شیخ الاسلام علامہ سید محمدمدنی میاں بالائے سرش زہوشمندی

logomaqbooliya

ڈاکٹر فضل الرحمٰن شرر مصباحی دہلی

شیخ الاسلام علامہ سید محمدمدنی میاں

بالائے سرش زہوشمندی

جولائی ۲۰۱۰ کو تقریباً اڑتالیس برس کے بعد فون پرمیری گفتگو ایک ایسے المعی ولوذعی بزرگ سے ہوئی جو شیخ الاسلام ، مفسر قرآن اور رئیس المحققین جیسے القاب و خطابات سے یاد کیے جاتے ہیں،جن کو ہم دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور کے زمانہ طالب علمی میں’مدنی میاں‘ کہتے تھے۔ آج بھی میری زبان اسی مختصر سے نام سے شاد کام ہے اور میں اپنی یادوں کی پرتیں اسی نام سے کھولنا پسند کروںگا جن لوگوں نے شیخ الاسلام اور مفسرقرآن والا زمانہ پایاہے وہ مجھے یہ جان کر معذور سمجھیں کہ میں اس دور کی بات کر رہاہوں جب یہ خطابات ہنوزآں موصوف کی پیشانی علم و فضل کے نہاں خانے میں محفوظ تھے۔
خدا بھلا کرے محترم مولانا قمراحمداشرفی کا، ۴جولائی کو وہ دہلی میں موجود تھے ،فون پر گفتگو ہوئی اثناء گفتگو سیدالتفاسیر کاذکر آگیا، میں نے کہا اس کے دو حصوں کی زیارت عزیزگرامی مولانا خوشتر نورانی کے دفتر میں ہوئی ہے،حاصل کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ مولانا قمر نے کہا کہ آپ اپنا پوسٹل ایڈریس ایس ایم ایس کر دیجیے حیدرآبادپہنچ کر دونوں حصے بھیجوانے کی صورت نکالوں گا معاً انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ان دنوں اپنے وطن مالوف کچھوچھہ مقدسہ میں ہیں اگران سے رابطہ ہوجائے تو اس کی حصولیابی جلد سے جلد ممکن ہو جائے گی ، پھر انہوں نے کہا کہ آپ میرے فون کا انتظار کیجیے۔ تھوڑی دیر کے بعد مولانا نے کہا کہ شیخ الاسلام کا موبائل  نمبر ایس ایم ایس کررہاہوں آپ ان سے بات کر لیجیے وہ آپ کے فون کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں نے مرسلہ نمبر ڈائل کیا، گھنٹی ہوئی اور پھروہی آواز وہی طرز تخاطب وہی لہجہ جو میرے حافظہ میں محفوظ تھا، فردوس گوش بن گیا، مجھے بالکل ہوش نہیں رہا کہ میں ایسی شخصیت سے ہم کلام ہوں، جس کے آگے بالاؤں کی بالائی اور داراؤں کی دارائی سر بخم ہے، علما و مشائخ اور فضلائے وقت جس کے آگے زانوئے ادب تہ کرتے ہیں ،مگر میرے لیے زمانہ طالب علمی کی اس فضا سے باہر نکلنے کاکوئی جواز نہیں تھا جو میری علمی و ادبی زندگی سے عبارت تھی۔ میں نے واضح طورپر محسوس کیا کہ شیخ الاسلام نے بھی اپنے عہد رفتہ کو آواز دے لی تھی اب وہ عالم خیال میں ۶۵ سے زائد کے نہیں بلکہ ۲۲سے کم عمر کے تھے اب کیا کہوں میرا کیا حال تھا:
لب گزیدی و من از ذوق فتا دم مدہوش
باتو ایں کیفیت بادہ ندانم کہ چہ کرد
ورنہ حال دیگراں تو یہ ہے کہ جب منازل ترقی طے کر کے بام عروج پرپہنچ جاتے ہیں توزمین کی شئی مرئی بہت چھوٹی نظرآنے لگتی ہے۔ میرا برسوں کا ساتھ ایک ایسے قائد ملت سے رہا ہے جو پارلیمنٹ کے رکن کیا ہوئے، انہیں ہرکس وناکس بونا نظرآنے لگا، ایک دن انہیں کے حسب حال یہ دو شعر ارتجالاً کہہ کر میں ان کی میز پر رکھ آیا:
ہم بہت چھوٹے نظر آنے لگے
اتنا اونچا آپ کا سر ہوگیا
بڑھتے بڑھتے اک طلسم معصیت
قدآدم کے برابر ہوگیا
سنا تھا کہ مولانا نے ان اشعار کا مخاطب کسی اور کو سمجھ کر خوب داد دی تھی۔
ہاں تو میں نے مدنی میاں سے کہا کہ جامِ نور میں میری تحریریں چھپتی رہتی ہیں ، ممکن ہے کبھی کبھی آپ کی نظر سے۔۔۔ابھی جملہ پورا نہیں ہواتھا کہ ارشاد ہوا ’’ممکن نہیں واقع ہے اور کبھی کبھی نہیں یہی ایک رسالہ ہے جسے میں اول سے آخرتک پڑھتاہوں ‘‘۔پہلے جملے میں میرے لفظ’’ممکن‘‘ کو انہوں نے واقع سے بدل کر جو معنویت پیدا کردی اس کی بلاغت کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے ذہنوں میں ممکن ممتنع اور واجب کی اصطلاح محفوظ ہوگی،ممکن کے دونوں برابر کے پہلوؤں میں لفظ ’واقع‘ نے جو ایک طرف کا پلہ جھکا دیا ہے اور چار حرفی لفظ (واقع)نے شرر مصباحی کی جو حوصلہ افزائی فرمائی ہے اس کے لیے اس بندۂ آثم کے پاس تشکر کے الفاظ نہیں ہیں اوردوسرے جملے نے توماہنامہ جام نور کی مقبولیت اور معتبریت پر گویا مہرلگا دی ہے، شیخ الاسلام والمسلمین کے اس دوسرے جملے کو کل الصید فی جوف القراء کی روشنی میں ملاحظہ کیا جانا چاہیے۔
آگے ارشاد ہوا ’’ماشاء اللہ آپ نے بہت ترقی کی ہے‘‘۔ یہ جملہ سن کر میری آنکھ بھرآئی کاش اس کی جگہ حضرت نے دعائیہ جملہ استعمال کیا ہوتا جو میری ترقی کا ضامن ہوتا۔کہاں مدنی میاں، حضور محدث اعظم کی تربیت، حضور حافظ ملت کی خصوصی توجہ اور اپنی سعی مشکورسے شیخ الاسلام والمسلمین کے عرش پرمتمکن اورکہاں شررمصباحی، خاک افتادہ علائق دنیا میں گرفتار کبھی دم بھر جست لگانے کی جرات بھی کی تو نتیجہ معلوم:
دی سروبقد تو تحشم می کرد
تقلید قد تو پیش مردم می کرد
شد تند نسیم، لالہ سر جنبا نید
خندید گل ، غنچہ تبسم می کرد
سید التفاسیر کا ذکر آیا تو ارشاد ہوا’’ مبارک پور سے کوئی کچھوچھہ آئے تو ہاتھ کے ہاتھ لے جائے اور لکھنؤ سے حاصل کرنے میں سہولت ہوتو عربی میاں یہاں بھجوادوں‘‘۔ ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی ملی کہ سید التفاسیر کے تین حصے شائع ہو چکے ہیں۔
ہاں تو میں طالب علمی کے دور کی بات کر رہا تھا ، مدنی میاں ہم سے ایک جماعت اوپر کے طالب علم تھے ،ان کی جماعت کے دیگر ذہین طلبہ میں(مولانا) مشہود رضا خان ابن شیر بیشئہ اہل سنت اور (مولانا)محمد نعمان خاں وغیرہ تھے اور میں (مولانا )ثناء المصطفٰی امجدی ابن صدر الشریعہ اور (مولانا) عبد القدوس مصباحی وغیرہ کا ہم سبق تھا، مدنی میاں اپنی جماعت کے طلبہ میں کئی اعتبار سے منفرد تھے ، کم گو تھے ، کام سے کام رکھتے تھے ، طلبہ کی باہمی مناقشا ت سے دور رہتے تھے ، اپنے کمرے میں دیوار پر اپنے مشاغل کا نظام الاوقات چسپاں  کر رکھا تھا ، جس پر وہ سختی سے عامل تھے ، اس کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ دوسرے طلبہ ان اوقات میں تضیع اوقات نہیں کرتے تھے ، بلکہ گمان غالب ہے کہ اسی مصیبت سے چھٹکا را پانے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی گئی تھی ،مدرسہ کے اوقات درس سے فارغ ہوکر ہم بالعموم مولانا شمس الحق صاحب (استاذ فارسی)کی درسگاہ میں جمع ہوتے ، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی ، طبعی مناسبت کی وجہ سے میں انہیں حضرا ت کے ساتھ زیادہ وقت گذارتا۔ مشہود رضا خان اور نعمان خاں کے مزاج میںحدت تھی ،ایک دن نعمان خاں نے کہا کہ علامہ شبلی نعمانی کی تحریروں میں جو فصاحت ، سلاست اور روانی ہے وہ  اعلٰی حضرت کی تحریروں میں نہیں ہے، یہ سننا تھا کہ مشہود رضا خان آپے سے باہر ہوگئے ،آسمان سر پر اٹھا لیا ،بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا ، انہیں کے ساتھیوں میں صبیحہ ضلع بارہ بنکی کے قاری شبیر احمد تھے ،بالکل گائے تھے ، مدنی میاں وغیرہ جب مزاحیہ موڈمیں ہوتے تو یہی حضرت تختئہ مشق بنتے ، مگر کبھی خفگی کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر نہیں ہوتے۔
ایک دن نعمان خاں نے کہا ،علامہ اقبال سہیل کا کلام ہر اعتبار سے اصغر گونڈوی کے اشعار سے فصیح و بلیغ ہے ۔میں نعمان خاں کی بات سے متفق نہیں تھا ، بحث ہوتی رہی معاملہ علامہ نیاز فتحپوری کے کورٹ میں پہنچا، یہ خط میری تحریر میں نعمان خاں کا ڈکٹیٹ کرایا ہوا تھا ، ہفتہ عشرہ کے بعد نیاز صاحب نے اسی خط کو اس ریمارک کے ساتھ واپس کردیا کہ اقبال سہیل اصغر گونڈوی سے زیادہ پڑھے لکھے تھے لیکن اصغر گونڈوی کے کلام میں سہیل سے زیادہ تغزل پا یا جاتا ہے ، یہ خط میرے پا س محفوظ ہے ۔ نعمان خاںزمانئہ طالب علمی میں بڑے گرم جوش تھے ،اپنے گروپ کے لیڈر تھے ۔وقت گذرتا گیا ،ان میں تبدیلیاںآتی گئیں ، سیئات حسنات میں تبدیل ہوتے رہے اور آخر عمر میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ مرتبئہ ولایت پر فائز ہوگئے تھے ، رحمۃ اللہ علیہ ۔یہی حال میر ے ہم سبق (مولانا) ثناء المصطفی کا بھی تھا وقت کے ساتھ ساتھ نیک سے نیک تر ہوتے گئے۔تقوی شعار دنیا بیزار ، رحمۃ اللہ علیہ۔
ہمارے دور طالب علمی میں ہر جمعرات کو نماز عشاء کے بعد مشقی جلسہ ہوا کرتا تھا تا کہ طلبہ کی جھجھک دور ہو اور خطابت میں ملکہ پیدا ہو، یہ پروگرام اشرفیہ کے کسی نہ کسی استاد کی نگرانی میں ہوتا تھا ۔جہاں تک مجھے یاد ہے مدنی میاں نے کسی ایک پروگرام میں بھی حصہ نہیں لیا۔کبھی شرکت کی بھی تو شدت سعال وغیرہ کاعذر کرکے بیٹھ رہے،قاری محمد یحیٰ صاحب کو اس کی خبر ہوئی تو انہیں بڑا دکھ ہوا، حضور محدث اعظم سالانہ جلسہ میں تشریف لائے تو قاری صاحب نے ان سے عرض کیا کہ حضور ایک بات کہنا چاہتا ہوں اسے شکایت پہ محمول نہ فرمائیں ، محدث اعظم نے فرمایا کہیے ، شکایت بھی ہوگی تو سنی جائے گی، قاری صاحب نے عرض کیا کہ شہزادے مشقی جلسہ میں شرکت نہیں کرتے جس کا مجھے دکھ ہے ۔محدث اعظم نے فرمایا ’’میاں مچھلی کے بچے کو تیرنا نہیں سکھاتے ‘‘
آج جب میں اس جملے کو یاد کرتا ہوں تو محدث اعظم کا یہ قول پیش گوئی کی صورت میں نظر آتا ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ اشرفیہ سے فراغت کے بعد مدنی میاںنے اپنی خطابت کا لوہا بڑے بڑے سحبان وقت سے منوالیا ۔
مدنی میاں زمانئہ طالب علمی میں بھی شعر و سخن کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے تھے۔مبارک پور کے مشاعروں میں بالخصوص بکھری کی بزم مقاصدہ میں اکثر اپنا کلام پڑھواتے تھے ، یہ مقاصدہ طرحی ہوتا تھا، حضرت مولیٰ علی کے یوم پیدائش ۱۳رجب کے موقع پر یہ بزم حکیم عبد المجید کی نگرانی میں منعقد ہوتی تھی ، مدنی میاں کا کلام سید احمد حسین کوثر (برادر خورد اشرف العلماء ) اور میرا کلام سید رئیس احمد (جو ان دنوں رائے پور میں ہیں)یا نذیر احمدقوال مبارکپوری پڑھتے تھے ، احیاء العلوم مکتب فکر کےمولانا محمد عثمان ساحر مبار ک پوری کا کلام امتیاز احمد اعظمی (جو ساغر اعظمی کے نام سے شہرت کے حامل ہوے)پڑھتے تھے ، ایک سال کا مصرع طرح تھا:
دل مرا شمع رخ حیدر کا پروانہ بنا
اس بزم مقاصدہ کا سہرا مدنی میاں کے سر رہا، ان دنوں سب سے زیادہ توجہ تضمین پر دی جاتی تھی ، مجھے مدنی میاں کی تضمین یاد نہیں رہی ، اتنا  یاد ہے کہ موضع املو کے میر صاحب جو غالب کے نوحہ گر (مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں )کی طرح داد گر تھے ، وہ شعر سن کر ہاتھ اٹھااٹھا کر گلا پھاڑ کر داد دیتے ہوے اسٹیج کی طرف کھسکتے جاتے ،حاضرین ان سے اچھی طرح واقف تھے،ا ن کے لیے طوعاًیا کرہاً گنجائش پیدا کرتے جاتے اور تھوڑی دیر میں وہ اسٹیج کے قریب پہنچ جاتے ،اس دن بھی ایسا ہی ہوا ،مدنی میاں کاکلام پڑھا جا رہا تھا ،وہ املو سے آگئے ،ایک کنارے بیٹھے رہے اور اچک اچک کر داد دیتے دیتے ابھی کلام ختم نہیں ہوا تھا کہ آپ اسٹیج کے قریب پہونچ گئے۔
غالباً ۱۹۵۹ء کی بات ہے میرے خوش عقیدہ پڑوسی جناب محمد احمد صاحب کےایک رشتہ دارتا زہ تازہ دار العلوم دیو بند کی ہواکھا کر آئے تھے ،طبیعت باڑھ پرتھی ،یہ جہانا گنج کے رہنے والے تھے رسمی تعارف کے بعد انہوں نے علم غیب رسول کی بحث چھیڑ دی آیات و احادیث سے نفی علم غیب کے دلائل پیش کرنے لگے ، میں نے جواب دینا شروع کیا ،محمد احمد صاحب نے کہا کہ اس طرح کی بحث سے تلخی بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ،سوال جواب تحریری ہونا چاہیے ، صاحب خانہ کی اس با ت سے ہم دونوں نے اتفاق کیا ،میںنے کہا کہ میں چند سوالات حفظ الایمان کے تعلق سے مرتب کرتا ہوں ،آپ جواب لکھ کر محمد احمد صاحب کے یہاں بھجوادیں ،انہوں نے کہا کہ سوال کی ابتدا میری طرف سے ہوی ہے ، اس لیے سوالات میں مرتب کروں گا ۔میں نے کہا چلئے یوں ہی سہی ، پھر انہوں نے پانچ چھ سوالات کی فہرست مرتب کر کے مجھ سے کہا کہ اس کا جواب تحریر کرکے محمد احمد صاحب کودے دیجئے۔یہ مجھ تک پہنچادیں گے۔میں نے وہ رقعہ مدنی میاں کو دکھایا ،انہوں نے سوالات کے مدلل جوابات تحریر کیے ، میں نے محمد احمد صاحب کے ذریعے یہ تحریر جہانا گنج بھجوادی ، دس پندرہ دنوں کے بعد جواب آگیا ، میں نے وہ جواب مدنی میاں کی خدمت میںپیش کیا ،اب کے جواب الجواب کے ساتھ کچھ سوالا ت قائم کر کے حریف کو دفاعی پالے میں لا کھڑا کیا گیا پھر ادھر سے کوئی جواب نہیں آیا، مدنی میاںنے کہا کہ مناظرے میں دفاعی پوزیشن میں نہیں رہنا چاہیے ، اب جو انہیں اپنا دفاع کرنے پر مجبور کردیا گیا تو وہی ہوا جس کی امید تھی۔
انہیں دنوں فارسی کی درس گاہ میں ہم بیٹھے ہوے تھے کسی نے کہا کہ ملا حسن کو کتنی طرح سے پڑھا جا سکتاہے ، ایک نے کہا ملا حسن(مِلا حُسن) دوسرے نے کہا ہمزہ کا شمار اعداد میں نہیں ہوتا ، اس کو ملاء حسن بھی پڑھا جاسکتا ہے(ملئاِحُسن ) مدنی میاں نے اپنے ایک ساتھی کو مخاطب کر کے کہا ملاحسن(مَلاّح سُن)
مدنی میاں کا خط تحریر زمانہ طالب علمی میں بھی بڑا ستھرا تھا ، انار دانہ کی طرح ہرلفظ علاحدہ علاحدہ صاف صاف نظر آتا تھا۔ایک دن فارسی کی درسگاہ میں بیٹھے بیٹھے انہوں نے کئی طرح سے اپنا نام لکھا ، ان میں سے ایک دستخط ایسا تھا جس سے چڑیا کی مبہم شکل بن گئی تھی یہ ’’سید محمد مدنی اشرفی‘‘ سے بنی تھی ، چڑیا کے پر ،بازو، سر ،آنکھیں ، ٹانگیں غور کرنے پر سب کی جھلک محسوس ہوتی تھی ،میں نے کہا میرے نام کا بھی ایسا ہی خاکہ بنا دیجیے ، انہوں نے بادنی تامل اسی سے ملتا جلتا خاکہ بنا دیا ، جن لوگوں نے مدنی میاں کے دستخط دیکھے ہوں گے وہ آج بھی انکے دستخط میں ’’دَھڑ‘‘دیکھ سکتے ہیں ، سر آنکھیں اور ٹانگیں جو پہلے خاکے میں محسوس کی جاسکتی تھیں ، یہ سب کچھ بطور تفنن تھا،جو عادی دستخط میں باقی نہیں رہا۔
حضور محد ث اعظم ہند جب دار العلوم اشرفیہ کے سالانہ جلسے میں تشریف لاتے جو سالانہ امتحانات کے بعد ہوا کرتا تھا تو بالعموم خانوادے کے طلبہ کو بلا کر ان کا حال معلوم کرتے، ایک بار جلسہ کے موقع پر تشریف لائے، امتحان ختم ہو چکا تھا ،مدنی میاںسےپوچھا، امتحان کیسا رہا؟عرض کیا اچھا رہا ، ارشاد ہوا امتحان کس نے لیا ؟عرض کیا قاضی شمس الدین صاحب نے ، یہ سن کر محدث اعظم ایک دم سنجیدہ ہوگئے ، فرمایا میاں قاضی شمس الدین صاحب نے امتحان لیا اور آپ کہتے ہیں اچھا رہا؟ قاضی صاحب اگر اپنی سطح سے امتحان لینے پر آجائیں تو سید محمد کو فیل کردیں ۔اگر چہ یہ محدث اعظم کا قاضی صاحب کے لیے نثر میں قصیدہ تھا لیکن پھر بھی اس جملے کے ہربن مو سے قاضی صاحب کی عظمت علم کا اعتراف ٹپکتا ہے۔
ایک سالانہ جلسہ میں محدث اعظم تشریف لائے فارسی کی درسگاہ میں تشریف فرما تھے ،خدمت والا میں مدنی میاں ،احمد میاں ،سعید احمد، ملیح اشرف اور فہیم اشرف کے ساتھ میں بھی حاضر تھا ۔حضرت اقدس نے فرمایا ایک پہیلی بوجھو تو جانیں ’’وہ کون سا چار حرفی لفظ ہے کہ ایک حرف کم کرنے پر چار باقی رہے‘‘؟اپنے پلے تو پڑ انہیں ، مدنی میاں بھی غور و فکر کی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکے کہ احمد میاں نے کہا حضور یہ لفظ ’’چادر ‘‘ ہو سکتا ہے ، یہ جواب سن کر محدث اعظم کا چہرہ کھل اٹھا اور ڈھیر سی دعائیں دیں۔
یادش بخیر! آ ج لگ بھگ اڑتالیس بر س ہوگئے سوچتا ہوں مدنی میاں نے زمانئہ طالب علمی میں جس توجہ اور انہماک سے تحصیل علم کی اور بزرگوں کی دعائیں ان کے شامل حال رہیں اسی کا ثمرہ  ہےکہ آج وہ شیخ الاسلام و المسلمین کی حیثیت سے علمی دنیا میں پہچانے جاتے ہیں ، وہی علم و فضل کانور جو عہد طفلی سے جبین سعادت میں پنہاں تھا ،ظاہر ہوکر پوری دنیا کو اجالا بانٹ رہا ہے۔
می تافت ستارئہ بلندی