ملائکہ مہمان بن کر آئے

logomaqbooliya

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے۔ منقول ہے کہ جب تک آپ کے دستر خوان پر مہمان نہیں آجاتے تھے آپ کھانا نہیں تناول فرماتے تھے۔ ایک دن مہمانوں کا ایک ایسا قافلہ آپ کے گھر اُتر پڑا کہ ان مہمانوں سے آپ خوفزدہ ہو گئے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے جو دس یا بارہ فرشتوں کو ہمراہ لے کر تشریف لائے تھے اور سلام کر کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ سب فرشتے نہایت ہی خوبصورت انسانوں کی شکل میں تھے۔ اولاً تو یہ حضرات ایسے وقت تشریف لائے جو مہمانوں کے آنے کا وقت نہیں تھا۔ پھر یہ حضرات بغیر اجازت طلب کئے دندناتے ہوئے مکان کے اندر داخل ہو گئے پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حسب ِ عادت ان حضرات کی مہمان نوازی کے لئے ایک فربہ بھنا ہوا بچھڑا لائے تو ان حضرات نے کھانے سے انکار کردیا۔ ان مہمانوں کی مذکورہ بالا تین اداؤں کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کچھ خدشہ گزرا کہ شاید یہ لوگ دشمن ہیں کیونکہ اس زمانے کا یہی رواج تھا کہ دشمن جس گھر میں دشمنی کے لئے جاتا تھا اس گھر میں کچھ کھاتا پیتا نہیں تھا۔ چنانچہ آپ ان مہمانوں سے کچھ خوف محسوس فرمانے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ ہم سے بالکل کوئی خوف نہ کریں ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ہم دو کاموں کے لئے آئے ہیں پہلا مقصد تو یہ ہے کہ ہم آپ کو یہ بشارت سنانے آئے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک علم والا فرزند عطا فرمائے گا اور ہمارا دوسرا کام یہ ہے کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں۔
فرزند کی بشارت سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مقدس بیوی حضرت ”سارہ”چونک پڑیں کیونکہ ان کی عمر ننانوے برس کی ہوچکی تھی اور وہ کبھی حاملہ بھی نہیں ہوئی تھیں۔ تعجب سے وہ چلاتی ہوئی آئیں اور ہاتھ سے ماٹھا ٹھونک کر کہنے لگیں کہ کیا مجھ بڑھیا بانجھ کے بھی فرزند ہو گا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں آپ کے رب کا یہی فرمان ہے اور وہ پروردگار بڑی حکمتوں والا بہت علم والا ہے۔ چنانچہ حضرت اسحٰق علیہ السلام پیدا ہوئے۔
  (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۳۸ (ملخصاً) پ۲۶،الذاریات:۲۴ ۔ ۲۹ )
قرآن مجید نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ:
ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبْرٰہِیۡمَ الْمُکْرَمِیۡنَ ﴿ۘ24﴾اِذْ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوْمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿25﴾فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ26﴾فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمْ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫27﴾
فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفْ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ  بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿28﴾      فَاَقْبَلَتِ امْرَاتُہٗ  فِیۡ صَرَّۃٍ  فَصَکَّتْ وَجْہَہَا وَ قَالَتْ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿29﴾      قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ الْحَکِیۡمُ الْعَلِیۡمُ ﴿30﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی جب وہ اس کے پاس آ کر بولے سلام کہا سلام نا شناسا لوگ ہیں پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریئے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرما دیا ہے اور وہی حکیم دانا ہے۔      (پ26،الذاریات:24۔30)
درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے یہ ہدایت کی روشنی ملتی ہے کہ ملائکہ کبھی کبھی آدمی کی صورت میں لوگوں کے پاس آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حج کے موقع پر حرم کعبہ اور منیٰ و عرفات و مزدلفہ وغیرہ میں کچھ فرشتوں کی جماعت انسانوں کی شکل و صورت میں مختلف بھیس بنا کر آتی ہے جو حاجیوں کے امتحان کے لئے خدا کی طرف سے بھیجی جاتی ہے۔ اس لئے حجاج کرام کو لازم ہے کہ مکہ مکرمہ اور منٰی و عرفات و مزدلفہ اور طواف ِ کعبہ و زیارتِ مدینہ منورہ کے ہجوم میں ہوشیار رہیں کہ ہرگزہرگز کسی انسان کی بھی بے ادبی و دل آزاری نہ ہونے پائے اور تاجروں یا حمالوں یا فقیروں سے جھگڑا تکرار نہ ہونے پائے۔ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ آدمی ہے یا آدمی کی صورت میں کوئی فرشتہ ہے جو تمہیں دھکا دے کر یا ڈانٹ کر تمہارے حلم و صبر کا امتحان لے رہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس سے عام طور پر لوگ ناواقف ہیں اس لئے سفر حج میں قدم قدم پر لوگوں سے الجھتے اور جھگڑتے رہتے ہیں اور بعض اوقات دنیا و آخرت کا شدید نقصان و خسارہ اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا اس نقصانِ عظیم سے بچنے کی بہترین تدبیر یہی ہے کہ ہر شخص کے بارے میں یہی خطرہ محسوس کرتے رہیں کہ شاید یہ کوئی فرشتہ ہو جو تاجر یا سائل یا مزدور کے بھیس میں ہے اور پھر اس سے سنبھل کر بات چیت کریں اور حتی الامکان اس کو راضی رکھنے کی کوشش کریں اور ہرگز ہرگز کسی تلخ کلامی یا سخت گوئی کی نوبت نہ آنے دیں کہ اسی میں سلامتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔