ذَوقِ نَعت ۱۳۲۶ھ برادرِ اعلیٰ حضرت شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی کب گوارا ہوئی اللّٰہ کو رِقت ان کی ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہ گاروں کے ٹوٹے دِل کا جو سہارا نہ ہو رحمت ان کی دیکھ آنکھیں نہ دکھا… Read More

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے چکوروں سے کہو ماہِ دِل آرا ہے چمکنے کو خبر ذَرَّوں کو دو مہر منور آنے والا ہے فقیروں سے… Read More

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے اُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالم گزارا سب کا ہوتا ہے اِسی محتاج خانے سے شب ِاَسرا کے… Read More

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ کہ سب جنتیں ہیں نثارِ مدینہ مبارک رہے عندلیبو تمہیں گل ہمیں گل سے بہتر ہیں خارِ مدینہ بنا شہ نشیں خسروِ دو جہاں کا بیاں کیا ہو عز و وَقارِ مدینہ مری خاک… Read More

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دَھرا ہو کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو جو بھیک لئے راہِ گدا دیکھ رہا ہو گر وقتِ اَجل سر تری چوکھٹ پہ… Read More

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو اللّٰہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو وہ دو کہ ہمیشہ میرے گھر بھر کا بھلا ہو جس… Read More

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو سایہ بھی تو اِک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو اللّٰہ کا… Read More

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو آستانہ پہ تِرے سر ہو اَجل آئی ہو اور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو خاکِ پامال غریبوں کو نہ کیوں زندہ کرے… Read More

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں میں تصدق میں فدا اچھے میاں اب کمی کیا ہے خدا دے بندہ لے میں گدا تم بادشاہ اچھے میاں دین و دنیا میں بہت اچھا رہا جو تمہارا ہوگیا اچھے میاں اس برے… Read More

عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں

عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں کہ نااُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں جما کے دِل میں صفیں حسرت و تمنا کی نگاہِ لطف کا ہم اِنتظار کرتے ہیں مجھے فَسُردَگیٔ بخت کا اَلم کیا ہو وہ ایک دم میں… Read More