(۵۶) توکل

logomaqbooliya

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِیْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ متفق علیہ (2)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۵۲)
  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت میں میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے ہیں اور بدشگونی نہیں لیتے ہیں اور اپنے پروردگارعزوجل ہی پر توکل کرتے ہیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔

تشریحات وفوائد

بیماریوں میں قرآنی آیتوں اوردعاؤں کے ذریعے گنڈہ تعویذکرناکرانااور جھاڑ پھونک کرانا اور دوا علاج کرانا جائز ہے لیکن متوکلین کی جماعت جو صرف اللہ عزوجل پرتوکل کرتے ہیں اورہرقسم کے تعویذگنڈوں اوردواؤں سے قطع تعلق رکھتے ہیں اس حدیث میں انہی بزرگوں کا تذکرہ ہے جو بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم