حاملانِ عرش کی دعاء

logomaqbooliya

عرشِ الٰہی کے اٹھانے والے ملائکہ فرشتوں کے سب سے اعلیٰ طبقات میں ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کے بازوؤں پر چار پر ہیں اور دو پر ان کے چہروں کے اوپر ہیں۔ جن سے یہ اپنی آنکھوں کو چھپائے رکھتے ہیں اور خوفِ خداوندی کے باعث یہ فرشتے ساتویں آسمان کے فرشتوں سے زیادہ خدا کا خوف رکھتے ہیں اور ساتویں آسمان والے فرشتے چھٹے آسمان والے فرشتوں سے خوفِ الٰہی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح چھٹے آسمان والے پانچویں آسمان والوں سے اور پانچویں آسمان والے چوتھے آسمان والوں سے اور چوتھے آسمان والے تیسرے آسمان والوں سے اور تیسرے آسمان والے دوسرے آسمان والوں سے اور دوسرے آسمان والے پہلے آسمان والوں سے خوف و خشیت ربانی میں اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔ پھر عرشِ الٰہی کے گرد رہنے والے فرشتے جن کو ”کروبیین” کہتے ہیں یہ باقی فرشتوں کے سردار ہیں اور بہت ہی وجاہت والے ہیں۔
منقول ہے کہ عرش کے گرد ملائکہ کی ستر ہزار صفیں ہیں۔ اس طرح کہ ایک صف ایک صف کے پیچھے ہے۔ یہ سب عرش کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ پھر ان سبھوں کے بعد ستر ہزار ملائکہ کی صف ہے اور وہ اپنے ہاتھ اپنے کاندھوں پر رکھتے ہوئے خدا کی تسبیح و تکبیر پڑھتے رہتے ہیں۔ پھر ان کے بعد اور ایک سو صفیں فرشتوں کی ہیں جو اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تسبیح و تکبیر اور دعا میں مشغول ہیں ۔  (تفسیر صاوی، ج۵، ص۱۸۱۵، پ۲۴، المومن:۷)
اور سب فرشتوں کی دعا کیا ہے۔ اس کو قرآنِ مجید کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔ ارشادِ ربانی ہے کہ:
اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیۡمِ ﴿7﴾رَبَّنَا وَ اَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ ۣالَّتِیۡ وَ عَدۡتَّہُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ اَزْوَاجِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِہِمْ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ۙ﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔وہ جو عرش اُٹھاتے ہیں اور جو اس کے گرد ہیں اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور اس پر ایمان لاتے اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے اے ہمارے رب اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بی بیوں اور اولاد میں بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے۔(پ24،المومن:7۔8)
درسِ ہدایت:۔آپ نے عرشِ الٰہی کے اٹھانے والے اور عرش کا طواف کرنے والے فرشتوں کی دعا ملاحظہ کرلی کہ وہ سب مقدس فرشتے ہم مسلمانوں اور ہمارے والدین اور بیویوں اور ہماری اولاد کے لئے جہنم سے نجات پانے اور جنت عدن میں داخل ہونے کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ اللہ اکبر!کتنا بڑا احسانِ عظیم ہے ہم مسلمانوں پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ آپ ہی کے طفیل میں ہم مسلمانوں کو یہ رتبہ بلند اور درجہ عالیہ حاصل ہوا ہے کہ بے شمار طبقہ اعلیٰ کے فرشتے ہم گناہ گار مسلمانوں کے لئے دعائیں مانگتے رہتے ہیں وہ بھی کون سے فرشتے؟ عرشِ الٰہی کے اٹھانے والے فرشتے اور عرشِ الٰہی کا طواف کرنے والے فرشتے سبحان اللہ!کہاں ہم اور کہاں ملاءِ اعلیٰ کے ملائکہ،مگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کا طفیل ہے کہ اس نے ہم قطروں کو سمندر ناپیدا کنار اور ہم ذروں کو آفتاب عالمتاب بنا دیا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! ایک بار بصد اخلاص نبی مکرم رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھئے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ