ثواب پانے والاخوش نصیب امام:

logomaqbooliya

(8)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے لوگوں کی امامت کرائی اور وقت کو پاکر نماز مکمل کر لی تو اسے اپنا اور مقتديوں کا بھی ثواب ملے گا اور جس نے نماز ميں کوئی کمی کی تواس کا گناہ اسی پر ہو گا نہ کہ مقتديوں پر۔”
(صحیح ابن حبان کتا ب الصلوۃ ، باب فرض متا بعۃ الامام ، الحدیث ۲۲۱۸،ج ۳، ص۳۱۹)
(9)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو کسی قوم کا امام بنے اسے چاہے کہ اللہ عزوجل سے ڈرے اور يہ ياد رکھے کہ وہ ضامن ہے اور اس سے اس کی ضمانت کے بارے ميں پوچھا جائے گا، لہٰذا جو اپنی ذمہ داری
(10)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلغِین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جو لوگ تمہيں نما زپڑھاتے ہيں اگر وہ درست نماز پڑھائیں تو تمہيں بھی ثواب ملے گا اور اگر وہ غلطی کريں تو تمہاری نماز ہو جائے گی اوراس کا وبال انہی پر ہو گا۔”
احسن طريقے سے نبھائے گا اسے اپنے پيچھے نماز پڑھنے والوں جتنا ثواب ملے گا اور ان مقتديوں کے ثواب ميں بھی کمی نہ ہو گی اور نماز ميں جو کوتاہی ہو گی اس کا وبال بھی اسی پر ہو گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( مجمع الزوائد ،کتاب الصلوۃ ، باب الامام ضامن ، الحدیث:۲۳۳۵ ، ج ۲ ، ص ۲۰۹)
( صحیح البخاری ،کتاب الاذان ، باب اذا لم یتم الا مام ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۶۹۴،ص۵۶)
(11)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” تین شخص مشک کے ٹيلوں پر ہوں گے (راوی فرماتے ہيں کہ) ميرا گمان ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا:”قيامت کے دن(۱)وہ غلام جس نے اللہ عزوجل اور اپنے دنيوی آقاؤں کا حق ادا کیا (۲)وہ شخص جو کسی قوم کا امام بنا اور اس کی قوم اس سے راضی ہو اور (۳)وہ شخص جو ہر دن اور رات ميں پانچ نمازوں کے لئے اذان کہے۔”
(سنن الترمذی ، ابواب صفۃ الجنۃ ، باب احادیث صفۃ الثلاثۃ الذین یحبھم اللہ ، الحدیث ۲۵۶۶ ، ص ۱۹۱۰،”بتقدمٍ وتأخرٍ”)
(12)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :” تین شخص ايسے ہوں گے جنہيں بڑی گھبراہٹ (يعنی قيامت) خوف زدہ نہ کرے گی اور نہ ہی ان سے حساب لیاجائے گا، وہ لوگ مخلوق کے حساب سے فارغ ہونے تک مشک کے ٹيلے پر ہوں گے: وہ شخص جس نے اللہ عزوجل کی رضا کے لئے قرآن پاک پڑھا اور اس کے ذريعے کسی قوم کی امامت کرائی اور وہ قوم بھی اس سے راضی ہو اور اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نماز کی طرف بلانے (یعنی اذان کہنے) والااوروہ غلام جو اپنے رب عزوجل اور اپنے (دنیاوی)آقاؤں کے حقوق احسن طریقے سے اداکرنے والا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب فضل الاذان ،الحد یث ۱۸۴۶،ج۲،ص۸۵)