(۳۰) موت کو یاد کرنا

logomaqbooliya

 عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَکْثِرُوْا ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ۔رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجہ (1)
                   (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۴۰)
  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم لوگ لذتوں کو کاٹ دینے والی یعنی موت کو بکثرت یاد کرو۔ اس حدیث کو ترمذی و نسائی و ابن ما جہ نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۲
  عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ لِاَصْحَابِہٖ اِسْتَحْیُوْا مِنَ اللہِ حَقَّ الْحَیَاءِ قَالُوْا اِنَّا نَسْتَحْیِیْ مِنَ اللہِ یَا نَبِیَّ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ قَالَ لَیْسَ ذٰلِکَ وَلٰکِنْ مَنِ اسْتَحْیٰی مِنَ اللہِ حَقَّ الْحَیَاءِ فَلْیَحْفَظِ الرَّاسَ وَمَا وَعٰی وَلْیَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَاحَوٰی وَلْیَذْکُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلٰی وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ تَرَکَ زِیْنَۃَ الدُّنْیَا فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدِ اسْتَحْیٰی مِنَ اللہِ حَقَّ الْحَیَاءِ ۔ رواہ احمد والترمذی(2)
                    (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۴۰)
  حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک اللہ عزوجل کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ عزوجل سے حیاکروجیساکہ حیاکرنے کاحق ہے توصحابہ نے عرض کیاکہ بے شک ہم لوگ اللہ عزوجل سے حیا کرتے ہیں اے اللہ عزوجل کے نبی !صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ چیز نہیں ہے لیکن جو شخص اللہ سے ایسی حیا کرے جیسا کہ حق ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سر کی اور ان خیالات کی نگہبانی کرے جن کو سرنے یاد رکھا ہے اور چاہیے کہ پیٹ اور پیٹ نے جو غذا جمع کی ہے اس غذاکی نگہبانی رکھے اور موت اورگلنے سڑنے کو یاد کرے اور جو آخرت کاارادہ کرے وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ د ے تو جس نے یہ سب کام کرلیایقینا اس نے اللہ عزوجل سے ایسی حیا کی جیسا کہ حیا کا حق ہے۔اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۳
  عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَنْکَبَیَّ فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْعَا بِرُ سَبِیْلٍ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ اِذَا اَمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَاِذَا اَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِکَ لِمَرَضِکَ وَمِنْ حَیٰوتِکَ لِمَوْتِکَ۔رواہ البخاری(1) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۳۹)
  حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے  میرے دونوں کندھوں کو پکڑا پھر فرمایا تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم پردیسی ہوبلکہ گویا تم راستہ چلنے والے ہو۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرمایاکرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرواور تم جب صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو اور اپنی تندرستی سے اپنی بیماری کے لیے کچھ لے لواور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے کچھ لے لو۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیاہے۔
حدیث:۴
  عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَزْدَادَ خَیْرًا وَّاِمَّا مُسِیْئًا فَلَعَلَّہٗ اَنْ یَّسْتَعْتِبَ۔رواہ البخاری(1)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۳۹)
  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے  فرمایاہے کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یاتووہ نیکوکارہوگاتوشایدکہ کچھ اورزیادہ نیکی کرے اوریابدکارہوگاتوشایدکہ توبہ کرلے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۵
  عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تُوُفِّیَ رَجُلٌ بِالْمَدِیْنَۃِ مِمَّنْ وُلِدَ بِھَا فَصَلّٰی عَلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا لَیْتَہ، مَاتَ بِغَیْرِ مَوْلِدِہٖ قَالُوْا وَلِمَ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللہِ قَالَ اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا مَاتَ بِغَیْرِ مَوْلِدِہٖ قِیْسَ لَہٗ مِنْ مَوْلِدِہٖ اِلٰی مُنْقَطَعِ اَثَرِہٖ فِی الْجَنَّۃِ۔رواہ النسائی وا بن ماجہ(2)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۳۸)
  حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہاکہ مدینہ منورہ میں ایک شخص کاانتقال ہوگیاجومدینہ ہی میں پیداہواتھاتوحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی نمازجنازہ پڑھی، پھرارشاد فرمایاکہ کاش!یہ شخص اپنی جائے پیدائش کے غیر میں مرا ہوتا صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم یہ کس لیے؟ تو ارشاد فرمایا کہ جب آدمی اپنی جائے پیدائش کے غیر میں مرتاہے تو اس کی پیدائش کی جگہ سے اس کی وفات کی جگہ تک ناپ کر جنت میں جگہ دی جاتی ہے۔ اس حدیث کو نسائی و ابن ما جہ نے روایت کیا ہے۔

تشریحات و فوائد

(۱) موت کو یاد کرنا جنت کے اعمال میں سے یوں ہے کہ آدمی جب ہر وقت اس کو یادرکھے گاکہ مجھے ایک دن مرناہے اورسارامال و سامان اورجائیدادومکان چھوڑکرخالی ہاتھ دنیا سے چلے جانا ہے تو اس کو دنیا سے بے رغبتی اورآخرت کے سامان جمع کرنے کی فکرہوجائے گی اورظاہرہے کہ دنیاسے بے رغبتی اور آخرت کی فکریہ دونو ں چیزیں ہر قسم کی نیکیوں کا سر چشمہ ہیں اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا بہتر ین ذریعہ ہیں اس لیے موت کو بکثرت یاد کرنایہ جنت دلانے والے اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ اور جنت میں لے جانے والی ایک بڑی شاہراہ ہے۔