احادیثِ مبارکہ میں رحمتِ خدا وندی عزوجل کا بیان

logomaqbooliya

(1)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل کی سورحمتیں ہیں ان میں سے ہر رحمت زمین وآسمان کے درمیان کی ہرچیز کو ڈھانپ سکتی ہے، اللہ عزوجل نے ان میں سے ایک رحمت نازل فرما کر جن وانس اورجانوروں میں تقسیم فرما دیا، اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرتے ہیں، اسی وجہ سے پرندے اوروحشی جانور اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اورباقی 99 رحمتوں کے ذریعے اللہ عزوجل قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔”
(صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ وانھاتغلب غضبہ، الحدیث: ۶۹۷۴،۶۹۷۷ص۱۱۵۵)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے میں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:”اے فرزندِ آدم! تو جب تک مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا میں تجھ سے سرزد ہونے والے گناہوں کو مٹاتا رہوں گا اورمجھے کوئی پرواہ نہیں، اے ابنِ آدم! اگرتیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تومیں تجھے بخش دوں، اے ابنِ آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے اور مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں تجھے زمین کے برابر مغفرت عطا فرماؤں گا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(جامع الترمذی، ابواب الدعوات،باب الحدیث القدسی، یاابن آدم، الحدیث:۳۵۴۰،ص۲۰۱۶)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جس پر نزع کا عالم طاری تھا، شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے دریافت فرمایا کیسا محسوس کر رہے ہو؟” اس نے عرض کی ”میں اللہ عزوجل سے امید رکھتا ہوں اور اپنے  گناہوں پر خوفزدہ ہوں۔” تو صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”ایسے وقت میں جب بندے کے دل میں یہ دو چیزیں جمع ہو جائیں تو اللہ عزوجل اس کی اُمید پوری فرمادیتا ہے اوراس کے خوف سے اسے امن عطا فرماتا ہے۔”
(جامع الترمذی، ابواب الجنائز، باب الرجاء باللہ والخوف۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۹۸۳،ص۱۷۴۵)
(4)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل سب سے پہلے مؤمنین سے کیا فرمائے گا اورمؤمنین اللہ عزوجل کی بارگا ہ میں کیا عرض کریں گے؟” ہم نے عرض کی ”یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !ہمیں ضروربتایئے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزوجل مؤمنین سے استفسار فرمائے گا :”کیا تم مجھ سے ملاقات کرنا پسند کرتے تھے؟” وہ عرض کریں گے جی ہاں! اے ہمارے رب عزوجل!” تو وہ دوبارہ ان سے دریافت کریگا ، کیوں؟” مؤمنین عرض کریں گے ”ہم تجھ سے عفواور مغفرت کی اُمید رکھتے تھے۔” تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا:”تو پھر تمہاری بخشش میرے ذمۂ کرم پر ہے ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(المسندللامام احمدبن حنبل،مسند الانصار،الحدیث:۲۲۱۳۳،ج۸،ص۲۴۹)