مکہ شریف میں صغیرہ گناہ بھی کبیرہ ہوتے ہیں:

logomaqbooliya

جو گناہ غير مکہ ميں صغيرہ ہوتے ہیں وہ مکہ شریف میں ان پر مرتب ہونے والی شديد سزا کی وجہ سے کبيرہ کہلائيں گے کیونکہ یہاں محل کا اعتبار ہے نہ کہ ذات کا، اس وقت کبيرہ گناہ فسق اور عدالت ميں نقص کا موجب بھی نہ ہوں گے کيونکہ اس سے عموميت کا قول ممکن نہيں ورنہ اہلِ حرم ميں سے کوئی بھی عادل نہ رہے گا،کیونکہ صغيرہ اور ناپسنديدہ حقير گناہوں سے بچنا بہت مشکل ہے اور اس بات پر جدیدوقدیم علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اجماع ہے کہ اہلِ حرم عادل ہيں باوجود اس کے کہ ان کے صغيرہ گناہوں کے ارتکاب کاسب کو علم ہے کيونکہ مکمل طور پر بچنا اور محفوظ رہنا مشکل ہے پس اس کو کبيرہ گناہ شمار کرنے کی تاويل متعين ہو گئی، کيونکہ جس نے اسے کبيرہ شمار کيا ممکن نہيں کہ اس کی مراد يہ ہو کہ حرم ميں کرنابھی کبيرہ گناہ ہے کيونکہ يہ فسق ہے اور غير حرم ميں بھی کبيرہ گناہ ہے، تواس صورت میں حرم کی کيا فضيلت رہی پس اس سے مراد يہ ہے کہ غير مکہ ميں صغيرہ گناہ مکہ ميں کبيرہ ہے اور يہ ظاہر اً محال ہے جيسا کہ آپ جان چکے ہيں پس تاويل متعين ہو گئی۔
سوال:اگر آپ يہ کہيں کہ يہ کيسے ہو سکتا ہے حالانکہ کبيرہ کی تعريف يہ ہے کہ وہ جس ميں شديد وعيد آئی ہو اور يہ توحرم ميں کئے جانے والے صغيرہ کو بھی شامل ہے؟


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

جواب: تو ميں کہوں گا کہ سزا کواس گناہ پر محمول کرنا بعيد نہيں جس کے ذاتی طور پر قبيح ہونے کی وجہ سے اس پر وعيد مرتب کی گئی نہ کہ اس کے محل کے شرف کی وجہ سے اور جو ہم نے مجبوراًیہ تاویل کی پس تاويل کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔