذا ایسی صورت میں عمل کو ظاہر کرنا افضل ہے کیونکہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اوران کے (علومِ نبوت کے)وارثین کامقام ہے جو کہ کامل ترین اوصاف سے خاص ہیں، اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کیونکہ اس کا نفع متعدی ہوتا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے:
(66)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے نہ صرف اس (اچھے کام)کا اجر ملے گا بلکہ قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ ،باب من سن سنۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۳،ص۲۴۸۹،بدون ”یوم القیامۃ”)
  اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو عمل چھپانا افضل ہے۔اس تفصیل کو ان لوگوں کے قول پر محمول کیا جائے گا جنہوں نے عمل چھپانے کو مطلقاً افضل بیان کیا ہے، البتہ عمل کے بےجا اظہار کا مرتبہ علماء اور عبادت گزاروں کے قدم پھسلانے والا ہے کیونکہ یہ حضرات اظہار میں قوی لوگوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل اخلاص میں پختہ نہیں ہوتے لہٰذا ریاکاری کی وجہ سے ان کے اَجر برباد ہو جاتے ہیں اور یہ بات ہرایک نہیں سمجھ پاتا۔
  اس میں حق کی علامت یہ ہے کہ جو شخص بذاتِ خود کوئی عمل بجا لائے یہ جانتے ہوئے کہ اگر اس کے ہم عصرلوگوں میں سے کوئی دوسرا شخص ایسا کرتا تو بھی اسے کوئی فرق نہ پڑتا تو وہ مخلص ہے اور اگر اپنے نفس کو ایسا نہیں سمجھتا تو ریاکار ہے کیونکہ اگر اسے مخلوق کی جانب توجہ کا خیال نہ ہوتا تو وہ خود کو غیر سے بے نیاز سمجھتے ہو ئے اپنے آپ کو تر جیح نہ دیتا لہٰذا بندے کو چاہے کہ نفس کے دھوکے سے ڈرے کیونکہ یہ بہت بڑا دھوکے باز ہے اورشیطان تو پہلے ہی گھات لگائے بیٹھاہے، چونکہ دل پر حُبِّ جاہ غالب ہوتی ہے لہٰذا ظاہری اعمال آفات وخطرات سے بہت کم سلامت رہتے ہیں جبکہ سلامتی تو اعمال کو پوشیدہ رکھنے میں ہی ہے، عمل سے فارغ ہونے کے بعد اس کے بارے میں گفتگو کرنا بھی عمل کا اظہار ہی ہے بلکہ یہ اس اعتبار سے زیادہ خطرناک ہے کہ بعض اوقات بندہ زبان سے زیادتی اور مبالغہ کر بیٹھتا ہے حالانکہ نفس کو تو دعوی کے اظہار ہی سے لذت حاصل ہوتی ہے، اور اس میں اس اعتبار سے خطرہ کم ہے کہ عمل سے فارغ ہونے کے بعدریا سے پچھلا خالص عمل برباد نہیں ہوتا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    یاد رکھئے! بعض لوگ ریا کے خوف سے عمل چھوڑ دیتے ہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں کیونکہ اعمال دو طرح کے ہوتے ہیں یا تو ان کا تعلق صرف عامل کی ذات سے ہوتا ہے کسی غیر سے نہیں ہوتا، بلکہ ان کی اپنی ذات میں بھی کوئی لذت نہیں ہوتی جیسے روزہ، نماز اور حج وغیرہ، اب اگر ایسے عمل کی ابتداء کا باعث صرف لوگوں کو دکھانا ہو تو یہ خالص گناہ ہے لہٰذا اسے چھوڑنا واجب ہے اوراسی کیفیت اور حالت پر رہتے ہوئے اس کے لئے کوئی رخصت نہیں اور اگر عمل کا باعث تو اللہ عزوجل کی قربت کی نیت ہو مگر عمل شروع کرتے وقت ریا عارض آگئی اور بندہ اس عارض کو دفع کرنے کے لئے کوشش کرنے لگا، یا اسی طرح اگر یہ نیت عمل کے دوران عارض ہو تو وہ اپنے نفس کو عمل پورا کرنے تک زبردستی اخلاص پر مائل کرے کیونکہ شیطا ن پہلے تمہیں عمل چھوڑنے کا کہتا ہے جب تم اس کی نافرمانی کرتے ہوا ور عزمِ مصمّم کے ساتھ عمل شروع کر دیتے ہو تو وہ تمہیں ریاکاری کی دعوت دیتا ہے جب تم اس سے منہ پھیرتے ہو اور عمل سے فا رغ ہونے تک اس سے جہاد کرتے ہو تو وہ تمہیں ندامت دلاتا ہے اور کہتاہے کہ تم ریاکار ہو اور جب تک تم آئندہ ایسا عمل چھوڑ نہ دو اللہ عزوجل تمہیں اس عمل سے کوئی نفع نہ دے گا اس طرح وہ تم سے اپنی غرض پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا شیطان سے ہوشیار رہو کیونکہ اس سے بڑا مکار کوئی نہیں ، اور اپنے دل میں اللہ عزوجل سے حیاء کو لازم کر لو کہ جب وہ کسی دینی سبب سے تم میں عمل کا جذبہ پیدا فرمائے تو اسے ہر گز نہ چھوڑو بلکہ اپنے نفس کو اس عمل میں اخلاص پر مائل کرو اوراپنے اور اپنے باپ حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے دشمن شیطان کی چالوں سے دھوکا نہ کھاؤ۔

  یا پھر اعمال کا تعلق مخلوق سے ہوتا ہے (نہ کہ عامل کی ذات سے )ان کی آفات اور خطرات زیادہ ہیں اور ان میں سے سب سے بڑا خطرہ خلافت میں ہے، پھر قضا میں، پھر وعظ و نصیحت اور تدریس وافتا ء میں اور پھر مال خرچ کرنے میں ، لہٰذا جسے نہ دنیا اپنی طرف مائل کرسکے نہ اس پر لالچ غالب آسکے اور نہ ہی اللہ عزوجل کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اسے روک سکے اور وہ دنیا اور دنیا والوں سب سے منہ پھیر لے اور پھر جب حرکت کرے تو حق کے لئے اورسکون اختیار کرے تو بھی حق کے لئے، تویہی وہ شخص ہے جو دنیوی اور اخروی ولایت کا مستحق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو اس کے لئے یہ دونوں ولایتیں سخت نقصان دہ ہیں، لہٰذا اسے چاہے کہ وہ ان سے باز رہے اور دھوکا نہ کھائے، کیونکہ اس کا نفس اسے ان معاملات میں عدل، حقوق پورے کرنے، ریا کے شائبوں اور لالچ سے محفوظ رہنے کا خیال دلاتا ہے حالانکہ نفس بہت بڑا جھوٹا ہے لہٰذا اسے چاہے کہ وہ اس سے بچتا رہے کیونکہ نفس کے نزدیک جاہ و حشمت سے زیادہ لذیذ شئے کوئی نہیں حالانکہ بعض اوقات جاہ و حشمت کی محبت ہی اسے ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  اسی لئے جب حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے نمازِ فجر سے فراغت کے بعد لوگوں کو نصیحت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع فرما دیا، تو اس نے عرض کی: ”کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے لوگوں کو وعظ کرنے سے روک رہے ہیں؟”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :”مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پھول کر آسمان تک نہ پہنچ جاؤ۔”
  لہٰذا انسا ن کو وعظ ونصیحت اور علم کے بارے میں وارد فضائل سے دھوکا نہیں کھانا چاہے کیونکہ ان کے خطرات سب سے زیادہ ہیں، ہم کسی کو یہ اعمال چھوڑنے کا نہیں کہہ رہے کیونکہ ان میں فی نفسہٖ کوئی آفت نہیں بلکہ آفت تووعظ ونصیحت، درس وافتاء اور روایتِ حدیث میں ریا کاری میں مبتلا ہو نے میں ہے، لہٰذا جب تک آدمی کے پیش نظر کوئی دینی منفعت ہوتو اسے ان اعمال کو ترک نہیں کرنا چاہے، اگرچہ اس میں ریاکاری کی ملاوٹ بھی ہو جائے بلکہ ہم تو اسے ان اعمال کے بجا لانے کے ساتھ ساتھ نفس سے جہاد کرنے، اخلاص اپنانے اور ریاکے خطرات بلکہ اس کے شائبہ تک سے بھی بچنے کا کہہ رہے ہیں۔