(۵۹) مفلسی اور فقیری

logomaqbooliya

حدیث:۱
  عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُمْتُ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ فَکَانَ عَامَّۃُ مَنْ دَخَلَھَا الْمَسَاکِیْنُ (1)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۴۶)
  حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو عام طور پر جنت میں داخل ہونے والے مسکین لوگ تھے۔
حدیث:۲
   عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الْاَغْنِیَاءِ بِخَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ نِصْفِ یَوْمٍ(2)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۴۷)
  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمنے فرمایا کہ فقیر لوگ مالداروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں داخل ہوں جائیں گے جو آخرت کا آدھا دن ہے۔

تشریحات وفوائد

  مؤمن کی مفلسی اور غریبی یہ خداوند قدوس کی طرف سے مؤمن بندوں کا امتحان ہے اگر مسلمان صبر کے ساتھ اس امتحان میں کامیاب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اُس مفلس و غریب مسلمان کومالداروں سے پانچ سوبرس پہلے ہی جنت میں داخل فرمادے گا۔ آخرت کاایک دن دنیاکے ہزاربرس کے برابرہوگااس لیے پانچ سوبرس میں آخرت کا آدھا دن ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم