پہلے اسے پڑھ لیجئے

logomaqbooliya

تمام تعریفیں اس مختارِ حقیقی اللہ جل مجدہ کے لئے ہیں جس نے اپنے مَحْبُوبِ مُکَرَّم، نَبِی مُعَظَّم،رَسولِ مُحْتَشَمْ حضرت محمدِ مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری وباطنی ہردوطرح سے فیصلہ فرمانے کی خصوصیت سے نوازاہے ۔
  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزوجل ! اہلسنّت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے محبوب ِمکرّم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوبے شماراختیارات ،خصائص اورفضائل وکمالات عطا فرمائے،یہودیوں کا ساعقیدہ نہیں جوکہتے تھے:
یَدُ اللہِ مَغْلُوۡلَۃٌ ؕ ترجمہ کنزالایمان:اللہ کا ہاتھ بندھا ہواہے۔(پ6،المائدہ:64)
یعنی معاذ اللہ وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے ۔
(خزائن العرفان،سورۃ المائدہ،تحت الآ یۃ ۶۴ )
بلکہ ہمارا عقیدہ تویہ ہے:
(1)بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوۡطَتٰنِ ۙ ترجمہ کنزالایمان:بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں۔(پ6،المائدہ:64)
(2) کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَمَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحْظُوۡرًا
ترجمہ کنزالایمان:ہم سب کو مدددیتے ہیں اُن کوبھی اور ان کو بھی تمھارے رب کی عطا سے اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں۔ ﴿20﴾ (پ15،بنی اسرائیل: 20)
  اپنے پیارے حبیب ،حبیب ِلبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوکتناعطافرمایااس کی کوئی حدنہیں۔ چنانچہ،
اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے:
اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿1﴾
ترجمہ کنزالایمان:اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمارخوبیاں عطا فرمائیں۔(پ30،الکوثر: 1)
  مفسرشہیرصدرالافاضل حضرت علامہ مولاناسید نعیم الدین مرادآبادی علیہ رحمۃاللہ الھادی اس آیت مبارکہ کی تفسیرمیں ارشادفرماتے ہیں:یعنی فضا ئل کثیرہ عنایت کر کے تمام خلق پر افضل کیا ،حسن ظاہر بھی دیا اور حسن باطن بھی ،نسبِ عالی بھی،نبوت بھی،کتاب بھی ،حکمت بھی ،علم بھی ،شفاعت بھی،حوض کو ثر بھی،مقامِ محمود بھی ،کثرتِ اُمت بھی ،اعدائے دین پر غلبہ بھی ،کثرت فتوح بھی ،اور بے شمار نعمتیں اور فضیلتیں جن کی نہایت نہیں ۔ (خزائن العرفان ،سورۃ الکوثر،تحت الآیۃ ۱)
  اسی طرح اللہ عزوجل نے حضورنبی اکرم ،نورِمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوشریعت کے احکام میں بھی اختیارعطافرمایاہے۔چنانچہ،
  سیدی اعلیٰ حضرت،عظیم المرتبت،مجددِدین وملت،پروانہ شمع رسالت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:”اَئمہ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ احکامِ شریعت حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سپردہیں، جوبات چاہیں واجب کردیں جوچاہیں ناجائزکردیں،جس چیزیاجس شخص کوجس حکم سے چاہیں مستثنیٰ فرمادیں۔” (فتاوی رضویہ،ج۳۰،ص۵۱۸)
  اسی بات کوباالفاظ دیگرامام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے ”الخصائص الکبری،ج۲،ص۴۵۹”پراورامام احمدبن محمدقسطلانی علیہ رحمۃاللہ الوالی  نے ”المواہب اللدنیہ،ج۲،ص۳۰۹”پرنقل فرمایاہے۔
  حضورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شریعت میں اختیارات کی جھلک دیکھئے کہ (۱)حضرت سیدناابوبردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے بکری کے چھ ماہ کے بچہ کی قربانی جائزفرمادی(صحیح البخاری،ص۴۷۸)،(۲)ایک بارحضرت سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھی اس کی اجازت عطافرمادی (صحیح البخاری،ص۴۷۷) ، (۳) ایک شخص کومہرکی جگہ صرف قرآن سکھاناکافی قراردے دی(سنن ابی داؤد،ص۱۳۷۸) (۴) حضرت سیدنا خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی دو مردوں کے قائم مقام کردی (صحیح البخاری،ص۴۰۵)، (۵)ایک شخص کے لئے روزے کاکفارہ خودہی کھا لینا جائز فرما دیا(صحیح البخاری،ص۱۵۱)،(۶)حضرت سیدتنااَسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنھا کو عدتِ وفات کا سوگ معاف فرمادیا(المواہب اللدنیہ،ج۲،ص۳۱۰)
   زیرِنظرکتاب
”اَلْبَاھِرُفِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِر” سیدناامام جلال الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی تصنیف ہے جس میں آپ رحمۃاللہ علیہ نے سرکارِ نامدار،دوعالَم کے مالک ومختارباذن پَروَردْگارعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری اورباطنی فیصلوں میں بااختیارہونے کوبیان کیاہے اور آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ مبارکہ،فرامینِ صحابہ کرام علیہم الرضوان اوراقوالِ علما رحمہم اللہ تعالیٰ کی روشنی میں ثابت کیاکہ اللہ عزوجل نے سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوعلومِ ظاہریہ وباطنیہ عطا فرمائے ہیں۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار ہے کہ معاملات کا فیصلہ ظاہری  شواہدکے مطابق فرمائیں یااصل حقائق کی بنا پر۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے بہت سارے معاملات کے فیصلے اصل حقائق کے مطابق فرمائے حالانکہ ظاہری شواہداس کے برعکس تھے جس طرح حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کاباطنی علم کی بناپربچے کوقتل کرنے کا فیصلہ کرنا اس کے حقیقت پر آگاہی کے سبب تھاجبکہ حضرت سیدناموسیٰ کلیم اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ظاہرِ شریعت پر عمل پیرا تھے اس لئے انہوں نے حضرت سیدنا خضر علیہ السلام کے فیصلوں پر اعتراض کیا اورہمارے آقا ومولیٰ حضرت سیدنا محمدِمصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کواللہ عزوجل نے دونوں علوم عطافرمائے یعنی خواہ ظاہر کے مطابق فیصلہ فرمائیں یاباطن کے مطابق۔
  یقینایہ کتاب بڑی اَہمیَّت کی حامل ہے ،اس کتاب کی افادیت کے پیش نظرتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیرتحریک” دعوتِ اسلامی” کی مجلس المدینۃالعلمیۃکے شعبہ تراجِمِ کتب کی طرف سے اس کتاب کااُردو ترجمہ بنام”مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے ” پیش کیاجارہاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اِسلامی بھائی اس سے مستفید ہوسکیں۔
  ترجمہ کرتے ہوئے درج ذیل اُمورکاخیال رکھاگیاہے:
٭۔۔۔۔۔۔ترجمہ میں حتَّی الامکان آسان اور عام فہم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔احادیث کی تخریج اصل ماخذسے کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورباقی حوالہ جات میں جوکتب دستیاب ہوسکیں ان سے تخریج کی گئی ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔آیات کاترجمہ اِمام اہلِ سنت، مجدِددین وملت الشاہ اِمام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے شہرہ آفاق ترجمہ قرآن”کنزالایمان”سے لیا گیاہے۔
٭۔۔۔۔۔۔ مشکل الفاظ کے معانی ومطالب بریکٹ میں لکھ دئیے گئے ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔کئی الفاظ پراعراب لگا دئیے گئے ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔ اکثر مقامات پرتراجِم اَعلام (یعنی کتاب میں آنے والے ائمہ کرام وبزرگان دین کے نا م مع ولدیت،کنیت، لقب، تصانیف ، سنِ وفات اور دیگراوصاف بیان کرنے کا اہتمام کیاہے تاکہ قاری فروغِ علمِ دین میں ان کی جدّ وجہد سے واقف ہوجا ئے اور مصنف و مؤلف کی ذات وصفات اور علمی مقام ومرتبہ واضح ہوجائے ) اورتراجِم کتب (یعنی کتاب کاپورانام ،مصنف ومؤلف اور محشّی کا نا م مع ولدیت، کنیت ، لقب ، تاریخِ وفات ذکر کئے ہیں تاکہ اس کتاب کی مکمل معرفت حاصل ہوجائے۔ ) بیان کرنے کا اہتمام کیاگیاہے۔
٭۔۔۔۔۔۔ مصنف کی طرف سے بیان کردہ تفصیل کو من و عن درج کردیاگیاہے۔
  الغرض!یہ کتاب آپ تک پہنچانے کے لئے ” دعوتِ اسلامی” کے مدنی اسلامی بھائیوں نے مسلسل کوشش کی ہے۔اگر اس ترجمہ میں کوئی خوبیاں ہیں تو اللہ عزوجل کی عطا،میٹھے میٹھے مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی عنایتوں اورعلماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ بالخصوص شیخ طریقت اَمیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانامحمدالیاس عطارقادری مدظلہ العالی کی برکتوں کا نتیجہ ہے اوراگر اس میں کوئی خامی ہو تو ہماری نادانستہ کوتاہی کی وجہ سے ہے۔
  اس کتاب کامطالعہ کر نے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے گزارش ہے کہ اسے نہ صرف خود پڑھیں بلکہ دوسروں کوبھی اس کے پڑھنے کا ذہن دے کرنیکی کی دعوت عام کرنے کا ثواب کمائیں اِنْ شَاءَ اللہ عزوجل!اس کی برکت سے آپ کودین ودنیاکی نعمتیں حاصل ہوں گی ۔اللہ عزوجل سے دعاہے کہ ہمیں”اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش” کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پرعمل اور مدنی قافلوں میں سفرکرنے کی توفیق عطا فرمائے اوردعوت اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃکودن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
شعبہ تراجِم کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ)